فصل: ....علی بن موسی الرضا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....علی بن موسی الرضا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

[جواب]:یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے۔اس روایت کے من گھڑت ہونے پر تمام اہل علم محدثین کا اتفاق ہے۔عام لوگوںکیلئے بھی اس روایت کا جھوٹ اس کے الفاظ سے ظاہر ہوجاتا ہے۔یہ کہنا کہ :’’ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عفت و عصمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد پر دوزخ کو حرام کر دیا۔‘‘

اس کا تقاضا یہ ہے کہ : کسی عورت کا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا اس کے لیے اور اس کی اولاد کے لیے جہنم کی آگ سے آزادی کا سبب بن جائے گا۔یہ بات قطعی طور پر باطل ہے۔ اس لیے کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی ؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام اولاد کو جہنم کی آگ پر حرام نہیں کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَبَشَّرْنٰہُ بِاِِسْحَاقَ نَبِیًّا مِنْ الصَّالِحِیْنَo وَبَارَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰی اِِسْحَاقَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْن﴾ [الصافات ۱۱۲۔۱۱۳] 

’’اور ہم نے اس کو اسحاق(علیہ السلام )نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا۔اور ہم نے ابراہیم و اسحاق ( رحمہم اللہ )پر برکتیں نازل فرمائیں اور ان دونوں کی اولاد میں بعضے تو نیک بخت اور بعض اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والے ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوحًا وَّاِِبْرٰہِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ فَمِنْہُمْ مُہْتَدٍ وَّکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فَاسِقُوْنَ ﴾ [الحدید۲۶]

’’بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم ( رحمہم اللہ )کو (پیغمبر بنا کر)بھیجا اور ہم نے دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی تو ان میں کچھ تو راہ یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر نافرمان رہے۔‘‘

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہیں ۔ اور ان میں اتنے کافر ہیں جن کی صحیح تعداد کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اور ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا پاک دامن عورت تھیں ؛ ان کی اولاد میں سے ظالم بھی تھے اور نیک و کار او راحسان کرنے والے بھی۔

خلاصہ کلام! معصوم و عفیف عورتیں اتنی لا تعداد ہیں ؛ ان کی صحیح تعداد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اور ان کی اولاد میں اچھے اور برے ؛ مؤمن اور کافر سبھی قسم کے لوگ ہیں ۔ بنا بریں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صرف عفت و عصمت کی وجہ سے یہ فضیلت نہیں حاصل ہو سکتی۔ اس لیے کہ اس وصف میں جمہور مسلمان عورتیں شامل ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا صرف اس وصف کی بنا پر تمام جہان کی خواتین کی سردار قرار نہیں پائیں ۔بلکہ اس کا ایک خاص سبب ہے۔رافضی ہمیشہ اسی طرح کے دلائل سے استدلال کرتے ہیں ۔اپنی جہالت کی وجہ سے انہیں صحیح طرح سے استدلال کرنا بھی نہیں آتا۔ اور جھوٹ بھی ایسے بولتے ہیں کہ وہ نفاق کا مظہر ہوتا ہے[ اور فوراً پکڑا جاتا ہے] ۔

مزید برآں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد کو جہنم کی آگ پر حرام نہیں کیا گیا۔بلکہ ان میں نیک لوگ بھی ہیں اور بد کردار بھی ہیں ۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ خود شیعہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اہل سنت اولاد پر جو کہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبترکھتے ہیں کفر و فسق کا فتوٰی لگاتے ہیں ، مثلاً حضرت زید بن علی۔آپ کو صرف اسی وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں کہ آپ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے تھے۔رافضیہ شیعہ نے اسی بنا پر آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ؛ اور آپ کو کافر و فاسق کہنے لگے۔ اس بنا پر رافضی اولاد فاطمہ سے سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے ہیں ؛ خواہ ایسا ان کی جہالت کی وجہ سے ہو یا بغض و عناد کی وجہ سے ۔

پھر حضرت علی بن موسی رحمہ اللہ کی اپنے بھائی کو وعظ و نصیحت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں مطیع و فرمانبردار بھی ہیں اور نافرمان بھی۔اور انہوں نے کرامت اور عزت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی وجہ سے پائی ہے۔ یہ قدر تمام مخلوق کے مابین مشترک ہے۔ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ؛ اللہ تعالیٰ اسے عزت دیتے ہیں ۔اور جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کردے۔ اس پر کتاب و سنت سے دلائل موجود ہیں ۔

باقی رہا جو شیعہ مصنف نے خلیفہ مامون کی طرف سے آپ کو خلیفہ بنانے کا لکھا ہے ؛ یہ بات صحیح ہے۔ لیکن پھر ایسا نہیں ہوسکا ۔ بلکہ یہ معاملہ ایسے ہی رہا یہاں تک کہ علی بن موسی کا انتقال ہوگیا۔آپ کو خلیفہ نے اپنا ولی عہد نہیں بنایا تھا۔ رافضیوں کا خیال ہے کہ آپ کو زہر دیکر مارا گیا [امام طبری نے اپنی تاریخ میں ۲۰۱ھ کے واقعات میں لکھاہے: ’’ بیشک مامون نے حضرت علی بن موسی کو مسلمانوں کا ولی عہد بنا دیا؛ کہ آپ اس کے بعد خلیفہ ہوں گے۔ اس کے نتیجہ میں عباسیوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی؛ اور اسے خلافت سے معزول کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ دوسرے سال ۲۰۲ھ میں اہل بغداد نے مامون کے چچاابراہیم بن مہدی کی بیعت کرلی۔اور ۲۰۳ھ میں علی بن موسی الرضا کا انتقال ہوگیا۔ اورانہوں نے دوبارہ سے مامون کی خلافت پر بیعت کرلی ۔ دیکھو: تاریخ الطبری ۸؍ ۵۵۴۔ الکامل لابن الاثیر ۶؍ ۱۱۶۔ الاعلام ؍ ۱۸۷۔]۔ اگر مامؤن کا آپ کو خلافت کے لیے تجویز کرناحجت ہوسکتا ہے تو پھر یہ بھی حجت ہے کہ آپ حقیقت میں خلیفہ بن نہیں سکے ۔ اگر یہ پہلا فعل حجت نہیں ہے ؛ تو دوسرا بھی حجت نہیں ہوسکتا۔اور ایسی باتوں کو مناقب میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ مگر رافضیوں کا کیا جائے وہ حقیقت میں مناقب و مثالب کو جانتے ہی نہیں ۔اور نہ ہی انہیں ان اسناد کاکچھ علم ہے جن سے علم حاصل ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کسی صحیح دلیل کے بجائے ابو نواس کے اشعار سے استدلال کیا ہے۔ اگر یہ سب کچھ صحیح تسلیم بھی کرلیا جائے ؛ تو تب بھی ابو نواس جیسے جھوٹے اور فاسق و فاجر شاعر کے ابیات سے استدلال کرنا صحیح نہیں ۔ اس کا فسق و فجور کسی ادنی علم رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ہے۔ یہ اپنے شعرمیں کہتا ہے: 

’’ میں اس امام کی مدح کیسے بیان کرسکتا ہوں جس کے باپ کے خادم حضرت جبریل تھے ۔‘‘

صفحہ 2 از 3