فصل:....مناقب محمد بن علی الجواد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....مناقب محمد بن علی الجواد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار کرنے والے کے ساتھ خاص طور پر جزاء کا ذکر کیاہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ خطاء کار پر کوئی جزاء نہ ہو۔اصل تو اپنی ذمہ داری سے برأت ہے۔اور اس نص کی روشنی میں یہ جزاء متعمد پر واجب ہوتی ہے۔ جبکہ خطاء کار اپنی اصل پر ہے۔اور اس لیے بھی کہ اس حکم میں خاص طور پر متعمد کا ذکر کرنے کا تقاضایہ ہے کہ خطاکار پر اس حکم کا اطلاق نہ ہو۔ سیاق شرط سے یہ مفہوم بالکل واضح ہوتا ہے۔ یہاں پر عام کے بعد خاص کا ذکر کیا گیا ہے۔اگر ان دونوں کا حکم ایک ہی ہوتا تو پھر اتنا کہہ دینا کافی تھا:﴿وَ مَنْ قَتَلَہٗ منکم ﴾ ’’اور جو شخص تم میں سے اس کو قتل کرے ۔‘‘اس طرح انتہائی اختصار کے ساتھ حکم واضح ہوجاتا۔ لیکن یہاں واضح طور پر کہا گیا ہے : ﴿وَ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو شخص تم میں سے اس کوجان بوجھ کر قتل کرے ۔‘‘یہاں پر متعمد کا لفظ زیادہ کرنے سے اس کے معانی میں کمی آگئی۔ یہ حکمت لوگوں میں سے کسی ادنی ترین آدمی کے کلام سے بھی سمجھی جاسکتی ہے؛ تو پھر کلام اللہ جو کہ بہترین اور افضل ترین کلام ہے ‘ اور اس کلام کی فضیلت بھی مخلوق کے کلام پر ایسے ہی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر؛[ تو پھر اس سے کیوں یہ بات سمجھ نہیں آسکتی]۔ 

وہ علماء جوکہ خطاء کار پر جزاء کو واجب کرتے ہیں ‘ وہ عموم احادیث اورآثار صحابہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ نیز وہ قتل خطا پر بھی قیاس کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متعمد کو بطور خاص ذکر کیا ہے ‘ اس لیے کہ اس موقع پر ان لوگوں کے لیے احکام اور وعید بیان ہورہی تھی جو عمداً ایسے کام کرتے ہیں ۔ اور پھر اس کے بعد جزاء بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :

﴿ لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ﴾ [المائدۃ۹۵]

’’تاکہ وہ اپنے اعمال کا مزہ چکھے، اللہ تعالیٰ نے سابقہ معاف کر دیا اور جو کوئی دوبارہ ایسی ہی حرکت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا۔‘‘

جب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا ذکر کیا ایک جزاء اور دوسرا انتقام ؛ تو ان دونوں کا مجموعہ متعمد کے ساتھ خاص ہے۔ جب مجموعی سزا متعمد کے لیے خاص ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سزا کا بعض حصہ خطا کار کے لیے ثابت نہ ہوتا ہو۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

﴿وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ﴾ [النساء۱۰۱]

’’اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو تم پر کوئی مضائقہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کر دواگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے۔‘‘

یہاں پر مرادتعداد اور ارکان دونوں میں قصر [کمی] کرنا ہے۔ اس قصر میں دونوں اقسام شامل ہیں : نماز سفر ؛ اور نماز خوف۔یہاں ان دونوں احکام کے ان دوقسموں کی نماز کے بارے میں خاص ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں سے کسی ایک نماز کے لیے کوئی ایک حکم خاص ہو۔ اس طرح کی مثالیں اور بھی ہیں ۔

ایسے ہی مناسب تھا کہ وہ یہ سوال کرتا کہ : جب اس نے شکار کیا تو کیا اسے اپنا حالت احرام میں ہونا یاد تھا یا پھر اسے بھول گیا تھا۔ اس لیے کہ بھولے ہوئے انسان پر حکم لگانے کے بارے میں جاہل سے زیادہ اختلاف ہے۔ انہیں تو یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ کیا اس نے شکار اس وجہ سے کیا ہے کہ شکارنے اس پر حملہ کردیا تھا‘ اور وہ اپنے دفاع پر مجبور ہوگیا تھا ‘ یا پھر اس نے بغیر کسی وجہ کے شکار کر ڈالا ۔

نیز اس قسم کی تقسیم سے سائل کی جہالت ٹپکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو ان ائمہ محترمین کو اس قسم کی جہالت سے مبراء رکھا تھا۔ نیز یہ سوال کرنا کہ : اس نے شکار حدود ِ حرم میں کیا ہے یا پھر حِلّ میں ؟بیکار سی بات ہے ۔ اس لیے کہ محرم جب شکار کر دے تو اس پر جزاء واجب ہوجاتی ہے ؛ خواہ اس نے حدود ِحرم کے اندر شکارکیا ہو یا اس سے باہر ۔ اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور حرم کے جانور کا شکار کرنا حالت احرام میں اوربغیر احرام کے ہر دونوں طرح سے حرام ہے۔ لیکن جب کوئی انسان حالت احرام میں حرم کاشکار شکار کرلے تو اس کی حرمت زیادہ متأکد ہوجاتی ہے ؛ مگردونوں کی جزاء ایک ہی ہے۔نیزیہ سوال کرنا کہ اس نے شکار پر پہلی بار حملہ کیا ‘ یادوسری بار پلٹ کرمارا ؟ یہ بہت ہی کمزور اختلاف ہے۔بعض اہل علم نے اسے اختلاف سمجھا اورذکر کیا ہے ۔ جب کہ جمہور اہل علم ہر دونوں حالتوں میں شکار کرنے والے پر جزاء کو واجب کہتے ہیں ۔ اس لیے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ﴾ [المائدۃ۹۵]

’’اور جو شخص پھر ایسی ہی حرکت کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا۔‘‘

کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ : جو انسان اسلام لانے کے بعد دوبارہ ایسی حرکات کرے ؛ حالانکہ اس سے پہلے عہد جہالت کی غلطیوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا تھا۔ اوریہ بھی کہاگیا ہے کہ: اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مراد ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [النساء۲۲]

’’اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے۔‘‘اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: ﴿ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [النساء ۲۳]

’’ اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا۔ ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: ﴿قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّنْتَہُوْا یُغْفَرْلَہُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ﴾ [الانفال ۳۸]

’’ کافروں سے کہہ دیجئے!کہ اگر وہ باز آجائیں تو ان کے سابقہ گناہ معاف کر دئے جائیں گے۔‘‘

اگر اس سے مراد یہ ہوتاکہ اللہ تعالیٰ نے پہلی بار معاف کردیا ہے ؛ توپھر نہ ہی اس پر جزاء واجب ہوتی اور نہ ہی اس سے انتقام کی بات کی جاتی ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پہلی بار کے ساتھ ہی اس پر جزاء کو واجب کیا ہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمادیا ہے :

﴿ لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ﴾ [المائدۃ۹۵]

صفحہ 2 از 3