مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل - ردِ…

مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

اس مسٔلہ میں اہل سنت و الجماعت کا مذہب سچی خبر اور دانشمندانہ قول ہے۔جب کہ رافضیوں کا مذہب جھوٹی خبر اور احمقوں کا قول ہے ۔ اہل سنت والجماعت اس امیر یا حاکم یاخلیفہ کو مانتے ہیں جو شان و شوکت اور قوت والا ہو؛ اوروہ مقصود ولایت مصلحتیں پوری کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔ جیسا کہ نماز کا امام وہی ہوسکتا ہے جو لوگوں کو نماز پڑھائے ؛ اورلوگ اس کی اقتداء کریں ۔ وہ انسان ہرگز امام کا مستحق نہیں ہوسکتا جو امام بنا پھرے اور لوگوں کو کبھی ایک نماز بھی نہ پڑھائے۔ لیکن اسے امام ہونا چاہیے تھا۔ حقیقی امام میں اور جسے امام ہونا چاہیے ان دونوں کے درمیان جو فرق ہے ؛ وہ کسی بھی اہل خرد و دانش پر مخفی نہیں ہے۔

[شیعہ ] کہتے ہیں :

’’ بیشک یہ امام نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کرتا ہے برائی اور گناہ کے کاموں پر نہیں ۔پس اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں میں اس کی اطاعت کی جائے گی ‘ نافرمانی اور گناہوں کے کاموں میں نہیں ۔ اور اس کے خلاف شمشیر بکف ہوکر خروج نہیں کیا جائے گا۔ احادیث نبویہ اسی پر دلالت کرتی ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جو شخص اپنے امیر سے کوئی بری حرکت صادر ہوتی دیکھے تو صبر سے کام لے اس لیے کہ جو شخص اطاعت سلطان سے ایک بالشت بھر باہر نکلا اور پھر اسی پر اس کی موت واقع ہوگئی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الفتن ۔ باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ ’’ سترون بعدی امور تنکرونھا( ح:۷۰۵۴)۔ صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ۔ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین(ح:۱۸۴۹) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جو اطاعت سے نکلا اور پھر جماعت کو چھوڑ کر مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے، اور جو طرف داری اور تعصب کی خاطر لڑتا ہوا مارا جائے تو وہ میری امت میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح مسلم۔ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین (ح: ۱۸۴۸)۔ایک روایت میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جس نے اطاعت سے ہاتھ کھینچا تو وہ روز قیامت اﷲ تعالیٰ کو ملے گا اور اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی (خلیفہ و امام) کی بیعت کا جواز نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ صحیح مسلم (ح: ۱۸۵۱) نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اﷲ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت روا نہیں ، اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔‘‘بخاری(ح: ۷۲۵۷) حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’امیر وخلیفہ کی بات سننا اور اس پر عمل پیرا ہونا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے، خواہ وہ بات اسے پسند ہو یانا پسند ، البتہ اگر اسے اﷲ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھرسننا ضروری ہے، نہ اطاعت کرنا۔‘‘ بخاری (حدیث:۲۹۵۵) ]

اورروایت کے یہ الفاظ ہیں :’’بیشک جو کوئی جماعت سے ایک بالشت بھر جدا ہوا اور پھر اسی پر اس کی موت آگئی تو جاہلیت کی موت میں مرا۔‘‘

پس صاحب ِ شریعت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم کے خلاف خروج اورمسلمان کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے کو حرام ٹھہرایا ہے ۔ اور حاکم میں برائیاں دیکھ کر ان پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ حکم کسی متعین حاکم ؛ متعین امیر یا جماعت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ جو اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔اور جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی کسی عصبیت کی بنا پر غصہ کرتے ہوئے ؛اورعصبیت کی طرف بلایا؛ یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل کردیا گیا ؛تو وہ جاہلیت کے طور پر قتل کیا گیا اور جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک وبد سب کو قتل کیا کسی مومن کا لحاظ کیا اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا تو وہ میرے دین پر نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔‘‘ [مسلِم 3؍1476 ؛ کتاب الإِمارۃِ، باب وجوبِ ملازمۃِ جماعۃِ المسلِمِین.... ؛ سننِ النسائِیِ 7؍122 کِتاب تحرِیمِ الدمِ، باب التغلِیظِ فِیمن قاتل تحت رایۃ عِمِیۃ ؛ المسندط. المعارِفِ) 15؍87 ۔ ؛ وجاء الحدِیث مختصرا فِی سنن ابن ماجہ 2؍1302 (کتاب الفِتنِ، باب العصبِیۃ]

پس اس حدیث مبارک میں اطاعت گزاری سے خروج اور جماعت سے علیحدگی کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اور اسے جاہلیت کی موت قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ اہل جاہلیت کا کوئی بڑا سربراہ نہیں ہوا کرتا تھا جو انہیں باہم جمع کرسکے۔ جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ کسی نہ کسی کو سربراہ بنالینے کا حکم دیا کرتے تھے۔ حتی کہ آپ نے حکم دیا کہ اگر سفر میں تین لوگ ہوں تو وہ ایک کو اپنا امیر بنالیں ۔ یہ حکم آپ کا کم سے کم تعداد کے لیے مختصر ترین اجتماع کے لیے ہے ۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں آپ سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہیں وہ مجھے نہ پالے۔ چنانچہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے، اللہ نے ہمارے پاس یہ خیر بھیجی تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟

تو آپ نے فرمایا : ہاں ۔ میں نے پوچھا کہ: اس شر کے بعد بھی خیر ہوگا؟

آپ نے فرمایا : ہاں ۔ اور اس میں کچھ دھواں ہوگا۔ میں نے پوچھا کہ: اس کا دھواں کیا ہوگا؟

آپ نے فرمایا: ’’ وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ میرے طریقے کے خلاف چلیں گے؛ ان کی بعض باتیں تو تمہیں اچھی نظر آئیں گی اور بعض باتیں بری نظر آئیں گی۔‘‘

میں نے پوچھا :کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔ کچھ لوگ جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا وہ اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔‘‘

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ان لوگوں کی کچھ حالت ہم سے بیان فرمائیں ؟

آپ نے فرمایا کہ:’’ وہ ہماری قوم میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے۔‘‘

میں نے عرض کیا : ’’ اگر میں وہ زمانہ نہ پالوں ، تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ‘‘؟

فرمایا کہ:’’ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہو۔‘‘

صفحہ 3 از 6