فصل:....محمد بن حسن مہدی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....محمد بن حسن مہدی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

مزید برآں اگر ایسے امام کے وجودیا عدم وجود کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس سے کوئی دینی یا دنیوی مصلحت حاصل نہیں ہو سکتی ۔اور نہ ہی اس امام نے کسی ایک کو بھی کسی چیز کی کوئی تعلیم دی۔ اور نہ ہی اس کی کسی اچھی یا بری بات کا کسی کو کوئی اتا پتہ ہے ۔ اس امام کی وجہ سے مقاصد ومصالح امامت میں سے کسی بھی عام یا خاص کو کوئی بھی چیز حاصل نہیں ہوسکی۔ بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ اگر ایسے امام کے وجود کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ تمام اہل ارض کے لیے بلامقصد اورنقصان دہ ہے ۔ اس لیے کہ اس امام پر ایمان لانے والوں کو تو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ نہ ہی کوئی مصلحت حاصل ہوئی اور نہ ہی کوئی مہربانی۔ اور اس امام کے جھٹلانے والے اس کے ماننے والوں کے نزدیک مبتلائے عذاب ہیں ۔ تو اس سے ثابت ہوا یہ کہ امام محض ایک شر و برائی ہے جس میں خیر کی کوئی ایک بات بھی نہیں ۔ ایسا امام کسی حکیم و عادل کی تخلیق نہیں ہوسکتا۔

اگریہ کہا جائے کہ وہ لوگوں کے ظلم کے خوف سے چھپ گیا تھا۔‘‘

[تھی کہ اس گھر کے تہ خانہ میں حسن عسکری کا بیٹا پوشیدہ ہے، ان کا رابطہ اس گھر سے کٹ گیا تھا اور وہ اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے تھے، تیل فروش یا گھی فروش کا بیٹا (ابن الزیات أوالسمّان) جس کی دوکان مذکورہ گھر کے قریب تھی حسن عسکری کی وفات کے بعد ان کے بھائی جعفر سے نہ کبھی اور نہ اسے کبھی اس گھر میں داخل ہونے کا اتفاق ہوا جس میں وہ سرد خانہ تھا واقعہ یہ تھا کہ گھی فروش کے بیٹے کی دوکان کے قریب ایک درخت تھا، شیعہ عوام جن کو کوئی مسئلہ دریافت کرنا ہوتا تھا شام کے وقت آتے اور اپنے استفتا اس درخت کے سوراخ میں رکھ جایا کرتے تھے، ان کے چلے جانے کے بعد گھی فروش کا بیٹا آ کر یہ کاغذ نکال لیتا اور کسی رافضی فقیہ سے ان کا جواب لکھوا کر پھر اسی سوراخ میں رکھ دیتا، نادان شیعہ اس زعم فاسد میں مبتلا تھے کہ ان کا بارہواں امام جو ہنوز پیدا نہ ہوا اور نہ اس نے کسی سے تعلیم پائی....یہ جوابات لکھ رہا ہے شیعہ اور ابن الزیات (زیت فروش کا بیٹا) کا رابطہ اس تہ خانہ یا درخت کے ساتھ بس اتنا ہی تھا دگر ہیچ۔]

[جواب ]:ہم جواباً کہتے ہیں کہ:پہلی بات: ’’ ظلم تو اس کے آباؤ اجداد کے زمانہ میں بھی ہو رہا تھا، مگر انہوں نے چھپنے کو مناسب خیال نہ کیا۔[سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اکابر شیعہ نے جن کے سرغنہ نصیرالدین طوسی، ابن العلقمی اور ابن ابی الحدرد تھے....مسلمانوں کے خلاف سازش کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتارا، یاجوج ماجوج (تاتار) کی تلواروں سے اسلامی سلطنت کا چراغ گل کر دیا اور علوم اسلامیہ کی لاکھوں کتب دریائے دجلہ میں پھینک دیں ، جن کی وجہ سے اس کا پانی کئی دن تک سیاہ رہا تو ایسے آڑے وقت میں بقول شیعہ تہ خانہ کا یہ مکین کس لیے تہ خانہ سے باہر نہ نکلا نہ ان کے سامنے اپنی موجودگی کا اعلان کیا؟ حالانکہ شیعہ مذہب کے مطابق وہ اس وقت بقید حیات تھا اور اب بھی زندہ ہے اور شیعہ اس کے عاجلانہ ظہور کے لیے دست بدعا بھی رہتے تھے اس وقت سے موزوں تر وقت اور کون سا ہوسکتا تھا....؟ علاوہ ازیں یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ آج کل اطراف عالم میں شیعہ کی کثرت ہے، دجلہ و فرات کے دونوں کنارے اور ایران شیعہ سے بھرپور ہیں ، پھر دور حاضر میں کون سا ظلم امام غائب کے خروج سے مانع ہے....؟ اس پر مزید یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے امام غائب کی حفاظت اور اس کے تحفظ و بقا کی ذمہ داری اپنی ذات پر عائد کی ہے، ظاہر ہے کہ تحفظ و بقا کی اس گارنٹی کی موجودگی میں ان کی زندگی کو کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟آخر تہ خانہ کی تاریکیوں میں دفن رہنے اور دریائے دجلہ و فرات کے جاذب نظر مناظر سے ممتنع نہ ہونے میں کیا مصلحت پائی جاتی ہے، رب کریم ہمیں اصلاح عقائد کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔ ’’برحمتک یا ارحم الراحمین‘‘ ]

دوسری بات : مزید برآں اس کے عقیدت مند ہر جگہ کرۂ ارضی پر موجود ہیں ؛ توامام صاحب چلو بعض اوقات چند گھڑیوں کیلئے ہی اپنے ماننے والوں کے ساتھ مل کرکیوں نہیں بیٹھ جاتے۔یا پھر وہ اپنا کوئی ایلچی ان لوگوں کی طرف بھیجتا جو ان لوگوں کو کوئی نفع بخش علم کی باتیں سکھاتا۔

تیسری بات:....امام صاحب کے لیے ممکن تھا کہ وہ کسی ایسی جگہ ظہور پذیر ہو گیاہوتا، جہاں اس کے ارادت مند بکثرت ہوں ۔ جیسا کہ بلاد شام کے پہاڑ ؛جن میں کثرت کے ساتھ رافضی آباد ہیں ۔اور ان کے علاوہ بھی شیعہ کی کئی ایک مضبوط پناہ گاہیں اور بستیاں ہیں ۔

چوتھی بات:....جب امام صاحب کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس خوف کی وجہ سے کسی ایک انسان کوبھی علم یا دین کی کوئی فائدہ مند بات بتاسکے تو پھر اس امام کی وجہ سے کونسا فائدہ یا مصلحت حاصل ہوئی؟پس یہ بات نظریہ امامت کے بنیادی اصولوں کے ہی خلاف ہے؟بخلاف ان انبیاء کرام ومرسلین عظام رحمہم اللہ کے ‘جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ؛ انہیں جھٹلایا گیا‘ مگر انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں ‘اور رسالت کا حق اداکیا ۔ لوگوں کو اللہ کا دین پہنچایا اورسکھایااور ان پر ایمان لانے والوں کو فائدہ اور مصلحت بھی حاصل ہوئی؛ جو کہ ان اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا انعام تھا۔جب کہ اس معدوم و موہوم؛ کبھی بھی نہ آنے والے امام کے ماننے والوں کو سوائے اس انتظار طویل اور حسرت و الم اور دنیا بھر کی دشمنی کے سوا کیا فائدہ پہنچا؟ یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ شیعہ ساڑھے چار سو (۳۵۰) سال سے اس کے خروج و ظہور کی دعائیں کرتے چلے آرہے ہیں مگر ان کی دعائیں قبولیت سے ہم کنار نہیں ہوتیں [اورکبھی بھی قبول نہ ہوں گی] [اس چھپا چھپی کے کھیل کوساڑھے بارہ سو برس گزر چکے ہیں ، شیعہ ابھی تک بعجز و انکسار مصروف دعا ہیں ، کیا اتنی طویل مدت میں ایک بھی مستجاب الدعوات شیعہ نہ تھا جس کی دعا قبولیت سے آراستہ ہوتی ، اور امام غائب منصہ شہود پر جلوہ گر ہو جاتے۔]

صفحہ 2 از 3