Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امانت داری برتنا

  علی محمد الصلابی

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ اَنۡ يَّغُلَّ‌ وَمَنۡ يَّغۡلُلۡ يَاۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞(سورۃ آل عمران آیت 161)

ترجمہ: اور کسی نبی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ اور جو کوئی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کر کے لی ہوگی، پھر ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

چنانچہ اپنے قائدین لشکر اور فوج کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں خیانت سے روکا: ’’جب تم دشمن سے ٹکراؤ تو پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو اور جب مال غنیمت پاؤ تو اس میں خیانت نہ کرو۔‘‘

(الخراج: أبو یوسف: صفحہ 85)