Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فتح کی بشارت

  علی محمد الصلابی

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس فتح اسکندریہ کی خوشخبری دینے کے لیے بھیجا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے چلتے چلتے کہا: آپؓ میرے ساتھ خط کیوں نہیں لکھ دیتے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: خط کی کیا ضرورت ہے، کیا تم عربی نہیں ہو کہ جو کچھ تم نے دیکھا اور تم حاضر تھے اسے بتا سکو؟

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 320)

چنانچہ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فتح اسکندریہ کی خوشخبری سنائی۔ سیدنا عمرؓ سجدہ میں گر گئے اور کہا: الحمد للہ۔

آیے اس واقعہ کی تفصیل ہم خود معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کی زبانی سنیں: ان کا بیان ہے کہ جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو میں مسجد پہنچا، میں وہاں بیٹھا ہی تھا کہ سیدنا عمر بن خطابؓ کے گھر سے ایک لونڈی نکلی، اس نے دیکھا کہ طویل سفر کی وجہ سے میرے کپڑوں کا رنگ بدلا ہوا ہے، وہ میرے پاس آئی اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا: معاویہ بن خدیج، عمرو بن عاص کا قاصد۔ وہ پھر گھر میں واپس چلی گئی۔ پھر تیزی سے چلتی ہوئی باہر نکلی، میں اس کی پنڈلیوں سے رگڑ کی آواز سن رہا تھا۔ وہ میرے قریب آئی اور کہا: اٹھو، چلو تمہیں امیرالمؤمنینؓ بلا رہے ہیں، میں اس کے پیچھے پیچھے چلا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ایک ہاتھ سے اپنی چادر لے رہے ہیں اور دوسرے سے ازار باندھ رہے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے پوچھا: کیا خبر ہے؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنینؓ! اچھی خبر ہے۔ اللہ نے اسکندریہ پر فتح عطا کی ہے۔ سیدنا عمرؓ مجھے لے کر مسجد پہنچے اور مؤذن سے کہا: لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ’’الصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ‘‘ کی ندا لگاؤ۔ پھر لوگ اکٹھے ہوئے، سیدنا عمرؓ نے مجھ سے کہا: اٹھو اور لوگوں کو خبر دو، میں کھڑا ہوا، لوگوں کو فتح کی خوشخبری دی، پھر سیدنا عمرؓ نے نماز پڑھی اور اپنے گھر میں داخل ہوئے، قبلہ رخ ہو کر کچھ دیر دعائیں کیں۔ پھر اطمینان سے بیٹھے اور کہا: اے لونڈی کیا کھانے کے لیے کچھ ہے؟ وہ روٹی اور روغن لائی۔ سیدنا عمرؓ نے مجھ سے کہا: کھاؤ، میں نے شرما شرما کر کھایا۔ سیدنا عمرؓ نے پھر کہا: کھاؤ، کھاؤ، مسافر کو کھانا محبوب ہوتا ہے، اگر میں کھانے کی ضرورت محسوس کرتا تو تمہارے ساتھ کھاتا۔ یہ سن کر میں نے شرم سے سر جھکا لیا۔ پھر سیدنا عمرؓ نے پوچھا: اے معاویہ! جب تم مسجد پہنچے تھے تو کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے کہا تھا کہ شاید امیرالمؤمنینؓ قیلولہ کر رہے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا تم نے کتنی غلط بات کہی یا غلط گمان کیا۔ اگر میں دن میں سویا تو اپنی رعایا کو ضائع کیا اور اگر رات میں سویا تو اپنی ذات کو ضائع کیا۔ اے معاویہ! ان دونوں باتوں کے ہوتے ہوئے نیند کہاں آسکتی ہے؟

(فتح مصر والمغرب: صفحہ 105، فتح مصربین الرؤیۃ الإسلامیۃ والرؤیۃ النصرانیۃ: دیکھیے إبراہیم متناوی: صفحہ 114)

اس واقعہ سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شروع اسلام میں مسجدیں اہم ترین وسائل اعلام و ذرائع ابلاغ کا کردار ادا کرتی تھیں، لوگ ’’اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ‘‘ کی پکار پر لبیک کہتے تھے، اس کلمہ کے اعلان کا مطلب ہی یہ ہوتا تھا کہ کوئی اہم واقعہ پیش آیا ہے جس کی اطلاع دینی تمام مسلمانوں کو ضروری ہے، چنانچہ اس اعلان کے مطابق لوگ مسجد میں جمع ہوتے اور ان کے سامنے عسکری سیاسی اور سماجی غرض کہ ہر قسم کے بیانات رکھے جاتے۔

اس طرح یہ واقعہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کی ایک خاص صفت بتاتا ہے۔ آپ خلیفۃ المسلمین کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں: اگر میں دن میں سویا تو اپنی رعایا کو ضائع کر دیا اور اگر رات کو سویا تو اپنی ذات کو ضائع کر دیا۔ اے معاویہ! ان دونوں باتوں کے ہوتے ہوئے مجھے نیند کیسے آسکتی ہے؟

واقعتاً سیدنا عمرؓ کی یہ بات آپ کی اپنی ذات اور دوسروں کے حقوق کی مکمل رعایت نیز ہمہ وقت ان کے لیے بیدار رہنے کی ترجمانی کرتی ہے اور جب مسلمان ان تمام حقوق کی مکمل رعایت کرتا ہے تو وہی اللہ کے نزدیک پرہیزگاروں اور احسان کرنے والوں میں سے ہو جاتا ہے۔

(التاریخ الإسلامی: الحمید: جلد 11 صفحہ

348، 349)