مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل - ردِ…

مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

جواب : جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ جس متعین شخص کی ولایت کا حکم دیا جائے گا ؛ لوگ اسے متعین نہیں کریں گے۔تو پھر اس کو والی مقرر کرنے کا حکم دینا جسے لوگ اپنا والی و حاکم مقرر کریں گے‘ اور اس سے فائدہ اٹھائیں گے ‘ زیادہ بہتر تھا کہ اس کا حکم دیا جاتا؛ نہ کہ اس آدمی کا حکم صادر ہوتا جسے انہوں نے اپنا حاکم تسلیم ہی نہ کرنا تھااور نہ ہی اس کی ولایت سے کوئی فائدہ حاصل ہونا تھا۔ جیسا کہ نماز کی امامت اور[ لوگوں کے درمیان فیصلہ کے لیے] جرگہ دارکا کہا جاتا ہے ۔ توپھر اس نص کا کیا عالم ہوگا جس کے بارے میں رافضی دعوی کرتے ہیں ؛ کیا یہ سب سے بڑا جھوٹ اور افتراء نہیں ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مستقبل میں پیش آنے والے امور[تفرقہ بازی ] کے متعلق خبر دی تھی۔ اور اپنے بعد واقع ہونے والے تفرقہ سے آگاہ کیا تھا۔ توپھراگر آپ صراحت کے ساتھ ایسے شخص کو امام بنانے کا حکم بھی دیتے جس کے بارے میں آپ کو علم ہوتا کہ لوگ اسے اپناامام نہیں بنائیں گے؛ بلکہ اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو اپنا امام بنائیں گے ۔ جس سے مقصود ِ امامت و ولایت حاصل ہوسکے۔ اور یہ کہ جب معاملہ اس منصوص علیہ امام تک پہنچے گا تو قتل و غارت گری ہوگی ؛ اور لوگوں کا خونِ ناحق بہایا جائے گا؛ اور اس منصوص علیہ امام سے امت کو کوئی خیر حاصل نہیں ہوگی؛ او رنہ ہی اس سے وہ مقصود ِ امامت و ولایت امور حاصل ہوں گے جو اس کے علاوہ دوسرے ائمہ سے حاصل ہوجائیں گے ؛ توپھر اس وقت منصوص علیہ امام کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو امام بنانا واجب ہوجاتا ہے ۔

اس کی مثال یہ ہے کہ ولی امر [حاکم ] کے پاس دو افراد تھے ؛ اور وہ جانتا تھا کہ اگر ان میں سے ایک کو عامل بنادیا جائے تو لوگ اس کی بات مانیں گے اور اطاعت کریں گے ؛ اور اس کے ہاتھوں پر علاقے فتح ہوں گے؛ وہ جہاد کو قائم کرے گا اوردشمن کو زیر کریگا۔اور اگر دوسرے کو عامل بنائے گا تو لوگ اس کی اطاعت نہیں کریں گے ؛ اور نہ ہی وہ کوئی علاقہ فتح کرسکے گا؛ بلکہ اس کے دور میں رعیت میں فتنہ و فساد برپا ہوگا۔ تو پھر ہر عاقل جانتا ہے کہ اس صورت میں لازم ہوگا کہ اس آدمی کو ولایت عطا کی جائے جس کے ہاتھوں خیرو بھلائی حاصل ہو۔ نہ کہ اس آدمی کو اختیار دیے جائیں جس سے کوئی بھلائی و خیر حاصل نہ ہو۔ بلکہ اس کی وجہ سے رعیت ہی فساد کا شکار ہوجائے۔ تو پھر جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تینوں خلفاء کے بارے میں جانتے تھے کہ ان کے ذریعہ سے امت کے لیے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ اور ان سے کیاکچھ امت کو مصلحتیں دین ودنیا میں حاصل ہوں گی؛ پھر ان کی امامت کے بارے میں کو ئی نص و صراحت موجود نہ ہو؛ اور ایسے امام کی امامت پر نص موجود ہو جس کی نہ ہی اطاعت کی جائے اورنہ ہی اس سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہو ۔بلکہ اس کے دور میں قتل و غارت گری ہو؛ نہ ہی وہ دشمن پر قابو پا سکتا ہواورنہ ہی اپنے ماننے والوں کی اصلاح کرنے پر قادر ہو۔ توکیا خواہ کوئی کتنا بڑا ظالم اور فسادی ہی کیوں نہ ہو ؛کسی جاہل کے علاوہ کوئی بھی ایسے انسان کو عامل بنا سکتا ہے ؟

اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جہالت اور ظلم سے بری ہیں ۔ جب کہ شیعہ اللہ اوراس کے رسول کی طرف لوگوں کی مصلحت اور راہ ِ حق سے کجی اختیار کرنے کو منسوب کرتے ہیں کہ انہوں نے وہ راہ اختیار کی جس میں فساد کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔

اگر شیعہ کہیں کہ :’’ یہ فساد لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے پیدا ہوا نہ کہ امام کی کوتاہی کی وجہ سے۔‘‘

توان سے کہا جائے گا کہ: کیا ایسے انسان کی ولایت میں مصلحت نہیں ہے لوگ جس کی اطاعت کرتے ہوں ‘اوریہ اس کی نسبت بہتر نہیں ہے لوگ جس کی نافرمانی کریں اور مصلحت حاصل نہ ہو؟ بلکہ فساد ہی پیدا ہو۔ اگر کسی انسان کا بیٹا ہو؛ اوراس کے لیے ادب سکھانے والے دو اتالیق ہوں ؛ جب اس بچے کو ان دو میں سے ایک اتالیق کے سپرد کیا جائے تو وہ علم و ادب سیکھے۔ اور جب دوسرے کے پاس بھیجا جائے تو بچہ بھاگ جائے ‘ [اوراس سے کچھ بھی نہ سیکھے ] تو کیا پھر اس بچے کو پہلے اتالیق کے سپرد کرنا زیادہ بہتر اور مناسب نہیں ؟

اگر یہ کہیں کہ : دوسرا اتالیق افضل ہے ۔ تو ہم پوچھتے ہیں جب بچے کے اس سے بھاگ جانے کی وجہ سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوسکتا ہو تو پھر اس کے افضل ہونے کا کیا فائدہ [اور کونسی وجہ فضیلت ہے ]؟

اگر کسی عورت کو دو آدمی نکاح کا پیغام بھیجیں ؛ ان میں سے ایک آدمی دوسرے سے افضل ہو۔ لیکن وہ عورت اس کو نا پسند کرتی ہو؛ اگر وہ اس آدمی سے شادی کربھی لے تو اس کی بات نہ مانے ۔ بلکہ اس سے جھگڑا کرتی رہے اورتکلیف دیتی رہے ۔ نہ ہی یہ عورت اس مرد سے کوئی فائدہ حاصل کرسکے اورنہ ہی وہ مرد اس عورت سے کوئی فائدہ حاصل کرسکے۔ جب کہ دوسرے آدمی سے یہ عورت محبت کرتی ہے ‘ وہ اس سے محبت کرتا ہے ؛ اور اگر ان کی آپس میں شادی ہوجائے تو اس سے مقاصد نکاح پورے ہوسکیں ۔تو پھر کیا باتفاق اہل عقل و دانش اس مفضول آدمی سے شادی کرنا زیادہ بہتر نہیں ہے ؟ جو آدمی اس دوسرے سے شادی کا کہے ‘ وہ اس سے زیادہ بہتر ہے جو پہلے آدمی سے شادی کا کہہ رہا ہے ۔ توپھر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ایسی بات کیوں منسوب کی جاتی ہے جس پر کسی ظالم وجاہل کے علاوہ کوئی بھی انسان راضی نہیں رہ سکتا ؟

یہ ایسے امور ہیں جن کا باطل ہونا معلوم ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ [خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے] افضل تھے؛ اورآپ امارت کے زیادہ حق دار تھے۔مگر آپ کی ولایت سے وہی کچھ حاصل ہوسکتا تھا ؛ جو کہ حاصل ہوا۔ آپ کے علاوہ دوسرے لوگ ظالم تھے ؛ مگر ان سے مصلحتیں اورفوائد حاصل ہوئے ۔ اگر ایسے نہ ہوتا تو معاملہ بالکل الٹ ہوتا ۔ نہ ہی مصلحت حاصل ہوتی ؛ نہ ہی لوگ اطاعت کرتے ۔

صفحہ 2 از 6