فوجی قائدین کے انتخاب کا فاروقی منشور
علی محمد الصلابیفوجی قائدین کے انتخاب کے لیے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کچھ امتیازی اوصاف کو معیار مقرر کرتے تھے۔ مثلاً:
1۔ قائد تقویٰ شعار، عبادت گزار ، اور شرعی احکامات کا عالم ہو
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے اور بار بار دہراتے تھے: جس نے کسی فاسق و فاجر آدمی کو جان بوجھ کر ذمہ دار بنایا تو وہ بھی اسی کی طرح مجرم ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 109)
اور جب سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو شام کے بعض علاقوں کا امیر بنانا چاہا تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا! اس ذات کی قسم !جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (امارت وذمہ داری) کو میری گردن میں ڈال کر خود گھروں میں بیٹھو۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 100، بحوالۂ مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 348)
2۔ قائد متحمل مزاج ہو جلد باز نہ ہو
جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابوعبید ثقفیؒ کو ذمہ دار بنایا تو کہا: میں سلیط کو صرف اس وجہ سے امارت نہیں سونپ رہا ہوں کہ وہ جنگ کے بارے میں جلد باز واقع ہوئے ہیں اور جب تک جنگ کی کھلی ضرورت محسوس نہ ہو تب تک اس میں عجلت کرنا نقصان دہ ہے۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں جلد بازی نہ ہوتی تو انہی کو امیر بناتا، لیکن جنگ کے لیے متحمل مزاج لوگ ہی مناسب ہوتے ہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 266)
3۔ قائد جرأت مند، بہادر اور تیر انداز ہو
معرکہ نہاوند کے موقع پر جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اسلامی لشکر پر کمانڈر جنرل متعین کرنے کے بارے میں مشورہ لیا تو انہوں نے کہا: آپ اپنی فوج اور عراق کے باشندوں کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں، وہ آپ کے پاس آچکے ہیں، آپ انہیں دیکھ چکے ہیں اور ان کی گفتار سے واقف ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں انہیں ایسے آدمی کے سپرد کروں گا جو کل معرکہ کارزار میں سب سے پہلے نیزے کی انی اچھالے۔ لوگوں نے دریافت کیا: وہ کون ہے اے امیرالمومنینؓ؟ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: نعمان بن مقرن مزنی۔ لوگوں نے کہا: ہاں، وہی اس کے مستحق ہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 109)
4۔ قائد دور اندیش، ذہین اور تجربہ کار ہو
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ ’’تمہارے لیے مجھ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ تمہیں ہلاکت میں نہ ڈالوں اور نہ تمہیں تمہاری سرحدوں سے روکوں۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 109)
معرکہ اجنادین میں جس وقت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی فوج لے کر پہنچے اس وقت ارطبون رومیوں کی قیادت کر رہا تھا، وہ ان میں سب سے بڑا دور اندیش، سخت جنگجو، خطرناک اور پہلوان مانا جاتا تھا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر ایلیا اور رملہ کے علاقے میں اپنی افواج پھیلا دیں اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو صورت حال کی خبر لکھ بھیجی۔ اس وقت سیدنا عمر فاروقؓ کی طرف سے جو خط آیا تھا اس میں آپؓ نے لکھا تھا:
’’میں نے روم کے ارطبون سے عرب کے ارطبون کو ٹکرا دیا ہے، اب دیکھو آگے کیا ہوتا ہے۔‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 431)
اور جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ارطبون اور اس کے لشکر کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کا ارادہ کیا تا کہ اس کے مقابلے اور اس پر فتح پانے کے لیے کوئی حکمت عملی تیار کی جا سکے تو ارطبون نے اپنے لشکر کے ساتھ جہاں پڑاؤ ڈالا تھا، آپؓ اس میں نہایت ہوشیاری سے داخل ہو گئے اور وہاں سے نکلتے وقت بہت قریب تھا کہ قتل کر دیے جاتے، لیکن اللہ نے آپ کو بچا لیا اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روم کے ارطبون کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوگئے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کی خبر ملی تو کہنے لگے: عمرو اس پر غالب آگئے، اللہ عمرو کے ساتھ ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 432)
5۔ قائد ہوشیار و ماہر ہو ، اسے جنگی بصیرت حاصل ہو
المغنی کے مؤلف ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ امیر جنگ کی صفات پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’امیر جنگ (کمانڈر) کو بہتر سوجھ بوجھ اور جنگی بصیرت والا، عقل مند، طاقتور اور دشمن کی چال سے واقف ہونا ضروری ہے، نیز اسے امانت دار، نرم دل اور مسلمانوں کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 432)
اسی وجہ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ لینے کے بعد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو محاذ عراق کا امیر بنایا تھا۔
6۔ جذبۂ عمل کا اعتبار
حکومت فاروقی کے لائحہ عمل میں یہ بات شامل تھی کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کسی آدمی کو کسی ایسے عمل کا ذمہ دار نہیں بناتے تھے جس پر وہ قانع نہ ہو اور اس کی طرف اس کا طبعی میلان نہ ہو۔ اس کے خلاف اگر کہیں آپ کا کوئی عمل ملتا ہے تو وہ بدرجہ مجبوری ہے۔ ایسا سیدنا عمرؓ اس لیے کرتے تھے تاکہ وہ کام بہتر اور مستحکم طریقہ سے انجام پائے، چنانچہ ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ نے لوگوں کو رغبت دلائی اور محاذ عراق پر فارسیوں سے جنگ کرنے کے لیے انہیں ابھارا، لیکن کوئی تیار نہ ہوا۔ دوسرے دن پھر انہیں ابھارا، لیکن آج بھی کوئی نہ کھڑا ہوا۔ پھر تیسرے دن بھی انہیں جوش دلایا۔ اس طرح تین دن گزر گئے لیکن کوئی کھڑا نہ ہوا۔ جب چوتھے دن سیدنا عمرؓ نے رغبت دلائی اور لوگوں کو ابھارا تو سب سے پہلے ابو عبید بن مسعود ثقفی رحمہ اللہ آگے آئے اور پھر یکے بعد دیگرے دوسرے لوگ بھی تیار ہوگئے۔ سیدنا عمرؓ نے ابوعبید کو اس وقت محاذ عراق پر جانے والے سارے لوگوں کا امیر بنا دیا۔ وہ صحابی نہ تھے لیکن اس مرتبہ کے اہل ضرور تھے۔ لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: امیرالمومنینؓ! آپ نے ہم پر کسی صحابی کو امیر کیوں نہیں بنایا؟ آپ نے جواب دیا: میں نے اسی کو امیر بنایا ہے جس نے سب سے پہلے میری دعوت پر لبیک کہا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 26)
یہ تمام قائدانہ اوصاف سیدنا سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم جیسے سبھی قائدین میں موجود تھے۔