شیعہ مناظر رانا محمد سعید  کا اہل سنت دلائل پر ذاتی…

شیعہ مناظر رانا محمد سعید  کا اہل سنت دلائل پر ذاتی تاویلات!!

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

محمد بن عبد اللہ بن قہزاد نے ( جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں ) کہا : میں نے عبدان بن عثمان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک کو یہ کہتے ہوئے سنا : اسناد ( سلسلہ سند سے خبر بیان کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا۔

حوالہ:

[ مقدمہ صحیح مسلم ص ٣٦]

  

 اب آتے ہیں اصل عبارت کی جانب عرضِ خدمت ہے کہ : اس میں *بعض اہل علم* کون ہیں؟ شیعہ ہیں؟ سُنی ہیں؟ یا واقفی مذھب ہیں؟ ان کا پتا نہیں اور ایسی روایات جن میں اصل قائل کا معلوم نہ ہو مبہم روایات کہلاتی ہیں۔ اور ایسی روایات کے بارے میں ارشاد ملاحظہ ہوں۔حافظ ابنِ کثیر لکھتے ہیں:

فأما المبهم الذي لم يسم، أو من سمي ولا تعرف عينه فهذا ممن لا يقبل روايته احد علمناه

یعنی مبہم حضرات کی روایات ناقابل قبول ہیں۔

حوالہ:

[ اختصار علوم الحدیث مع شرحہ ص٩۲]

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:

ولا يُقْبَلُ حديثُ المُبْهَم، ما لم يُسَمَّ، لأن شرط قبول الخبر عدالة رواته، ومَنْ أُبْهِمَ اسْمُه لا يُعرفُ عَيْنهُ؛ فكيف عدالته

مبہم شخص کی حدیث قبول نہیں کی جائے گی جس کا نام معین نہ ہو کیونکہ شرط قبول خبر عدالت راوی ہے اور جس کا اصل آتا پتا معلوم نہ ہو تو اس کی عدالت کا تعین کیسے ہوگا۔

حوالہ:

[نخبة الفکر ص ۳۸]

شیعہ مناظر کی  عجیب منطق! جو خبر بعض اہل علم سے ہو ، وہ ضعیف ہوتی ہے!

ضعیف تاریخ طبری کے محقق نے بھی ایک خبر جو بعض *اہل العلم* کے الفاظ سے منقول تھی اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔حوالہ : [ضعیف تاریخ طبری جلد ٦ ص١٣٦]

 

 نوٹ: شیعہ مناظر رانا سعید شیعہ نے آخری ٹرن میں 23 دلائل پیش کئے جنہیں سائیٹ پر الگ سے شامل کیا گیا ہے۔

   عبدالحمید بلوچ  : رانا صاحب آپ اپنے ٹرن ختم ہونے کا وقت بتائیں۔؟؟

 رانا محمد سعید شیعہ : بے چینی کس بات کی ہے محترم ؟؟؟  

شیعہ مناظر کی کم ظرفی اور گھٹیاپن !!! تین دن لگاتار مسیسجز کے بعد  فریق مخالف کو مجبور کیا کہ وہ کوئی رخصت نہیں دیں گے!! شرائط کا  من پسند مفہوم بھی صرف ان کے لئے خاص تھا!

  رانا محمد سعید شیعہ : آج رات 11 بج کر 10 منٹ پر۔ اور ہاں قریشی صاحب کو بتا دیں کہ اسے گفتگو ٹو دی پوائنٹ اور شرائط کے مطابق ہی کرنا ہوگی ۔ یہ دن والی رخصت جناب نے مجھے اپنی مرضی سے دی تھی *سر چڑھ کر* تو میں ایسی کوئی رخصت نہیں دینے والا ۔


 

رانا  محمد سعید شیعہ:    محترم قارئین جتنے بھی دلائل پیش کیئے وہ تمام کے تمام اہلسنت کتب سے ہیں سوائے علامہ ابن عقدہ کے حوالے کے ۔

مذکورہ بالا احادیث جو جید محدثین کی کتب سے پیش کی گئی ہیں جن میں *مولا علی کیلئے وصی رسول ہونا اور خلیفتہ الرسول ہونا مذکور ہے اور ان کی سند میں کہیں بھی ابن سباء نہیں ہے اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مولا علی ع کیلئے وصی رسول ہونا اور خلیفتہ الرسول ہونا* ابن سباء کے وجود سے پہلے ہی موجود تھا۔  

*یہ قریشی صاحب کے دعویٰ  کا رد ہے کہ جو عقائد ابن سباء کے وجود سے پہلے ہی موجود تھے اور جن کو روایت کرنے میں کہیں بھی ابن سباء نہیں ان کا بانی ابن سباء کیسے ہو سکتا ہے*

  کیونکہ قریشی صاحب کی واحد دلیل وہ بلا سند اور مبہم خبر ہے جو کہ انہوں نے تین تاریخی کتب سے درج کی ہے ۔ الفاظ ایک جیسے ہیں اس لئے قوی ہے کہ ایک سے دوسرے نے نقل کیا اور دوسرے سے تیسرے نے ۔

  قریشی صاحب سے جب جب سند کا مطالبہ ہوا تو موصوف نے منگھڑت اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو آپ کے ثقہ عالم نے بیان کیا ہے اور اصحاب علی سے بیان کیا ہے تو سند کی بات کی حالانکہ یہ علمی خیانت اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کر رہے ہیں ۔*اپنے بنائے ہوئے منگھڑت اصول پر رہتے ہوئے قریشی صاحب کسی بھی روایت کی سند پر کلام کرنے کے حقدار نہیں ہیں*

*یہاں تک کی گفتگو کا خلاصہ*

قریشی صاحب نے اپنے دعویٰ کی دلیل میں صرف ایک بلا سند مجہول قول پیش کیا جس پر انہوں نے غیر متعلقہ روایات جن کا دعوے میں موجود پانچ عقائد سے کوئی تعلق نہیں،  انہیں فریب کاری سے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی جبکہ ان روایات میں صرف ابن سباء کے متعلق حضرت علی ع کی الوہیت کا عقیدہ مذکور ہے اور اسی بناء پر ابن سباء پر لعنت بھی بھیجی ہے ہمارے آئمہ ع نے اور الحمدللہ ہم بھی اس پر اور ہر اس شخص پر جو مولا علی ع کیلئے الوہیت کا قائل ہو لعنت بھیجتے ہیں۔ ۔

 قریشی صاحب سے ہمارا دوبارہ مطالبہ ہے کہ قریشی صاحب اپنے دعوے کے الفاظ پر قائم رہتے ہوئے کوئی ایک صحیح روایت پیش کریں جس میں ابن سباء کے یہ پانچ عقائد مذکور ہوں اور ہمارے کسی بھی عالم نے اس بناء پر اس بات کی تائید کی ہو کہ ان عقائد کا بانی ابن سباء ہے ۔

مجھے یقین ہے وہ کوئی بھی ایسی مسلمہ چیز پیش کرنے سے عاجز رہیں گے، جیسا کہ اب تک وہ عاجز رہے ہیں اور فقط موضوع سے غیر متعلقہ روایات اور بلاسند مجہول قول کو لیکر فریب دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں  ۔  یہاں میں اپنی ٹرن ختم کرتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ قریشی صاحب گروپ پر کنٹرول ہونے کی وجہ سے من مانے رویے سے پرہیز کریں گے (حالانکہ کریں گے نہیں  ) ۔

یہاں تک کے دلائل کا ایک مرحلہ تقریبا مکمل ہوتا ہے اور اگلے مرحلے میں ہم اصولوں کے مطابق ان پوائنٹس پر گفتگو کریں گے کہ جن پر میرا جواب دعویٰ ہے کہ ہمارے عقائد کا ماخذ و مبانی رسول اللہ ﷺ اور آئمہ ع کی وہ روایات ہیں جنہیں ہمارے محدثین کرام نے اپنی کتب میں بیان فرمایا ہے اور انکی تائید فرمائی ہے نا کہ بلاسند اور مجہول اقوال۔


صفحہ 2 از 2