فصل: ....حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

فصل: ....حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ 

حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ کبار تابعین میں سے تھے ؛ آپ علم اور دینداری کے اعتبارسے سردار شمار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے والد اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ؛ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ؛ ابو رافع رضی اللہ عنہ غلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ؛ اور امہات المؤمنین میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ؛ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ‘ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے علم حاصل کیا۔ ان کے علاوہ مروان بن حکم ؛ سعید بن مسیب ؛ عبد اللہ بن عثمان بن عفان ؛ ذکوان مولی عائشہ ؛ وغیرہ رحمہم اللہ سے بھی کسب فیض کیا۔ آپ سے علم نقل کرنے والوں میں سلمہ بن عبد الرحمن ؛ یحی بن سعید انصاری ؛ زہری ؛ ابو زناد؛ زید بن اسلم اور ان کے بیٹے جعفر رحمہم اللہ کے نام شامل ہیں ۔یحی بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے آپ کو مدینہ کے ہاشمیوں میں سب سے افضل پایا ۔‘‘محمد بن سعد رحمہ اللہ طبقات میں فرماتے ہیں :

’’آپ کثرت کے ساتھ حدیث روایت کرنے والے ثقہ ؛ مامون؛ بلند قدر اور عالیشان عالم تھے ۔‘‘

حماد بن زید نے یحی بن سعید الانصاری سے روایت کیا ہے : وہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ کو سنا ؛آپ کو میں نے سب ہاشمیوں میں سے افضل پایا ؛ آپ فرما رہے تھے : ’’ اے لوگو! ہم سے اسلام کے اصولوں کے مطابق محبت کرو ۔ تم ہم سے ایسی محبت کرتے رہے کہ اب تمہاری محبت ہمارے لیے عار بن گئی ہے۔‘‘

شیبہ بن نعامہ کا قول ہے : حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ لوگوں کو بخیل لگتے تھے ۔جب آپ کا انتقال ہوگیا تو پتہ چلا کہ آپ چپکے سے خاموشی میں اہل مدینہ کے ایک سو گھرانوں کی مدد کیا کرتے تھے۔‘‘

نماز میں آپ کا خشوع ؛ خفیہ صدقات وغیرہ کے علاوہ آپ کے کئی ایک ایسے فضائل ہیں جو لوگوں کے مابین بڑے معروف ہیں ۔ آپ کی دینداری اور خیر خواہی کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے لوگوں کی مجلس میں شریک ہوتے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے غلام زید بن اسلم رحمہ اللہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے ۔ اور تابعین میں سے آپ کا شمار بڑے اہل علم اور دیندار لوگوں میں سے ہوتا ہے۔ آپ سے کہا جاتا : آپ اپنی قوم کی مجلس چھوڑ کر اس آدمی کی مجلس میں بیٹھتے ہیں ؟ ۔ تو آپ جواب میں فرمایا کرتے : ’’ انسان وہیں بیٹھتا ہے جہاں وہ اپنے دل کی اصلاح پاتاہے ۔‘‘

٭ باقی رہا مسئلہ کہ آپ کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے کہ آپ رات کو ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے ؛ تو اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے ۔ شریعت ایسے امور کو نا پسند کرتی ہے۔نیز ایسا کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔ ایسی باتوں کو مناقب میں ذکر کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ۔‘‘

[اشکال ]: شیعہ مضمون نگار یہ بھی کہتا ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن حسین کا نام ’’زین العابدین ‘‘ تجویز کیا۔

[جواب]: یہ بے اصل بات ہے اور کسی عالم نے یادیندار انسان نے ایسی کوئی روایت بیان نہیں کی[وأورد ابن الجوزِیِ فِی کتابِہِ الموضوعاتِ: ۲؍۴۴، ۴۵۔ ہذا حدِیث موضوع بِلا شک، والمتہم بِہِ الغلابِی۔قال الدارقطنِی: کان یضع الحدِیث وانظر عن ہذا الحدِیثِ الموضوعِ: اللآلِیء المصنوعۃ:۱؍۴۵۱، ۴۵۳،الفوائِد المجموع، ص : ۴۱۸،تنزِیہ الشرِیعۃِ: ۱؍ ۴۱۵۔]۔

[اشکال ]: شیعہ کا یہ قول کہ: ’’ ابو جعفر محمد بن علی [بن حسین ]اپنے زما نہ کے سب سے بڑے اور بہترین عالم اور دیندار تھے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ آپ کو باقر اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آپ نے تمام علوم پر دسترس حاصل کرلی تھی ؛ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ کی پیشانی پر سجدہ کے نشانات تھے۔‘‘ 

[جواب]:آپ کے متعلق زمانے کا سب سے بڑا عالم ہونے کا دعویٰ بلا دلیل ہے۔ امام زہری اسی زمانہ میں بقید حیات تھے اور وہ لوگوں کے نزدیک ابوجعفر رحمہ اللہ کی نسبت بڑے عالم تھے۔ یہ صریح جھوٹ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے ابو جعفر کا نام باقر تجویز کیا تھا۔ اہل علم کے ہاں کسی بھی ایسی روایت کی کوئی خبر نہیں ملتی۔بلکہ اس کا شمار من گھڑت روایات و حکایات میں ہوتا ہے۔ یہی حال حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب سلام پہنچانے والی روایت کا ہے۔ یہ روایت بھی موضوع اور من گھڑت ہے۔ لیکن اس راوی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دیگر چند روایات نقل کی ہیں ۔جیسے کہ غسل اور حج کی احادیث ؛ اور ان کے علاوہ دیگر بھی کئی ایک صحیح احادیث منقول ہیں ۔ آپ اپنے والد علی بن حسین کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت تشریف لے گئے جب وہ نابینا ہوچکے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ان لوگوں سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے ۔ آپ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے علم حاصل کیا تھا۔ اوراس کے ساتھ ہی صحابہ کرام میں سے ابن عباس رضی اللہ عنہما ابو سعید ؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی روایات نقل کی ہیں ۔ ان کے علاوہ سعید بن المسیب ؛محمد بن الحنفیہ ؛ وعبید اللہ بن ابی رافع منشی حضرت علی؛ ابو اسحق ہمدانی؛ عمرو بن دینار زہری ؛ عطا ء ابن ابی رباح؛ ربیعہ بن ابی عبد الرحمن رحمہم اللہ سے بھی کسب فیض کیا ہے۔ امام اعرج عمر میں آپ سے بڑے تھے۔ ان کے بیٹے جعفر ؛ ابن جریج ؛ یحی بن ابی کثیر اور اوزاعی وغیرہ۔ رحمہم اللہ ۔سے بھی کسب علم کیا ہے ۔

جعفر بن محمد رحمہ اللہ کی مدح و ستائش:

صفحہ 1 از 2