فصل:....مناقب محمد بن علی الجواد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....مناقب محمد بن علی الجواد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....مناقب محمد بن علی الجواد

[وہوأبو جعفر محمد بن علِیِ بنِ موسی، الملقب بِالجوادِ، الِإمام التاسِع عِند الرافِضۃِ۔ ولِد فِی المدِینۃِ سن:۱۹۵وانتقل مع والِدِہِ إِلی بغداد حیث کفلہ الخلِیفۃ المأمون بعد وفاۃِ والِدِہِ الرِضا، وزوجہ ابنتہ م الفضلِ، وتوفِی فِی بغداد سن:۲۲۰۔ انظر ترجمتہ فِی: تارِیخِ بغداد: ۳؍۵۴، ۵۵، وفیاتِ الأعیانِ: ۳؍۳۱۵، شذراتِ الذہبِ:۲؍۴۸، الإعلامِ:۷؍۱۵۵۔]

[قول الرافضي]:’’ آپ کا بیٹا محمد بن علی الجواد علم و تقوی ‘اورجود وسخا میں اپنے باپ کے نقش قدم پر گامزن تھا۔ جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو آپ کی چھوٹی عمر کے باوجود کثرت علم؛ دینداری اور وفور عقل کی وجہ سے خلیفہ مامون آپ سے محبت کرنے لگا۔ اور اس کا خیال یہ ہوا کہ وہ اپنی بیٹی ام فضل آپ کو بیاہ دے۔ اور اس سے پہلے اس کے باپ امام رضا سے اپنی بیٹی ام حبیب کی شادی کرچکا تھا۔ اس وجہ سے عباسیوں کو اس بات پر بہت غصہ ہوا: اور انہیں یہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں حکومت ان کے ہاتھوں سے نہ نکل جائے۔ اور آپ کی بھی اسی طرح بیعت کر لی جائے‘ جیسے آپ کے والد کی بیعت کرلی گئی تھی۔ 

٭ پس خلیفہ کے حاشیہ نشین جمع ہوگئے اوراسے اپنے ارادہ سے باز رہنے کے لیے کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ : ابھی یہ چھوٹا بچہ ہے ‘ اسے کوئی علم نہیں ۔ اس کے جواب میں خلیفہ نے کہا: ’’ میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔‘‘ اگر تم چاہتے ہو تو پھر اس کا امتحان لے لو۔ وہ لوگ اس بات پر راضی ہوگئے۔ انہوں نے قاضی یحی بن اکثم کو اس کا بہت سخت امتحان لینے کے لیے بہت بڑی رشوت دی کہ ایسا سوال پوچھا جائے جس کا جواب دینے سے یہ عاجز آجائے۔ ایک دن کا وقت مقرر ہوا۔ مامون نے آپ کو حاضر کیا۔ قاضی اور عباسیوں کی ایک جماعت بھی حاضر ہوئی۔ قاضی نے کہا: میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کروں گا؟ آپ نے کہا: پوچھو۔ اس نے پوچھا : تم اس محرم کے بارے میں کیا کہتے ہو جس نے شکار کو مار دیا ہو؟

٭ آپ نے اس کے جواب میں پوچھا : کیا اس نے حل میں شکار مارا ہے یا حدود حرم میں ؟ اور کیا وہ اس مسئلہ کا علم رکھتا تھا یا اس سے جاہل تھا؟ جانور کوپہلی بار مارا ہے یا پھردوسری بار پلٹ کر ماراہے یا پھر اپنی طرف سے بغیر کسی بات کے اسے مار ڈالا؟ اور کیا جانور چھوٹا تھا یا بڑا؟ کیا شکار پرندہ تھا یا پھر کوئی دوسرا؟ اس پر یحی بن اکثم بہت حیران ہوا ؛ اور عاجزی کے آثار اس کے چہرہ پر نمایاں نظر آنے لگے۔حتی کہ اہل مجلس کو آپ کی قدرو منزلت کا علم ہوگیا۔ مامون نے اپنے اہل بیت سے کہا: کیا جس چیز کا تم انکار کرتے تھے ‘ اب اس کو سمجھ لیا؟ پھر امام صاحب خلیفہ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا آپ اب یہ رشتہ مجھے دیں گے؟ خلیفہ نے کہا: ہاں ۔ آپ نے فرمایا: آپ خود ہی خطبہ نکاح پڑھ دو۔ پس خلیفہ نے خطبہ پڑھا‘ اور پانچ سو عمدہ دراہم پر نکاح ہواجس مہر پر آپ کی دادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا تھا۔ اور پھر اس کی شادی کردی۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]

جواب: محمد بن علی الجواد بنی ہاشم کے مشہور ومعروف افراد میں سے تھے ‘ آپ سخاوت وقیادت میں مشہور تھے ۔ اسی وجہ سے آپ کو جواد کہا جاتا ہے۔ آپ کا انتقال جوانی میں ہی پچیس سال کی عمر میں ہوگیا تھا۔ آپ کی پیدائش سن پچانوے ہجری میں ہوئی اور ایک سو بیس یا ایک سو انیس ہجری میں آپ کا انتقال ہوگیا۔ مامون نے اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کردی تھی ۔ خلیفہ ان کے پاس دس لاکھ درہم بھیجا کرتا تھا۔ پھر آپ کو بغداد بلالیا ‘ اور وہیں پر آپ کا انتقال ہوگیا۔ 

باقی جو کچھ اس رافضی مصنف نے ذکر کیا ہے ‘ یہ بھی اس سے پہلے کے کلام کی طرح ہے ۔ اس لیے کہ رافضیوں کے پاس نہ ہی عقل صریح موجود ہے اور نہ ہی نقل صحیح۔ نہ ہی حق کو قائم کرسکتے اورنہ ہی باطل کو مٹاسکتے ہیں ۔ نہ ہی حجت و بیان کے ساتھ اور نہ ہی ہاتھ اورشمشیر کے ساتھ ۔اس لیے کہ جو کچھ اس نے ذکر کیا ہے اس سے محمد بن علی کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی چہ جائے کہ اس سے امامت ثابت ہوجائے۔اس لیے کہ یہ حکایت جسے یحی بن اکثم سے بیان کیا جارہا ہے ‘ ان جھوٹی داستانوں میں سے ایک ہے جنہیں سن کر جاہل لوگ ہی بغلیں بجاسکتے ہیں ۔ یحی بن اکثم بہت بڑے عالم و فاضل اور فقیہ تھے ؛ ان کا رتبہ اس مقام سے بہت بلند تھا کہ وہ کسی کو عاجز کرنے کے لیے حالت احرام میں شکار کرنے کا سوال پوچھیں ۔اس لیے کہ چھوٹے چھوٹے علماء بھی اس مسئلہ کا حکم جانتے ہیں ۔یہ کوئی نادر یا دقیق علمی مسئلہ نہیں ہے جس کے حل کیلئے بڑے علماء کی ضرورت ہو ۔

پھر جو کچھ اس نے بیان کیا ہے ‘ اس میں فقط شکاری کے مختلف احوال کا بیان ہے۔ اور صرف اس تقسیم کاہونا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ان میں سے ہر قسم کا حکم بھی معلوم ہو۔ بس اس سے صرف سوال کرنے کا اچھا انداز ظاہر ہوسکتاہے۔ہر اچھا سوال کرنے والے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ اچھی طرح جواب بھی دے سکتا ہو۔ اور پھر اگر اس نے ان ممکنہ اقسام کو اگر بطور واجب کے ذکر کیا ہے تو ان اقسام کا مکمل احاطہ نہیں کیا گیا۔اور اگر ایسا کرنا واجب نہ تھا تو پھر بعض چیزوں کی تفصیل ذکر کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اس لیے کہ ان جملہ اقسام کے بارے میں اتنا ہی پوچھ لینا کافی تھا کہ کیا اس نے یہ شکار غلطی سے کیا ہے یا جان بوجھ کر؟ ۔

ان الفاظ میں سوال کرنا یہ زیادہ بہتر تھا بجائے یہ کہنے کے کہ: کیا وہ اس کا حکم جانتا تھا یا نہیں جانتا تھا؟ اس لیے کہ خطاء کار اور متعمد کے مابین فرق ثابت ہونے پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔جب کہ خطاء کی جزاء لازم ہونے کے بارے میں اختلاف مشہور ہے۔ امام احمد اور سلف و خلف کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ خطاء کار پر کوئی جزاء نہیں ہوتی۔ سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ [المائدۃ۹۵] 

’’اور جوکوئی تم میں سے اسے عمداً قتل کردے تو اس کا بدلہ برابر کا جانور ہوگاجو اس نے قتل کیا ہے ۔‘‘

صفحہ 1 از 3