Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ایفائے عہد

  علی محمد الصلابی

مسلمان فاتحین کا یہ کارواں جس وقت ’’بلہیب‘‘ پہنچا اس وقت رومیوں کے قیدی فروخت کے لیے یمن وغیرہ بھیجے جا چکے تھے۔ حاکم اسکندریہ سے دیکھا نہ جا سکا اور اس نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ میں فارسی اور رومی بادشاہوں کو جو کہ آپ کی بہ نسبت مجھے زیادہ ناپسند تھے جزیہ دیتا رہا ہوں۔ میں بخوشی آپ کو جزیہ دینے کو تیار ہوں بشرطیکہ آپ ہمارے ان قیدیوں کو لوٹا دیں جنہیں ہمارے ملک سے گرفتار کیا ہے۔

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں رائے اور اجازت مانگی، خلیفہ کا فرمان آنے تک دونوں فریقین نے جنگ سے باز رہنے کا عہد کر لیا۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جوابی خط ارسال کیا، اس کا مضمون تھا:

’’میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مستقل جزیہ کی آمدنی جس سے ہمارا اور بعد کے مسلمانوں کا بھلا ہو اس مال غنیمت سے مجھے کہیں زیادہ پسندیدہ ہے جو فوج میں تقسیم ہو کر ایسے ہی ختم ہو جائے جیسا کہ کچھ تھا ہی نہیں اور قیدیوں سے متعلق عرض ہے کہ اگر حاکم اسکندریہ اس شرط پر جزیہ دینے کو تیار ہو جائے کہ ان کے جو قیدی تمہارے پاس موجود ہیں انہیں اختیار دیا جائے کہ اسلام اور اپنے آبائی مذہب میں سے جسے چاہیں قبول کر لیں۔ ان میں جو اسلام قبول کرے گا وہ مسلمانوں کے زمرہ میں داخل ہو جائے گا اور جو اپنی قوم کا مذہب اختیار کرے گا اس سے جزیہ لیا جائے گا۔ رہے وہ لوگ جو غلام ہو کر مختلف شہروں میں جا چکے ہیں ان کی واپسی ہمارے بس سے باہر ہے۔‘‘

سیدنا عمرو بن عاصؓ نے خلیفہ کی یہ بات حاکم اسکندریہ کے سامنے رکھی، اس نے منظور کر لیا۔ پھر موجودہ قیدیوں کو مسلمانوں نے اکٹھا کیا اور نصاریٰ بھی جمع ہوئے۔ پھر ہر ایک قیدی کو مسلمانوں نے اختیار دیا کہ جسے مذہب اسلام پسند آئے وہ اسے قبول کر لے اور جسے نہ پسند آئے وہ اپنے آبائی دین پر قائم رہے، جس غلام نے اسلام قبول کیا، مسلمانوں نے نعرۂ تکبیر سے اس کا استقبال کیا اور جو نصرانیت پر باقی رہا اس پر جزیہ عائد کیا گیا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 177)

یہ واقعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دنیا بیزاری، آخرت طلبی اور پوری دنیائے انسانیت کو اسلام کی طرف بلانے کی سچی تڑپ پر صداقت کی مہر لگاتا ہے۔ قیدیوں کے اسلام قبول کر لینے سے مسلمانوں کا کوئی دنیوی فائدہ نہیں تھا، بلکہ اگر وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے تو مسلمانوں کو دنیوی فائدہ ملتا، کیونکہ وہ مسلمانوں کو جزیہ ادا کرتے، لیکن اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قیدیوں کو اختیار دیتے ہیں کہ اسلام قبول کر لیں، یا اپنے مذہب پر باقی رہیں اور جب معاہدہ کا نفاذ شروع ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قیدیوں کو ایمان لاتے دیکھ کر اتنی بلند آواز سے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے کہ کسی معرکہ کی فتح یابی پر بھی اتنی مسرت سے نعرہ نہ لگاتے تھے اور اگر کوئی اپنے مذہب پر باقی رہنے کا اظہار کرتا تو دلی بے چینی اور افسوس کا اظہار کرتے گویا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوچکے تھے اور اب دین اسلام سے نکل رہے تھے۔

اس واقعہ میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایفائے عہد کا اخلاقی فریضہ ادا کرنے میں صحابہ کرامؓ کس قدر مخلص و محتاط تھے، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تحریر میں اخلاص و وفا کی یہ لگن اچھی طرح جھلکتی ہے: ’’جو قیدی مختلف شہروں میں منتشر ہوگئے ہیں ہم انہیں واپس کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ اور دوسری روایت کے الفاظ میں ’’ہم ایسی کسی چیز پر مصالحت کرنا پسند نہیں کرتے جسے ہم پورا نہ کر سکیں۔‘‘

(التاریخ الإسلامی: جلد 12 صفحہ 351)

سیدنا عمر فاروقؓ دشمنوں سے کوئی معاہدہ کرنے سے پہلے اس عہد و پیمان کو نبھانے کے بارے میں سوچتے ہیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان کسی وقت اپنے عہد و پیمان کو پورا نہ کر سکیں اور یہ اخلاقی مظاہرہ ایفائے عہد کا سب سے اونچا مقام ہے۔ اخلاق حسنہ فتح و نصرت کی علامت ہیں۔ جو شخص کسی سے معاہدہ کرتا ہے پھر اسے پورا نہیں کرپاتا، وہ معذور مانا جاتا ہے، لیکن اگر وہی شخص کسی چیز پر معاہدہ کرنے سے پہلے معاہدہ نبھانے سے متعلق ضروری احتیاطی اقدامات پر غور کر لے تاکہ جھوٹا اور غدار ثابت نہ ہو تو یہ اس کی اعلیٰ ظرفی اور دور اندیشی ہے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 12 صفحہ 351)