فصل:....مناقب محمد بن علی الجواد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....مناقب محمد بن علی الجواد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

’’تاکہ وہ اپنے کئے کی شامت کا مزہ چکھے۔‘‘

جس انسان کو اللہ تعالیٰ اس کے برے اعمال کا بدلہ دیدیں تو اس کے لیے معافی کیسے ہوسکتی ہے ؟ نیز یہ بھی فرمایا کہ : ﴿ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ﴾’’ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ کو معاف کر دیا ۔‘‘

یہ عام لفظ ہے جس میں تخصیص کا کوئی قرینہ نہیں پایا جاتا کہ اس سے صرف ایک بار ہی مراد لی جاسکتی ہے۔ یہ چیزعربی زبان میں نہیں پائی جاتی۔ اگر اس آیت سے مراد یہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی بار معاف کردیا ہے ۔ اور ﴿من عاد﴾ سے مراد دوبارہ قتل کی طرف لوٹنا ہوتا؛ تو ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ کے انتقام سے جزاء ساقط نہ ہوتی۔ اس لیے کہ گناہ کی سختی اور شدت کی وجہ سے واجب ساقط نہیں ہوتا۔ جیسے کوئی انسان کئی ایک قتل کردے تو اس سے قصاص اور دیت یا کفارہ ساقط نہیں ہوں گے۔ 

[حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر ]:

[اشکال ] :شیعہ عالم کا یہ کہنا کہ: ’’ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درہم تھا۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب] : یہ بات کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔ بلکہ ثابت یہ ہے کہ نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی کسی بیوی کو ؛ اور نہ ہی آپ کی بیٹیوں میں سے کسی ایک کو پانچ سو درہم سے زیادہ مہر دیا گیا۔ یعنی ساڑھے بارہ اوقیہ [چاندی]۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہی بات معروف ہے۔[سننِ بِی داود:۲؍۳۱۶، کتاب النکِاحِ، باب الصداق عن أبِی العجفائِ السلمِیِ، قال: خطبنا عمر رحِمہ اللہ فقال: ألا لا تغالوا بِصداقِ النِسائِ، فِإنہا لو کانت مکرمۃ فِی الدنیا أو تقوی عِند اللہِ لکان أولاکم بِہا النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ما صدق رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم امرأۃ مِن نِسائِہِ ولا صدِقتِ امرأۃ مِن بناتِہِ أکثر مِن اثِنتی عشر أوقِیۃ۔عن عائِشۃ فِی الکتابِ والبابِ السابِقینِ:۲؍۳۱۵، ۳۱۶ عن أبِی سلمۃ۔ سننِ ابنِ ماجہ:۱؍۶۰۷کتاب النکِاحِ، باب صداقِ النساء۔الدارِمِیِ:۲؍۱۴۱ کتاب النِکاحِ، باب کم کانت مہور أزواجِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبناتِہ۔وانظر حدِیث عمر فِی المسندِ ط۔ المعارِف: ۱؍۲۲۷۔ وقال الشیخ احمد شاِکر رحمہ اللہ : ِإسنادہ صحِیح وذکر أنہ مروِی فِی سننِ أبِی داود، والتِرمِذِیِ، والنسائِیِ، وابنِ ماجہ والبیہقِیِ، وقال التِرمِذِی: ہذا حدِیث حسن صحِیح۔] لیکن حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا کی شادی نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرائی تھی؛ اس لیے اس نے اپنی طرف سے زیادہ مہر ادا کیا۔[فِی سننِ أبِی داود:۲؍۳۱۶ عن أمِ حبِیبۃ رضی اللّٰہ عنہا ؛ سننِ النسائِیِ:۶؍۹۷کتاب النکِاحِ، باب القِسطِ فِی الصدِاق وزاد: ولم یبعث ِإلیہا رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بِشیء، وکان مہر نِسائِہِ أربعمِائِ دِرہم۔والحدِیث أیضا فِی المسندِ ط۔الحلبِی: ۶؍ ۴۲۷۔ ] خواہ یہ بات ثابت ہو یا نہ ہو ؛ اتنی بات ضرور ہے کہ کم مہر کا خیال رکھنا سنت ہے۔ اسی لیے علماء کرام رحمہم اللہ مستحب سمجھتے ہیں کہ کسی کا مہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں یا بیٹیوں کے مہر سے زیادہ نہ ہو ۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مہر میں اپنی درع دی تھی۔ بہر حال کچھ بھی ہو یہ دونوں باتیں کسی فضیلت پر دلالت نہیں کرتیں ؛ چہ جائے کہ اس سے امامت کی فضیلت ثابت کی جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے علاوہ آپ کے [بہت سارے ]فضائل ثابت شدہ ہیں ۔ 


صفحہ 3 از 3