مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل - ردِ…

مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

میں نے کہا : اگر ان کی جماعت اور امام نہ ہو تو؟

فرمایا کہ:’’ ان تمام جماعتوں سے علیحدہ ہوجاؤ اگرچہ تجھے درخت کی جڑچبانی پڑے یہاں تک کہ اس حال میں تیری موت آجائے‘‘ ۔

ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں : میں نے پوچھا کہ اس شر کے بعد بھی خیر ہوگی؟

آپ نے فرمایا کہ :ہاں ۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کیسے ہوگا؟

آپ نے فرمایا:’’ میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری راہ پر نہیں چلیں گے او رنہ ہی میری سنت کی پیروی کریں گے۔ اور ان میں ایسے لوگ ان کے بڑے ہوں گے جن کے دل شیاطین کے دل انسانی جسموں میں ہوں گے۔‘‘میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں ان حالت کو پالوں تو پھر کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’امیر کی بات سنو اور مانو؛بھلے وہ تمہاری پیٹھ ٹھونکے اور تمہارا مال ناحق چھین لے؛ مگرتم بات سنو اور اطاعت گزاری کرو۔‘‘ [صحیح مسلم 3؍1475 ، وفِیہِ: ویہدون بِغیرِ ہدیِی ؛ وفِی شرحِ النووِی12؍236: یہتدون ، و الحدِیث أیضا فِی البخاری 4؍199 ؛ کتاب المناقِبِ، باب علاماتِ النبوۃِ فِی الإِسلامِ،9؍51 ؛ کتاب الفِتنِ؛ سنن ابن ماجہ 2؍1317؛ ِکتاب الفِتنِ، باب العزلۃِ۔]

اس کی تفسیر اور وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے؛ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟

فرمایا : دلوں کے فساد پر بظاہر صلح ہوگی۔ اور اس میں اور ان میں ایک جماعت گندگی پر ہوگی [دلوں میں کدورت و نفرت ہوگی‘‘]۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! دلوں میں فساد پر ظاہر میں صلح کا کیا مطلب ہے؟ تو فرمایا کہ : ’’قوم کے قلوب اس حالت سے واپس نہ پھریں گے جس پر وہ پہلے تھے۔‘‘ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ فرمایا کہ:’’ ایک اندھا، بہرا فتنہ ہوگا کہ اس میں آگ کے دروازہ پر بلانے والے لوگ ہوں گے پس اے حذیفہ اگر تو جنگل میں جڑیں کھا کر مرجائے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے کہ اس سے کہ تو ان میں سے کسی کی پیروی کرے [کیونکہ سب ہی غلط ہوں گے]۔‘‘ [یہ حدیث سنن ابو داؤد میں ان الفاظ میں ہے: ’’.... حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی فتنہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ’’ اے حذیفہ کتاب اللہ میں جو کچھ ہے؛ اسے معلوم کر اور اس کی اتباع کر تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ میں نے عرض کیا:’’ کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟ سنن ابوداد:جلد سوم:حدیث نمبر 854۔]

پس پہلی خیر و بھلائی نبوت اور خلافت نبوت تھی جس میں کوئی فتنہ نہیں تھا۔ خرابی اور برائی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی۔ جب لوگ آپس میں متفرق ہوگئے۔اور ان کا حال جاہلیت کے حال سے مشابہ ہوگیا جس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔

یہی وجہ ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’جب یہ فتنہ بپا ہوا؛ اس وقت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؛و رضی اللہ عنہم وافر تعداد میں تھے۔ پس ان کا اس بات پر اجماع ہوا کہ جو بھی خون یا مال یا شرمگاہ تاویل قرآن کی وجہ سے پامال ہو؛ وہ رائیگاں ہے۔ اور وہ اسے جاہلیت کی منزلت پر شمار کرتے تھے۔

پس یہ واضح ہوگیا کہ وہ اس قسم کے خون کو ناقابل ضمانت سمجھتے تھے۔جیساکہ اہل جاہلیت جو ایک دوسرے کا خون خرابہ کرتے تھے اس کی کوئی ضمانت یا تاوان [دیت ] نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے کہ تاوان؍ضمانت اس وقت ہوتی ہے جب اس کی حرمت کا علم ہو۔ ہاں جب حرمت کے حکم سے جہالت ہو؛ جیسا کہ کفار اور مرتدین اور اہل قبلہ میں سے متأولین کا حال ہے؛ تو اس موقع پر کوئی تاوان؍ ضمانت نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پر اس مقتول کی دیت یا تاوان نہیں ڈالا تھا جسے انہوں نے تاویل کی بنا پر قتل کردیا تھا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا:

(( أقتلتہ بعد أن قال لا ِإلہ ِإلا اللّٰہ؟ أقتلتہ بعد أن قال لا ِإلہ ِإلا اللّٰہ؟ أقتلتہ بعد أن قال لا ِإلہ ِإلا اللّٰہ؟۔))[مسلِم 1؍96 کتاب الإِیمانِ، باب تحرِیمِ قتلِ الکافِرِ بعد أن قال لا إِلہ ِإلا اللّٰہ . وہو فِی سننِ أبِی داود 3؍61 کتاب الجہاد، باب علی ما یقاتِل المشرِکون۔]

یہی وجہ ہے کہ حدود صرف ان لوگوں پر قائم ہوتی ہیں جنہیں حرمت کا علم ہو۔

دوسری خیر اس وقت حاصل ہوئی جب حضرت امیر معاویہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہماکے مابین صلح ہوئی؛اور لوگوں کے مابین اجتماع ہوگیا۔لیکن اس اجتما میں پرا گندگی تھی دلوں میں وہی کدورت پر مشتمل احساس باقی تھا ۔ اور دلوں میں باقی یہ میل ویسے ہی تھا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشین گوئی کی تھی؛ ویسا ہی پیش بھی آیا۔

یہ حدیث حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہماکی خلافت کے زمانہ میں فتنہ پیدا ہونے سے پہلے بیان کی تھی۔ اورجب آپ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل ہونے کی اطلاع ملی تو آپ کو یقین ہوگیا کہ وہ فتنہ آ پہنچا ہے۔ اس کے چالیس دن بعد لڑائی شروع ہونے سے پہلے آپ کا انتقال ہوگیا۔

یہ ویسے ہی تھا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں خبر دی تھی کہ : اس کے بعد ایسے حکمران آئیں گے؛ جو میری راہ پر نہیں چلیں گے؛ اور میری سنت کی اتباع نہیں کریں گے۔ کیونکہ ان میں ایسے حاکم ہوں گے جن کے دل انسانی جسموں میں شیاطین کے دل ہوں گے۔ اور پھر آپ نے امیر کی اطاعت گزاری اور بات سننے اور ماننے کا حکم دیا؛ اگرچہ وہ ظلم کرتے ہوئے مارے بھی اور مال بھی چھین لے۔ تو اس سے ظاہر ہوا کہ جس امام کی اطاعت کی جائے گی ؛ اس سے مراد وہ حاکم ہے جسے سلطان اور غلبہ حاصل ہو۔ خواہ وہ عادل ہو یا ظالم ۔

اور ایسے ہی صحیح مسلم میں ہے: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 4 از 6