پادری بنیامین سے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی ملاقات
علی محمد الصلابیمؤرخ ابن عبدالحکم کہتے ہیں کہ اسکندریہ میں قبطیوں کا پادری رہتا تھا، اس کا نام بنیامین تھا۔ جب اس نے رومی مسیحیوں کی طرف سے قبطیوں پر مذہبی قہر ٹوٹتے دیکھتا تو صحرا کی طرف بھاگ گیا تھا اور ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد جب مصر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی آمد کی خبر سنی تو قبطیوں کو پیغام بھیجا کہ اب روم کی حکومت نہیں بچے گی، ان کی بادشاہی کا زمانہ گزر گیا، تم لوگ سیدنا عمرو بن عاصؓ کا استقبال اور ان کا تعاون کرو۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پیغام پانے کے بعد جو قبطی ’’فرما‘‘ میں تھے اسی دن حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے نکل پڑے۔
(فتوح مصر و أخبارھا: صفحہ 37،74)
قبطی مؤرخ ساویرس بن المقنع کی روایت ہے کہ جب اسکندریہ رومیوں کے دائرہ اختیار میں تھا، اس وقت سانوتیوس نام کا ایک آدمی قبطیوں کے سرداروں میں شمار ہوتا تھا اور جب تک بنیامین پادری صحرا میں روپوش تھا اس وقت تک یہی کنیسہ کے تمام امور کا ذمہ دار تھا۔ اس نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی پیش قدمی کی اطلاع پا کر اپنے بزرگ استاد پادری بنیامین سے متعلق انہیں خبر دی کہ صرف رومیوں کے خوف سے وہ یہاں سے بھاگ گئے ہیں۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے یہ خبر پا کر وہاں اپنے ماتحت عمال کو خط لکھا کہ قبطیوں کا نصرانی پادری بنیامین جہاں کہیں ہو اطمینان سے اور بے خوف ہو کر حاضر ہو جائے، اس کے لیے اللہ کی طرف سے عہد اور امن و امان ہے، اپنے معتقدین اور پیروکاروں کے حالات و ضروریات کی اصلاح کرے اور ان کے معاملات کو دیکھے اور اپنے کنیسا کی دیکھ بھال کرے۔ جب قبطیوں کے اس معزز پادری کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو تیرہ سال کی طویل روپوشی کے بعد خوشی سے جھومتا ہوا واپس ہوا اور اس کی آمد پر اس کے معتقدین ہی نہیں بلکہ تمام شہری استقبال کے لیے نکل پڑے، خوشی کے جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ جب حضرت عمرو بن عاصؓ کو خبر ملی کہ بنیامین پادری اسکندریہ پہنچ چکا ہے تو حکم دیا کہ اسے پورے اعزاز و اکرام اور محبت کے ساتھ میرے پاس حاضر کیا جائے۔ وہ سیدنا عمرو بن عاصؓ کے پاس حاضر کیا گیا اور جب سیدنا عمروؓ نے اسے دیکھا تو عزت و احترام سے بٹھایا۔ وہ بہت ہی خوبصورت، خوش گفتار اور باوقار آدمی تھا، سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اسے دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا: اب تک جن بستیوں کے ہم مالک ہوئے ہیں ان میں کہیں ایسا خوبصورت آدمی ہم نے نہیں دیکھ، پھر بنیامین کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اپنے کنیسا اور تمام معتقدین ومتبعین کی اچھی طرح دیکھ بھال کرو اور ان کے احوال وضروریات پر اچھی طرح نگاہ رکھو۔ اس کے بعد بنیامین عزت واحترام سے واپس لوٹ آیا۔ پادری کی اس ملاقات پر مصری عالم شرقاوی لکھتے ہیں: ’’سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے پادری بنیامین کو اپنا قریبی بنا لیا، اتنا قریبی کہ بعد میں آپؓ کے محبوب دوستوں میں شامل ہوگیا۔ اس طرح عرب فاتحین نے مصر میں سکون واطمینان کی سانس لی اور فسطاط کی جامع مسجد میں پہلے ہی جمعہ کو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: اپنے پڑوسی قبطیوں سے حسن سلوک کرو، اس لیے کہ ان کا تم پر حق ہے اور سسرالی رشتے کا تعلق بھی ہے۔ ظلم سے اپنے ہاتھ روکے رکھو، پاک دامن رہو اور نگاہیں پست رکھو۔‘‘
(الفاروق صفحہ 247)