Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خطوط میں اللہ تعالیٰ قائدین لشکر اور افواج کے حقوق کا ذکر

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ کے حقوق

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے قائدین اور لشکر کو اپنے خطوط اور نصائح میں حقوق اللہ کے التزام کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے تھے ان حقوق میں اہم ترین یہ ہیں:

1۔ دشمن کے مقابلے میں صبر و ثبات کا مظاہرہ کرنا

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 200)

ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اختیار کرو، مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھاؤ، اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے جمے رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔ 

چنانچہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو محاذ عراق پر بھیجا تو خط کے ذریعہ سے ان کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا: ’’ہر عادت کی ایک خصوصیت ہوتی ہے اور خیر کی خصوصیت صبر کرنا ہے، اس لیے اگر تمہیں کوئی پریشانی لاحق ہو یا کسی مصیبت سے گزرو تو صبر کرو، اس سے تمہارا دل اللہ کی خشیت سے بھر جائے گا۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 306)

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھی جب کہ وہ شام میں تھے یہی نصیحت کرتے ہوئے کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کی وجہ سے ایک قوم کی تعریف کی ہے۔ ارشاد ہے:

وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ قٰتَلَ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيۡنَ ۞وَمَا كَانَ قَوۡلَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَاِسۡرَافَنَا فِىۡۤ اَمۡرِنَا وَ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞ فَاٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنۡيَا وَحُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَةِ‌ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 146،147،148)

ترجمہ: چنانچہ اللہ نے انہیں دنیا کا انعام بھی دیا اور آخرت کا بہترین ثواب بھی، اور اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ ان کے منہ سے جو بات نکلی وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے : ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرمادے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرمادے۔ اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ ملکر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی! نتیجتاً انہیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو جھکایا، اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

پس دنیا کا ثواب یہ ہے کہ فتح اور مال غنیمت ملے اور آخرت کا ثواب یہ ہے کہ مغفرت اور جنت ملے۔ میری یہ کتاب لوگوں کو پڑھ کر سناؤ اور حکم دو کہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور اس پر صبر کریں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت دونوں کے ثواب عظیم سے نوازے۔

(تاریخ فتوح الشام: صفحہ 183)