Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کرسمس ڈے اور کرسمس پارٹی میں شرکت کا حکم


کرسمس ڈے اور کرسمس پارٹی میں شرکت کا حکم

سوال: کرسمس کسے کہتے ہیں؟ یہ مذہبی تقریب ہے یا ملکی تقریب ہے؟ یا سالانہ تقریب ہے؟ شریعتِ مطہّرہ میں اس کا کیا حکم ہے؟

کرسمس ڈے کا دن دیکھا جاتا ہے کہ کچھ مسلمان برادر بھی اپنے گھروں کو سجاتے ہیں، جیسا کہ عیسائی اپنے گھروں کو خاص کر کرسمس ٹری، لائٹیں اور گولے وغیرہ سے سجاتے ہیں اور کرسمس کی خوشی مناتے ہیں۔ تحفے تحائف تقسیم کئے جاتے ہیں، نیز ان دنوں کرسمس پارٹی کے نام سے دفتروں، سکولوں اور کارخانوں میں دعوت رکھی جاتی ہے، جس میں انواع و اقسام کے پربتکلّف کھانے پینے کی اشیاء، شراب، ناچ گانے وغیرہ ہوتے ہیں، جس میں مرد اور عورتیں ایک ہو کر خوشیاں مناتے ہیں اور حصہ لیتے ہیں۔ اسکولوں میں لڑکے اور لڑکیاں اسی نام سے پارٹی کرتے ہیں اور اپنے مذہبی رواج کو فروغ دیتے ہیں۔ کچھ سکولوں میں صرف کھانا پینا ہوتا ہے اور کچھ سکولوں میں شراب کے علاؤہ ہر طرح کے خرافات ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کی والدہ حضرت مریمؑ کا ڈرامہ کیا جاتا ہے، جس میں مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی عیسائی مذہب کے رواج ہوتے ہیں۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ

(1) اِن حالات میں جب کہ مذہبی اور قومی رسموں کو فروغ دیا جا رہا ہو اور اس کی اہمیت مسلمانوں اور مسلمانوں کے بچوں کے دلوں میں پیوست کی جا رہی ہو (اگرچہ اس میں دوسرے خرافات بھی نہ ہوں) پھر بھی ان پارٹیوں میں شرکت کرنا مسلمان اور اِن کے بچوں کے لئے جائز ہے یا نہیں؟

(2) ایسے اسکول جس کے ذمہ دار مسلمان اکثریت میں ہوں اور اس رسم کو بند کرانے پر قادر ہوں، ایسے اسکول میں مسلمان منتظمین کا پارٹی کی اجازت دینا کیسا ہے؟ اور اِن پارٹیوں میں مسلمان بچوں اور بچیوں کا شرکت اور حصہ لینا کیسا ہے؟

(3) مخصوص شرائط کے ساتھ اگر کرسمس پارٹی کی اجازت دے دی جائے تو اس اجازت کو وکیل بنا کر عوام ہر طرح کی کرسمس پارٹی میں حصہ لینے کو جائز سمجھیں گے، اور حدود سے تجاوز کا پورا امکان ہونے کی وجہ سے مخصوص شرائط کے ساتھ کرسمس پارٹی میں حصہ لینے کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب: ہر قوم و ملّت میں کچھ خاص ایّام عید و تقریب ہوتے ہیں، اسی طرح کرسمس بھی عیسائیوں کی عید اور تقریب کا دن ہے۔ حضرت عیسٰیؑ کی پیدائش کی خوشی میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں اس کی ابتداء ہوئی اور رومن تہذیب سے آئی ہے۔ اور عیسائی تہذیب کی اشاعت، طبع سہولت اور غلبہ کی وجہ اس خالص مذہبی تقریب میں دوسرے خرافات کے ساتھ دوسری قوم میں بھی مقبول ہو کر ایک جشن کی صورت اختیار کر لی ہے، کچھ چیزیں اس میں ایسی ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، صرف عیاشی اور خواہش پرستی ہے۔

اسلام ایک کامل اور مکمل مذہب ہے۔ زندگی کے ہر گوشے اور موقع کے لئے اس میں مکمل رہنمائی موجود ہے۔ مسلمان اور غیر مسلم کے ساتھ سلوک کرنے کے طریقوں کو اسلام نے مفصّل طور پر بیان کیا ہے۔حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حبشہ میں قیام کر کے اور دوسری قوموں اور ملکوں میں رہ کر علمی اور عملی رہنمائی فراہم کی ہے۔دوسروں کی تہذیب اور اخلاق سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نیک عمل و اخلاقِ حسنہ سے دوسروں کو متاثر کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ اسلامی تہذیب و تمدّن دوسرے تمام مذاہب کے مقابلہ میں اعلٰی و افضل ہے۔

آج مسلمانوں کی بڑی تعداد دوسرے ملکوں میں اور دوسری اقوام کے درمیان رہ رہی ہے، انہیں روزانہ کے معاملات میں اِن سے سابقہ پڑتا ہے۔ غیروں سے تعلقات میں تفصیل یہ ہے کہ

  1.  اگر کوئی شخص اپنے مذہب کا تخصّص و وقار باقی رکھتے ہوئے غیروں کے مذہبی رسم و رواج میں بالکل حصہ نہ لے اور ایسا کرنے سے اس کے مرتبہ اور مال میں نقصان آتا ہو تو بھی اس کو برداشت کرے تو یہ شخص دین کا مجاہد، متّقی اور اللہﷻکا برگزیدہ بندہ اور سچّا اُمّتی کہلائے گا۔
  2.  اور جو مسلمان اس دن کو عظمت والا سمجھ کر اِن کی موافقت میں عیسائیوں کی تقریب میں حصہ لیتا ہے اور خوشی مناتا ہے، گھر کو سجاتا ہے، روشنی کرتا ہے یا اِن کے مذہبی رسم و رواج میں شرکت کرتا ہے تو فقہاء اس عمل کو کفریہ گردانتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ شخص ایمان کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔ فتاوٰی بزازیہ میں ہے کہ مجوسیوں کی تقریب نروز میں جانا اور اِن کی اتباع کرنا کفر ہے۔   
  3.  جو شخص اِن تقریبات میں حصہ نہیں لیتا اور اِن کی تقریبات کی خوشی بھی دل میں محسوس نہیں کرتا بلکہ دل سے اس سے نفرت کرتا ہے اور معاملات دینوی فائدہ کی غرض سے یا نقصان یا تکلیف کے ڈر سے تحفہ تحائف یا مبارک بادی کے کارڈ بھیجتا ہے تو اِس سے کفر تو لازم نہیں آتا لیکن تشبہ ضرور ہے، اس لئے اس سے بھی بچنا چاہئے۔ اور چونکہ یہ مذہبی تقریب کا مسئلہ ہے اس لئے عدمِ جواز کو ترجیح دی جائے گی اور تعلقات برقرار رکھنے کے لئے تحفہ تحائف کی گنجائش ہے۔

مخصوص شرائط و حدود جی رعایت کے ساتھ پارٹی کی جائے تو اسے دوسرے لوگ جواز کی دلیل بنا کر ناجائز پارٹی کو بھی جائز سمجھنے لگیں گے جیسا کہ آج کل عوام کا یہی حال ہے، تو اس صورت میں حدود کی رعایت کے ساتھ کی جانے والی پارٹی سے بھی روکا جائے گا، جیسا کہ قرآنِ کریم میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو راعنا کہنے کی بجائے انظرنا کہنے کا حکم دیا گیا۔

نابالغ لڑکے لڑکیوں کو اسکول اور مدرسہ اور گھر کے ماحول میں عیسائی اور دوسری تہذیبوں اور تمدنوں سے دور رکھا جائے تب ہی ان کے ایمان اور اعمال کی حفاظت ہو سکتی ہے، ورنہ مستقبل میں خطرہ ہے کہ مسلمان صرف نام ہی کے مسلمان نہ رہ جائے۔ اس لئے ہر وہ چیز جس سے عیسائیت یا عیسائی تہذیب کی جھلک ہو اُس سے ہر مسلمان کو بچنا لازم اور ضروری ہے۔

(فتاوٰی دینیہ جلد 5، صفحہ 131)