کیا اسکندریہ کا کتب خانہ مسلمانوں نے نذر آتش کیا؟
علی محمد الصلابیڈاکٹر عبدالرحیم محمد عبدالحمید کہتے ہیں کہ تلاش بسیار کے باوجود مجھے کوئی ایسی صریح عبارت نہیں ملی اور نہ کسی عبارت کا اشارہ ملا جو بتائے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کا کتب خانہ نذر آتش کیا تھا۔ اس سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ ابن القفطی کی وہ عبارت ملتی ہے جسے ابن عبری متوفی 685ھ موافق 1286ء اس طرح نقل کرتا ہے:
’’مسلمانوں کے درمیان یحییٰ نحوی کی بہت شہرت تھی، وہ اسکندریہ میں رہتا تھا اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں اسکندریہ فتح ہونے تک باحیات تھا۔ اسکندریہ فتح ہو جانے کے بعد وہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کے علمی مقام و مرتبہ کے لحاظ سے اس کو عزت واحترام سے نوازا اور اس سے ایسے فلسفیانہ الفاظ سنے جن سے عربوں کے کان نامانوس تھے۔‘‘
ابن القفطی متوفی 646ھ موافق 1267ء واقعہ کو مکمل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: میرے پاس تمہاری آمد کا کیا مقصد ہے؟ اس نے کہا: شاہی خزانوں میں حکمت و فلسفہ کی جو کتابیں ہیں مجھے دے دیجیے، اس وقت کتب خانہ میں فلسفہ کی تقریباً چون ہزار ایک سو بیس (54120) کتابیں تھیں۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ نے یحییٰ کے مطالبہ کو بہت اہم سمجھا اور کہا: امیرالمؤمنینؓ کی اجازت مل جانے کے بعد ہی میں اس کے متعلق کچھ کہہ سکتا ہوں۔ پھر سیدنا عمروؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ کے نام خط لکھا اور یحییٰ کی بات سے سیدنا عمرؓ کو آگاہ کیا۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواباً خط لکھا کہ جن کتابوں کے بارے میں تم نے لکھا ہے اگر ان میں ایسی کتابیں ہوں جو قرآنی تعلیمات کے موافق ہوں تو قرآن ان کے بدلے کافی ہے اور اگر ایسی کتابیں ہوں جو قرآنی تعلیمات کے خلاف ہوں تو ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انہیں ختم کر دو۔ چنانچہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے انہیں اسکندریہ کے حمامات غسل خانوں) پر تقسیم کرنا شروع کر دیا تاکہ اس کو جلا کر پانی گرم کیا جائے۔ اس وقت کئی حمامات کے نام مجھے یاد تھے لیکن اب بھول گیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ چھ مہینے میں یہ کتب خانہ جل کر ختم ہوا، جب اس واقعہ کو سنتا ہوں تو تعجب کرتا ہوں۔
(عمرو بن العاص القائد والسیاسی: صفحہ 133)
لیکن کتب خانہ نذر آتش کیے جانے کا واقعہ ابن القفطی اور ابن العبری سے عبداللطیف بغدادی متوفی 649ہجری موافق 1231ء جو ان دونوں سے پہلے کا ہے ذکر کیا ہے، لکھتا ہے:
’’وہ علم کا گہوارہ تھا جسے شہر بساتے وقت اسکندر نے بنایا تھا، اس میں کتابوں کا خزانہ تھا جسے سیدنا عمرؓ کی اجازت سے فاتح اسکندریہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نذر آتش کر دیا تھا۔‘‘
(عمرو بن العاص القائد والسیاسی: صفحہ 134)
لیکن جب ہم ان روایات کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو چند قابل توجہ پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں۔
مثلاً
1ـ مذکورہ تینوں روایات کے مضامین میں اتفاق نہیں ہے اور نہ ان روایات کے ناقلین اور واقعہ میں تاریخی حیثیت سے باہمی ربط ہے۔ مزید برآں یہ سب ناقلین معمولی فرق کے ساتھ ہم عصر تھے۔
2ـ ان روایات کی قطعاً کوئی سند نہیں ہے۔ یہ صرف اعتراضات ہیں جنہیں گڑھ لیا گیا ہے۔
3ـ ان روایتوں کا تعلق اس دور سے ہے جب مصر فتح ہوئے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اس پر امارت کیے ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس قدر تاخیر سے ان روایات کا ظہور اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ یہ محض ایک من گھڑت واقعہ ہے اور اسے تسلیم کر لینے کی صورت میں کئی اشکالات سامنے آتے ہیں:
اس واقعہ کو نقل کرنے والے راویوں سے صدیوں پیشتر جن مؤرخین نے فتح مصر کی تاریخ لکھی ہے کسی نے اسکندریہ کے کتب خانہ کے نذر آتش کیے جانے کا واقعہ نہیں لکھا۔
اس واقعہ کا ذکر واقدی، طبری، ابن اثیر، ابن خلدون، ابن عبدالحکم اور یاقوت حموی جیسے معتبر وقدیم مؤرخین میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔
زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کے دور میں بغدادی نے مخصوص دباؤ کے نتیجے میں یہ واقعہ گھڑا تھا، یا ممکن ہے کہ بغدادی کے بعد کے ادوار میں گھڑا گیا ہو اور اس کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ اسکندریہ کا یہ کتب خانہ واقعتاً موجود تھا تو یہ بات کچھ بعید نہیں کہ رومی اسکندریہ سے کوچ کرتے ہوئے یہ کتب خانہ اپنے ساتھ لے گئے ہوں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ اس کتب خانہ کو چھ مہینے کی طویل مدت تک جلانے کے بجائے مختصر سے وقت میں اسے دریا برد کر دیتے۔
یہ تمام اشکالات اس بات کی دلیل ہیں کہ اس واقعہ کو لکھنے اور ترتیب دینے میں مکمل جھوٹ اور ملمع سازی سے کام لیا گیا ہے، لہٰذا ہم بلا جھجک یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما دونوں کا اس من گھڑت واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ان شریر ذہنوں کی پیداوار ہے جو اسلامی تاریخ کو داغ دار بنانا چاہتے ہیں اور جس چیز کا کوئی وجود نہیں اسے نئے سرے سے ایجاد کرتے ہیں۔
(عمرو بن العاص القائد والسیاسی: صفحہ 134)