مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل - ردِ…

مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

((من خلع یدا مِن طاعۃِ إِمامٍ لقِی اللہ یوم القِیامۃِ لا حجۃ لہ، ومن مات ولیس فِی عنقِہِ بیعۃ مات مِیتۃ جاہِلِیۃ، لکِنہ لا یطاع أحد فِی معصِیۃِ اللہِ۔))[سبق تخریجہ]

’’جس کسی نے امام کی اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے کوئی حجت نہیں ہوگی۔ اور جو کوئی اس حال میں مرے کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مریگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔‘‘

صحیح مسلم میں ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کو بھیجا؛ اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقرر فرمایا۔ اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس کی بات سنیں اور اطاعت کریں ۔ انہوں نے امیر کو کسی بات کی وجہ سے ناراض کردیا ؛تو امیر نے کہا میرے پاس لکڑیاں جمع کرو۔ انہوں نے جمع کردیں ۔

پھر کہا: آگ جلاؤ؛ تو انہوں نے جلادی۔ پھر کہا :’’کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حکم کو سننے اور اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟

انہوں نے کہا: کیوں ؛ نہیں ۔ تو اس نے کہا:’’ آگ میں کود پڑو۔‘‘

تو انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا:’’ ہم آگ سے بھاگ کر ہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسی بات پر ڈٹ گئے۔ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بجھا دی گئی۔ جب وہ واپس ہوئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ؛تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اگر وہ اس میں داخل ہوجاتے تو اس سے نکل نہ سکتے اطاعت تو نیکی میں ہی ہوتی ہے۔‘‘ [فِی البخاری 5؍161؛ کتاب المغازِی، باب سرِیۃِ عبدِ اللہِ بنِ حذافۃ السہمِیِ، 9؍63 ؛ کتاب الأحکامِ، باب السمعِ والطاعۃِ لِلإِمامِ ما لم تکن معصِیۃ ؛ مسلِم 3؍1469 ؛ کِتاب الإِمارۃِ، باب وجوبِ طاعِ الأمرائِ فِی غیرِ معصِیۃ ؛ المسندِ؛ ط. المعارِفِ ج 9 رقم 622]

اورایک روایت کے الفاظ ہیں :

((لا طاعۃ فِی معصِیۃِ اللّٰہِ ِإنما الطاعۃ فِی المعروفِ۔ )) [فِی البخاری 9؍88 ِکتاب أخبارِ الآحادِ، الباب الأول ؛ مسلِم 3؍469؛ الِکتاب والباب السابِقینِ فِی التعلِیقِ السابِقِ ؛ سننِ بِی داود 3 ۔ 56 کتاب الجہاد، باب فِی الطاعۃ؛ سننِ النسائِیِ 7؍142؛ کتاب البیعِ، باب جزائِ من أمِر بِمعصِیۃ فأطاع ؛ المسندِ؛ ط. المعارِفِ2؍98. ۔]

’’اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی اطاعت گزاری نہیں ؛ بیشک اطاعت گزاری نیکی کے کاموں میں ہے۔‘‘

اور ایسے ہی صحیحین حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(( علی المرئِ المسلِمِ السمع والطاعۃ فِیما أحب وکرِہ، ِإلا أن یأمر بِمعصِیۃ ، فإِن أمِرَ بِمعصِیۃ فلا سمع ولا طاعۃ۔))[سبق الحدیث]

’’ مسلمان انسان پر پسندیدگی اور نا پسندیدگی میں سمع و اطاعت واجب ہے۔ سوائے اس کے کہ اسے کسی گناہ کا حکم دیا جائے۔ اگر اسے کسی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ ہی سمع ہے اور نہ ہی اطاعت۔‘‘

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور ہم نو شخص تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ دیکھو میرے بعد حکمران ہوں گے جو شخص ان کی جھوٹی بات کو سچ کہے (خوشامد اور چاپلوسی کی وجہ سے اور حق کو باطل قرار دے)اور ظلم و زیادتی کرنے میں اس کی مدد کرے تو وہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا نہ میں ان سے کچھ تعلق رکھتا ہوں ؛ وہ قیامت کے دن میرے حوض [یعنی حوض کوثر] پر بھی نہ آئے گا اور جو شخص ان کے جھوٹ کو سچ نہ کہے ]بلکہ اس طرح کہے جھوٹ ہے یا خاموش رہے اور ظلم کرنے میں اس کی مدد نہ کرے تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا۔‘‘ [اسے أحمد، اورنسائی نے روایت کیا ؛ یہ الفاظ نسائی۷؍۱۴۷ کے ہیں ۔اور تِرمِذِی۲؍۶۱؛ نے بھی روایت کیا ہے ؛اور کہا ہے:حدِیث صحِیح غرِیب . نیز دیکھیں : جامع الاصول لابن اثیر ۴؍ ۴۶۰۔ ]

صحیحین میں ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو بلایا :

’’اور ہم نے آپ کی بیعت کی آپ نے جن باتوں کی ہم سے بیعت لی وہ یہ تھیں ، کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر ہم اپنی خوشی اور اپنے غم میں اور تنگدستی اور خوشحالی اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور حکومت کے لئے حاکموں سے نزاع نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر، جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔‘‘[البخاری 9؍47 ؛ کتاب الفِتنِ، باب قولِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سترون بعدِی أمورا تنکِرونہا ؛ مسلِم 3؍1470 ۔ 1کِتاب الإِمارۃِ، باب وجوبِ طاعۃِ الأمراِ فِی غیرِ معصِیۃ۔ ]

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

’’ عنقریب فتنے اور فساد ظاہر ہوں گے اور جو اس امت کی جماعت کے معاملات میں تفریق ڈالنے کا ارادہ کرے اسے تلوار کے ساتھ مار دو وہ شخص کوئی بھی ہو۔‘‘[فِی مسلِم 3؍1479 ؛ کِتاب الإِمارۃِ، باب حکمِ من فرق أمر المسلِمِین وہو مجتمِع ؛ سننِ أبِی داود 4؍334 کتاب السنۃِ، باب فِی قتلِ الخوارِج ؛ المسندِ ط. الحلبِیِ4؍341 ؛ فِی موضِعینِ. وقال النووِی فِی شرحِہِ علی مسلِم12؍241: الہنات: جمع ہن وتطلق عل کلِ شی، والمراد بِہا ہنا: الفِتن والأمور المحدث.]

اور اسی کتاب میں ایک دوسری روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے :

’’تم اپنے معاملات میں کسی ایک آدمی پر متفق ہو پھر تمہارے پاس کوئی آدمی آئے اور تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنا چاہے تو اسے قتل کر دو۔‘‘ [الحدِیث فِی مسلِم 3؍1480۔الموضِع السابِق؛ وفِیہِ: وأمرکم جمِیع علی رجل واحِد.]

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 5 از 6