Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دور فاروقی کی فتوحات کے اہم دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

 اسلامی فتح کا مزاج

بعض نصاریٰ و مستشرق مؤرخین نے خلافت راشدہ کے دور کی اسلامی فتوحات کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے، ان کا گمان ہے کہ اسلامی فتوحات مذہبی جنگوں کا نتیجہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ: مسلمان مخصوص مذہبی عقیدے والے لوگ تھے لیکن انہوں نے اندھے تعصب کا سہارا لیا اور لوگوں کو ظلم و جبر کے ذریعہ سے اپنے مذہبی اصولوں کا پابند بنایا اس کے لیے سنگ دلی کا مظاہرہ کیا اور خون کی ندیاں بہائیں، وہ ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوار اٹھائے ہوتے تھے۔

(تاریخ العرب العام، سیدیو: صفحہ 133)

اس خیال کو عام کرنے میں سیڈیو، میور اور نیبور جیسے مستشرق مؤرخین نے خاص طور سے زور دیا، چنانچہ میور نیبور کے حوالے سے لکھتا ہے کہ:

’’اسلام کو ابدی مذہب بنانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی معاندانہ سازشوں کو برقرار رکھے اور تلوار کی دھار پر تمام انسانوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرے یا کم از کم عالمی سطح پر دباؤ بنائے رکھے۔ جب کہ کسی بھی مذہب میں اس بات کی قطعاً گنجائش نہیں ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو ان کی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں جنگ کرنے پر مجبور کرے، اسلام کی یہی حالت تھی۔‘‘

ان بیمار ذہنوں کا یہ گمان کہ مسلمانوں نے تلوار و طاقت کے ذریعہ سے اسلامی دعوت کو عام کیا یا یہ کہ وہ دیگر مذاہب والوں کے مقابلے میں زیادہ متعصب تھے، بہرحال ایسا برا گمان ہے جس کی مکمل تردید ضروری ہے۔

(فتح مصر بین الرؤیۃ الإسلامیۃ والرؤیۃ النصرانیۃ: صفحہ 126)

اور انہی مستشرقین میں سے بعض نے اس تہمت کی بھرپور تردید کی ہے اور اسلامی فتوحات کی خوبیوں اور اس کے بہترین مثالی کردار اور انسانیت نوازی کو خوب سراہا ہے۔ 

چنانچہ وان کریمر کہتا ہے:

’’مسلمانوں نے اپنی جنگوں میں بلند اخلاق کریمہ کا نمونہ پیش کیا۔ ان کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ان کے لیے راہبوں، عورتوں، بچوں اور معذوروں کا قتل حرام قرار دیا، اسی طرح دوران جنگ کھیتیوں کو برباد کرنا اور درختوں کو کاٹ ڈالنا بھی حرام قرار دیا۔ مسلمانوں نے اپنی جنگوں میں ان احکامات کی غایت درجہ پابندی کی، محرمات کو پامال نہیں کیا اور نہ کھیتیوں کو برباد کیا، جب کہ ان کے مقابلے میں رومی زہر آلود تیر برساتے تھے، لیکن مسلمانوں نے ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں لیا۔ رومی فوج پیش قدمی کرتی یا پیچھے پلٹتی دونوں حالتوں میں بستیوں کو لوٹتی اور آگ لگا دیتی، لیکن مسلمانوں نے اپنے بلند اور مثالی اخلاق کی حفاظت کی اور ان کی طرح انسانیت سے گری ہوئی کوئی حرکت نہیں کی۔‘‘

(الاسلام وحرکۃ التاریخ: أنور الجند: صفحہ 83)

روزنٹال کہتا ہے کہ:

’’اسلامی تہذیب و ثقافت کو تنگ نظری نہیں بلکہ اپنی وسعت نظری کی وجہ سے ترقی ملی، ایسی ترقی جس میں عقیدہ کی دعوت شامل تھی اور اس دور کی فکری تحریکات کی خامیوں کی نشان دہی تھی۔ اسلام آگے بڑھتا رہا، قوموں کے درمیان اختلاف زبان اور اختلاف عادات کی جتنی قدیم دیواریں حائل تھیں سب کو مٹا دیا اور تمام اقوام اور تہذیبوں کو موقع دیا کہ مکمل آزادی کی روح عدل و مساوات کی بنیاد پر جدید فکری زندگی کا آغاز کریں۔‘‘

(علم التاریخ عند المسلمین: ترجمہ صالح أحمد العلی: صفحہ 46)

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی کو زور زبردستی کے ذریعہ سے اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا کیونکہ انہوں نے اس فرمان الہٰی کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے:

لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِ‌ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَىِّ‌ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَيُؤۡمِنۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا‌‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت نمبر 256)

ترجمہ: دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا، اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

لوگوں نے اسلام کی خوبیوں کو دیکھا اور اسے ایک عظیم نعمت سمجھ کر قبول کیا ۔ وہ لوگ مسلمانوں کے اسلامی اخلاق سے متاثر ہوئے، انہیں اپنی زندگی میں اسلامی احکامات کی بجا آوری کرتے اور حرام کاموں سے سختی سے پرہیز کرتے دیکھا، نیز اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا کہ امیر لشکر اور اس کے ماتحت رہنے والے سبھی مجاہدین جس بات کی دعوت دیتے ہیں اسے عملاً انجام بھی دیتے ہیں، تو دوسری اقوام نے تیزی سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا اور ان کے افکار و کردار میں عظمت و شرافت کے چار چاند لگ گئے۔ بلا شبہ خلفاء اور افواج کے کمانڈر اپنی افواج کو اللہ سے استعانت، تقویٰ، اخروی زندگی کی ترجیح، خلوص وللہیت سے جہاد، رب کی رضا جوئی اور گناہوں سے دور رہنے کی نصیحت کرتے تھے۔ ان کی ساری کوشش اور دلی تمنا یہ ہوتی تھی کہ دنیائے انسانیت کو بندوں کی پرستش سے نکال کر بندوں کے رب کی عبادت کی طرف لایا جائے۔ اسی جذبۂ صادق کے نتیجہ میں فوجوں کے کمانڈر اپنی مجاہدانہ کارروائیوں میں اپنے مجاہدین سے پیش پیش رہتے تھے۔ اسی لیے ان کی بڑی تعداد اللہ کے راستے میں شہید کر دی گئی اور جب امن و قرار یا لوٹنے کا وقت ہوتا تھا تو اپنے ماتحت مجاہدین کے ساتھ ساتھ چلتے، مشقتیں اٹھاتے، دکھ درد میں ان کے شریک رہتے اور کمزوروں کی مدد کرتے۔ قائدین لشکر مجاہد ہونے کے ساتھ اول درجے کے مبلغ اور داعی اسلام بھی تھے۔ انہوں نے جنگ کے اسلامی اصولوں کو پورا پورا برتا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں نے جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر لڑائیوں کو مول لیا، وہ محض انتقامی جنگ اور خون ریزی کی داستانیں نہ تھیں جیسا کہ آج کے دور میں دوسرے ممالک کر رہے ہیں۔

(فتح مصر: دیکھیے إبراہیم المتناوی: صفحہ 127)