فصل: ....حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل: ....حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

جعفر الصادق رحمہ اللہ اہل علم و دین کے بہترین لوگوں میں سے تھے ۔ آپ نے اپنے دادا سے کسب فیض کیا ؛ ان کی والدہ ام فروہ بنت القاسم بن محمد بن ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ تھیں ۔ان کے علاوہ محمد بن المنکدر ؛ نافع مولی ابن عمر؛ زہری؛ عطاء ابن ابی رباح ؛ اور دوسرے تابعین کرام رحمہم اللہ سے بھی علم حاصل کیا۔ آپ سے یحی بن سعید الانصاری ؛ مالک بن انس ؛ سفیان ثوری ؛ سفیان بن عیینہ ؛ ابن جریج ؛ یحی بن سعید القطان ؛ حاتم بن اسماعیل؛ حفص بن غیاث؛ محمد ابن اسحق ابن یسار رحمہم اللہ نے کسب فیض اور نقل علم کیا ہے۔ عمرو ابن ابو المقدام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ جب میں امام جعفر بن محمد رحمہ اللہ کو دیکھتا تھا تو پتہ چلتا تھا کہ آپ انبیاء کرام علیہم السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔‘‘[أبو عبدِ اللہِ جعفر بن محمدِ بنِ علِیِ بنِ الحسینِ بنِ علِیِ بنِ بِی طالِب، الملقب بِالصادِقِ، الِمام السادِس عِند الرافِضۃِ۔ ولِد بِالمدِینۃِ سنۃ:۸۰ وتوفِی بِہا سن:۱۴۸۔ھ؛ انظر ترجمتہ فِی: تذکِرۃِ الحفاظِ:۱؍۱۶۶، صِفۃِ الصفوِۃ۲؍۹۴، ۹۸، وفیاتِ الأعیانِ: ۱؍۲۹۱، ۲۹۲،حِلیِۃ الأولِیائِ: ۳؍۱۹۲، ۲۰۶،الأعلامِ:۲؍۱۲۱۔ وانظر عنہ ِکتاب الإِمامِ الصادِقِ لِلشیخِ محمد أبِی زہرۃ رحِمہ اللہ، ط۔ دارِ الفِکرِ العربِیِ، القاہِرِ، بِدونِ تارِیخ۔]

[اشکال ]:شیعہ مصنف آپ کی بابت کہتا ہے : ’’آپ حکومت طلبی کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوگئے ۔‘‘ 

[جواب]:یہ امامیہ کے اقوال میں تناقض کی نشانی ہے۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک امامت کا بوجھ برداشت کرنا امامت کے واجبات میں سے ہے۔ آپ کے زمانے میں آپ کے علاوہ کوئی دوسرا امام بھی نہیں تھا ۔ اگر اس عظیم الشان امر کو ادا کرنا واجب تھا تو پھر اس کے حقوق پورے کرنا نفل عبادت میں مشغول ہونے سے زیادہ اولی تھا۔

[اشکال ]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’جعفر بن محمد نے امامیہ کی فقہ اور عقائد و معارف کو خوب پھیلایا۔‘‘[جواب]:اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ جعفر بن محمد رحمہ اللہ نے وہ مسائل اختراع کیے جو متقدمین کو معلوم نہ تھے یا یہ کہ اس کے پیش رواپنے واجبات کی ادائیگی اور علم کی نشرو اشاعت میں کوتاہی کا ارتکاب کرتے رہتے تھے۔ کیا اس میں کوئی مسلمان شک کرسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام علوم و معارف اور امورِ عقائد و ایمان بوجہ اکمل سیکھے تھے ؛اور پھر انہیں آگے مسلمانوں تک بھی پہنچایا تھا۔ 

اس دعوی کامقتضی آپ کی تعریف نہیں ‘بلکہ آپ کی شان میں قدح کرنا ہے۔ بلکہ امام جعفر الصادق پر ان کے متقدمین ائمہ کی نسبت بہت زیادہ جھوٹ بولا گیاہے۔ یہ تمام تر آفات جھوٹ گھڑنے والوں کی طرف سے پیش آئی ہیں ‘آپ اس سے بری ہیں ۔حقیقت میں حضرت جعفر رحمہ اللہ سے متعلق جھوٹ کا طومار باندھنے والے اس آفت کے ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے جھوٹ موٹ کتاب البطاقہ، کتاب الجفر، کتاب الہفت،کلام فی النجوم ؛ مقدمہ رعود و بروق؛ اختلاج الاعضاء اور دیگر کتب کو ان کی طرف منسوب کر دیا تھا۔ ایسے ہی [شیعہ مفسر ] ابو عبد الرحمن[السلمی] نے اپنی تفسیر ’’ حقائق التفسیر ‘‘میں آپ پر وہ جھوٹ باندھے جن سے آپ اللہ کے نزدیک بری ہیں ۔یہاں تک کہ جو بھی انسان اپنے جھو ٹ کی دکان چمکانا چاہتا ہے ‘ وہ اسے جعفر الصادق کی طرف منسوب کردیتا ہے ۔

دروغ گوئی کی حدیہ ہے کہ’’ رسائل اخوان الصفا‘‘ بعض لوگوں کے نزدیک امام جعفر سے ماخوذ ہیں ۔ اس کا جھوٹ ہونا ہر ایک پر عیاں ہے۔اس لیے کہ امام جعفر رحمہ اللہ کا انتقال ۱۳۸ ہجری میں ہوا۔ حالانکہ یہ رسائل ان کے دو صد سال بعد اس زمانہ میں تصنیف کیے گئے تھے جب اسماعیلیہ باطنیہ نے مصر کی حکومت پر قبضہ جمایا اور قاہرہ میں المعزیہ نام سے شہر قائم کیا۔یہ سن ۳۵۰ ہجری کے بعد کی بات ہے۔اس وقت میں اس مذہب کے زور پکڑ جانے کی وجہ سے یہ رسائل تصنیف کیے گئے۔ جن کے ظاہر میں شیعیت ٹپکتی ہے اور اندر خالص کفر و شرک بھرا ہواہے۔ اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ شریعت کے پیرو ہیں اور شریعت کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ایک باطن،باطن شریعت اس کے ظاہر سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ دراصل یہ لوگ درپردہ فلسفہ زدہ لوگ تھے اور اسی اساس پر انہوں نے وہ رسائل تصنیف کیے تھے۔ نصاریٰ نے ملک شام کے جس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اس کا ذکر ان رسائل میں ملتا ہے۔ان میں سے پہلا رسالہ چوتھی صدی ہجری کے شروع میں لکھاگیا تھا۔


صفحہ 2 از 2