فتوحات مصر میں جنگی فنون
علی محمد الصلابیجب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر فتح کیا تو دوران جنگ مختلف جنگی فنون استعمال کیے، ان میں سے چند ایک کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔
1 نفسیاتی جنگ
قلعہ بابلیون کے محاصرہ کے وقت مقوقس نے عورتوں کو بابلیون کی فصیلوں کی حفاظت پر اس طرح لگایا تھا کہ ان کے چہرے شہر اور پیٹھیں مسلمانوں کی طرف تھیں اور مردوں کو مسلح کر کے ان کا رخ مسلمانوں کی طرف کیا تھا۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ تھا کہ فوج کی کثرت اور فصیلوں کی حفاظت دیکھ کر مسلمان خوفزدہ ہو جائیں۔ لیکن حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس یہ کہہ کر قاصد بھیجا کہ تم نے جو کچھ (حفاظتی تدبیر) کیا ہے ہمیں معلوم ہے، ہم اپنی کثرت کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب نہیں ہوتے۔ ہم تمہارے بادشاہ سے اس سے پہلے پنجہ آزمائی کر چکے ہیں اور تمہیں اس کا انجام معلوم ہے۔
مقوقس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ لوگ بالکل سچ کہہ رہے ہیں، ہمارے بادشاہ کو اسی کے زیر اقتدار شہر سے نکال کر قسطنطنیہ بھگا دیا۔ لہٰذا ہمیں تو بدرجہ اولیٰ ان کی اطاعت قبول کر لینی چاہیے۔
(الحرب النفسیۃ: دیکھیے أحمد نوفل: صفحہ 174)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پیغام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ان فوجی سپہ سالاروں میں سے ایک تھے جو اپنے دشمن کو دہشت زدہ کرنے اور اس کی جنگی روح کو سرد کرنے کے لیے نفسیاتی جنگ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے تھے اور صرف ایک مقصد کی کامیابی کے لیے جنگ میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات پر، اس کے بعد عقل اور تلوار پر اعتماد کرتے تھے، وہ بنیادی مقصد یہی ہوتا تھا کہ جنگ کے اختتام پر فتح و نصرت ہمارے حصہ میں آئے۔
(الحرب النفسیۃ: دیکھیے أحمد نوفل: صفحہ 174)
2 کمین گاہوں سے اچانک حملہ کرنا
معرکہ عین شمس میں حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کمین گاہوں سے اچانک حملہ کرنے کا اسلوب اپنایا، آپؓ نے ان کمین گاہوں کو مضبوط انداز میں تیار کیا تھا تاکہ مکمل کامیابی کا راستہ ہموار ہو سکے، چنانچہ کمین گاہوں میں چھپنے والی فوج کو رات میں اپنی اپنی مخصوص جگہ پر چلے جانے کا حکم دیا، گھات لگانے کے لیے نہایت موزوں مقامات کو منتخب کیا تھا اور وہاں سے نکلنے کا ایسا موقع متعین کیا تھا کہ جب دشمن اپنے محاذ پر مقابلہ کرنے میں الجھا ہوا ہوگا۔ پس ایسا ہی ہوا اور فوج نے کمین گاہوں سے نکل کر دشمن کے میمنہ و میسرہ پر اچانک دھاوا بول دیا، اس طرح مناسب وقت کا انتخاب اور دشمن سے ٹکراؤ بالکل صحیح نشانے پر لگا۔ چنانچہ کمین گاہوں سے حملہ آور ہونے کی یہ جنگی ترکیب کامیابی اور حفاظت کے اعتبار سے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی کامیاب ترین کارروائیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
(الفن العکسری الإسلامی: صفحہ 320)
3 محاصرہ کے دوران اچانک حملہ کرنا
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے قلعہ بابلیون کے محاصرہ کے دوران اچانک حملہ کرنے کا اسلوب نہایت ہوشیاری سے اپنایا۔ چنانچہ جس وقت رومی فوج بابلیون کے مضبوط قلعہ میں مسلمانوں سے بے خوف ہو کر اس لیے مطمئن بیٹھے تھے کہ قلعوں و فصیلوں کی مضبوطی، سامان رسد اور ذخائر اسلحہ کی کثرت، قلعہ کے دروازوں پر کانٹے دار تاروں کی باڑ، فصیل سے متصل گہری خندق جس کا پانی دریائے نیل کے اترنے کی وجہ سے خشک ہو چکا تھا۔ یہ ساری چیزیں مسلمانوں کو آگے نہ بڑھنے دیں گی، لیکن اچانک رات کی سخت تاریکی میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ چند جنگجوؤں کو فصیلوں سے تکبیر کا نعرہ لگاتے دیکھ کر وہ سکتے میں پڑ گئے، اچانک تلواروں کی کاٹ نے انہیں بدحواس کر دیا۔ قلعہ میں بیٹھے محافظ فوجی شکست کا نظارہ دیکھ کر صلح و امان کے طالب ہوئے اور مسلمان فاتح بن کر قلعہ میں شان سے داخل ہوگئے۔
(الفن العکسری الإسلامی: صفحہ 320)
4 محاصرہ کو صبر و استقامت کے ساتھ طول دینا
سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ’’کریون‘‘ اور ’’اسکندریہ‘‘ کے محاصرہ کو صبر و استقامت کے ساتھ طول اور ہجومی کارروائی مؤخر کرنے میں مصلحت دیکھی۔ چنانچہ جب سیدنا عمروؓ کو یقین ہوگیا کہ کریون کے محفوظ و مضبوط قلعوں میں بند رومی سپاہیوں پر غلبہ پانا مشکل ہے تو ایک مرتبہ قلعہ پر حملہ کی ناکام کوشش کے بعد وقت کی کوئی تحدید کیے بغیر تھکاوٹ و مشقت رصد کے خاتمے اور سپاہیوں کی بے صبری سے بے فکر ہو کر مکمل صبر و ثبات کے ساتھ محاصرہ جاری رکھا، برابر جھڑپیں کرتے رہے۔ کریون کا محاصرہ کیے ہوئے جب دس دن سے کچھ زیادہ ہوگئے تو رومیوں نے یقین کر لیا کہ مسلمان اس محاصرہ میں مسلسل جھڑپیں کرنے اور جنگ لڑنے کا عزم کر چکے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے مسلمانوں کی اطاعت اور قلعہ ان کے حوالے کر دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ بالکل یہی کیفیت اسکندریہ کے محاصرہ کے وقت بھی تھی۔ فرق اتنا تھا کہ اسکندریہ کے محاصرہ کی مدت زیادہ یعنی تین مہینے تھی اور اس محاصرہ کے طول پکڑنے کی وجہ یہ تھی کہ رومی فوج اچھی طرح محسوس کر رہی تھی کہ ہمارے لشکر اور سلطنت کی حفاظت و بقا کے لیے یہ آخری موقع بچا ہے اگر اسکندریہ کا سقوط ہوگیا تو مصر اور پورے افریقہ کا سقوط ہو جائے گا۔
(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 320)