مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل - ردِ…

مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اہل سنت و الجماعت اس بات میں کوئی جھگڑا نہیں کرتے کہ خلفاء اربعہ کے بعد کے حکمران بعض ایسے لوگوں کو والی بنادیتے تھے جن کی نسبت دوسرے افراد اس کے زیادہ حقدار ہوا کرتے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ چاہتے تھے کہ اپنے بعد قاسم بن محمد کو خلیفہ بنائیں ؛ مگر وہ ایسا نہ کرسکے۔اس لیے کہ اہل شوکت وقوت اس بات پر آپ کے ساتھ موافقت نہ کرتے تھے۔ اس لیے کہ آپ کے ساتھ ہی یزید بن عبد الملک کے لیے بھی عہد لیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے وہ ولی عہد تھا۔ پس اس صورت میں جب اہل شوکت کسی مرجوح کو مقدم کیا ‘ اور راجح کو چھوڑ دیا ۔اور ایسے ہی جو شخص اپنی اور اپنے ماننے والوں کی قوت کے بل بوتے پر ظلم و زیادتی سے اقتدار حاصل کرلے ؛ تو اس کا گناہ اس پرہوگا جس نے واجب ترک کیا ہے؛ حالانکہ وہ اس واجب کو پورا کرنے پر قادر تھا۔ یا پھر اس نے ظلم پر مدد کی [اس وجہ سے بھی گنہگار ہوا]۔

اس کے برعکس جو انسان نہ ہی خود ظلم کرے ‘ اور نہ ہی ظلم پر کسی دوسرے کی مدد کرے ؛ بلکہ وہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کرے ؛ تو اس پر کچھ بھی گناہ نہ ہوگا۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ نیکوکار مؤمنین صرف نیکی اور بھلائی کے کاموں پر حکمرانوں کی مدد کرتے ہیں ۔ظلم و سرکشی کے کاموں میں ان کی مدد نہیں کرتے ۔ پس یہ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ امام جسے شرعی طور پر مقدم کرنا واجب ہوتا ہے ؛ اسے قرآن کا بڑا قاری ؛ سنت کا بڑاعالم ؛ ہجرت میں مقدم ؛ عمر میں بڑا ہونا چاہیے۔ مگر ایسا صاحب شوکت وقوت آگے بڑھ جائے جو باقی امور میں اس ماقبل الذکر انسان سے بہت کم ہو‘ اور نمازیوں کے لیے اس کے پیچھے نماز پڑھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو ؛ تو اس میں نمازیوں کا کیا گناہ ہے ؟

ایسے ہی ظالم اور جاہل یا مفضول حاکم کی بھی مثال ہے ۔جب اس سے مظلوم مطالبہ کرے کہ وہ اس کیساتھ انصاف کرے ‘ یا ظالم سے اس کو اسکا حق دلوائے۔پس اسے چاہیے کہ اسکے قرضہ دار کو بندکردے؛ یا اسکی میراث کو تقسیم کردے ؛ یا اس کی شادی ایسی بیوہ سے کرادے جس کا سلطان کے علاوہ کوئی ولی نہ ہو؛ تو اس پر کونسا یا کس چیز کا گناہ ہوگا یا اسے والی مقرر کرنے والے پر کس بات کا گناہ ہوگا جب کہ وہ حق کے علاوہ کسی چیز پر مدد نہ کرتا ہو اور باطل سے اجتناب کرتا ہو۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ [التغابن ۱۶]

’’ تم سے جتنا ہوسکے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جب میں تمہیں کسی چیز کاحکم دوں تو تم سے جتنا ہوسکے اس کی بجا آوری کرو۔‘‘ [رواہ البخاري ۹؍۹۴ ؛ ِکتاب الِاعتِصامِ بِالکِتابِ والسنۃِ، باب الِاقتِدائِ بِسننِ رسولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ مسلِم 2؍975 ؛ کتاب الحجِ، باب فرضِ الحج مرۃ فِی العمرِ ؛ سننِ النسائِیِ 5؍83 ؛ ِکتاب المناسِکِ، باب وجوبِ الحج ؛ سنن ابن ماجہ 1؍3؛ المقدِمۃ، باب اتِباعِ سنِ رسولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔]

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آمد ِ شریعت حسب امکان تحصیل مقاصد اور ان کی تکمیل کے لیے؛ مفاسد کے خاتمہ اور ان کی تقلیل کے لیے تھی۔ اہل سنت والجماعت کہتے ہیں :’’ مناسب تو یہ ہے کہ اس آدمی کو والی مقرر کیاجائے جو اس کے لیے زیادہ مناسب ہو۔ جب ایسا کرنا ممکن ہوتو اکثر کے ہاں پھر اس پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے۔ جب کہ بعض کے ہاں ایسا کرنا مستحب ہے ۔ہاں جو کوئی قدرت ہونے کے باوجود زیادہ مناسب کو صرف اپنی خواہشات کی وجہ سے چھوڑ دے [اور اس سے کم درجہ کے انسان کو والی مقرر کرے ] تو وہ ظالم ہے ۔ اور جو کوئی زیادہ مناسب کو والی مقرر کرنے سے عاجز ہو؛ حالانکہ وہ ایسا کرنا بھی چاہتا ہو؛ تو ایسے کو معذور سمجھا جائے گا۔

اہل سنت والجماعت کہتے ہیں : جس کو والی مقرر کردیا جائے ؛ اس سے حسب امکان اللہ کی اطاعت پر مدد لی جائے۔اور اطاعت الٰہی کے امور کے علاوہ کسی چیز میں اس کی مدد نہ کی جائے۔ اللہ کی نافرمانی پر نہ ہی اس سے مدد لی جائے ‘ اور نہ ہی اس کی مدد کی جائے۔

[اب غور کیجیے ] کیا اہل سنت والجماعت کا قول امام کی اطاعت کے متعلق ان لوگوں سے بہتر نہیں ہے جو ایسے معدوم یا عاجز کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں جس سے امامت سے مقصود امور حاصل ہی نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ رافضی جب مسلمان حکمرانوں کی مدد کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے مذہب کے برخلاف چلے تو انہیں کفار کی کرنا پڑی ؛ او رخود ان سے مدد حاصل کرناپڑی ۔ یہ لوگ تو امام معصوم کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے ہیں ؛ مگر ان کا کوئی امام موجود نہیں ہے جس کی اطاعت کریں سوائے کافروں اور ظالموں کے ۔ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو لوگوں کو اولیاء اللہ کی غیبی مدد کے حیلے دیتا ہے۔ مگر اسکے پاس سوائے جھوٹ و مکر کے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ اورنہ ہی اس کے پاس کوئی غیبی انسان ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ یا پھر اس کے ساتھ کوئی شیطان یا جنات ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے اسے بعض شیطانی احوال حاصل ہوتے ہیں ۔[جن سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں ]

اگر بالفرض تسلیم کرلیا جائے کہ جس نص کا دعوی رافضی کرتے ہیں ‘ وہ حق اور موجود ہے ؛ اور لوگوں نے منصوص علیہ امام کو مقرر نہیں کیا ؛ تو اس وجہ سے وہ ترک واجب کے مرتکب ہوئے ؛ اور کسی دوسرے کو والی تسلیم کرلیا ۔ تب بھی جس امام سے مقصود امامت حاصل ہوسکتے ہیں وہ وہی امام ہے جسے والی مقرر کیا جاچکا ہے۔نہ کہ وہ مغلوب و مقہور امام جو کہ عاجز ہے۔مان لیا کہ وہ حاکم و والی متعین کیے جانے کا مستحق تھا ؛ مگر اسے والی نہیں بنایا گیا۔تو گناہ اس پر ہوگا جس نے اس کا حق مارا ہے ؛ اورراہ حق کو ترک کیا ہے ۔ ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جنہوں نے نہ ہی کسی کا کوئی حق مارا اور نہ ہی کسی پر کوئی ظلم کیا ۔

شیعہ کہتے ہیں : ’’ امام [حاکم ] مقرر کیا جانا واجب ہے ؛ پس یہی مہربانی ہے اور اس میں بندوں کے لیے مصلحت ہے ۔‘‘

صفحہ 1 از 6