سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیسیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی فوج لے کر اسکندریہ کی طرف بڑھے، راستے میں وہاں کے باشندوں سے کئی مقامات پر مزاحمتیں ہوئیں اور سب میں مسلمانوں کو کامیابی ملی۔ اس دوران میں باشندگان کریون سے محاذ آرائی کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو کئی زخم آئے۔ ان کے پاس ان کے والد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا قاصد ان کی خبر گیری کے لیے آیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
أقول اذا ما جاشت النفس
اصبری فعما قلیل تحمدی أو تلامی
ترجمہ: ’’جب میری جان نکلنے لگے گی تو میں اس سے کہوں گا کہ (موت کی تکلیف پر) صبر کر، تھوڑی ہی دیر میں تیری تعریف کی جائے گی یا تیری ملامت کی جائے گی۔‘‘
جب قاصد واپس چلا گیا اور سیدنا عمرو بن عاصؓ کو عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بات سنائی تو عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک وہ میرا بیٹا ہے۔
(فتوح مصر: صفحہ 57 )
اس واقعہ میں علم و عبادت کے بے تاج بادشاہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے صبر و تحمل کی ایک انوکھی مثال ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 12 صفحہ 330)