مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل - ردِ…

مسئلہ امامت میں اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کی تفصیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

عنقریب ایسے امرا ہوں گے جن کے خلاف شریعت اعمال کو تم پہچان لوگے اور بعض اعمال نہ پہچان سکو گے پس جس نے اس کے اعمال بد کو پہچان لیا وہ بری ہوگیا جو نہ پہچان سکا وہ محفوظ رہا لیکن جو ان امور پر خوش ہوا اور تابعداری کی [وہ محفوظ نہ رہا] صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں ۔

اور صحیح مسلم میں ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

((من ولِی علیہِ وال فرآہ یأتِی شیئاً مِن معصِیۃِ اللّٰہِ، فلینکِر ما یأتِی مِن معصِیۃِ اللّٰہِ، ولا ینزِعن یداً مِن طاعۃ۔ ))[سبق الحدیث]

’’جس پر کسی کو والی بنایا گیا؛ تو وہ دیکھے والی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ جووہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام کرتا ہے انہیں برا سمجھے مگر اس کی اطاعت سے فروکشی نہ کرے۔‘‘

[پہلی جلد ختم ؛ دوسری جلد شروع ]


صفحہ 6 از 6