فصل: ....علی بن موسی الرضا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....علی بن موسی الرضا

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

یہ بات سبھی جانتے ہیں [اگر یہ منقبت ہے تو ] اس میں تمام انبیاء کی اولاد شامل ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تمام اولاد بھی اس میں برابر کی شریک ہے۔تو پھر اس میں کون سی ایسی خصوصیت ہے کہ باقی لوگوں کو چھوڑ کر آپ ہی امام ہوں ؟

اس کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی ایک کی بھی تعریف و توصیف نہ کی جائے۔ اس لیے کہ یہ وصف تو ان تمام کے مابین مشترک ہے۔پھر انبیاء کرام علیہم السلام کی اولاد ہونا لوگوں کے مابین ایک مشترکہ وصف ہے۔اس لیے کہ تمام لوگ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔ایسے ہی بنی اسرائیل خواہ وہ یہودی ہوں یا غیر یہودی وہ حضرت ابراہیم ؛ حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔

ایسے ہی حضرت جبریل علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم قرار دینا بھی ایک اچھوتی بات ہے۔ ایسی بات وہی کہہ سکتا ہے جو ملائکہ کی قدر و منزلت سے ناواقف ہو۔ اور نہ ہی انہیں فرشتوں کے انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس آنے کی وجہ و منزلت کا علم ہو۔ مگر کیا کریں رافضیوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے اشعار سے ایسی دلیلیں حجت میں پیش کرتے ہیں جو ان کی جہالت اور ظلم کے مناسب ہوتی ہیں ۔ اور ایسی من گھڑت اور جھوٹی روایات پیش کرتے ہیں جو کہ رافضیوں کے ہی شایان شان ہوسکتی ہیں ۔ کیا ایسے اشعار اور روایات سے دین کے اصول ثابت ہوسکتے ہیں ؟ ایسا تو وہی انسان کرسکتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے بصیرت چھین لی ہو۔


صفحہ 3 از 3