فصل:....محمد بن حسن مہدی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....محمد بن حسن مہدی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ امت محمدیہ کے کسی مسلمان کو اگر اتنی لمبی عمر مل بھی جائے تو اس پر اس جھوٹ کا پردہ کھل جائے گا۔ اسلام میں کسی انسان کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس نے ایک سوبیس سال سے زیادہ کی عمر پائی ہو۔چہ جائے کہ کسی کو پانچ سو یا ہزار سال کی عمر ملے [تاکہ وہ اس امام کی صحبت سے شرفیاب ہو]۔ صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے فرمایا:

’’ تمہاری آج کی رات میں نے تمہیں دیکھا ؛ بیشک جو لوگ آج زمین پر موجود ہیں ایک سوسال گزرنے کے بعد ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہیں رہے گا۔‘‘[یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے؛ دیکھیں : بخاری ۱؍ ۱۱۹؛ کتاب مواقیت الصلاۃ؛ باب السمر فی الفقہ و الخیر بعد العشاء؛ مسلم ۴؍ ۱۹۶۵؛ کتاب فضائل الصحابۃ باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لاتأتی مائۃ سنۃ علی الأرض ؛ سنن أبی داؤد ۴؍ ۱۷۶۔کتاب الملاحم ؛باب قیام الساعۃ ۔سنن الترمذي ۳؍۳۵۴ ؛ کتاب الفتن۔]

پس جس انسان کی عمر اس وقت ایک سال یا اس کے قریب تھی؛ وہ قطعی ایک سوسال سے زیادہ زندہ نہیں رہا۔ پس جب اس وقت میں لوگوں کی عمریں اس حد سے تجاوز نہیں کرتی تھیں ؛ توعام طور پر غالب عادت کے مطابق اس کے بعد کے لوگوں کی عمریں اس حد تک نہیں پہنچ سکتیں ۔ اس لیے کہ بنی آدم کی عمریں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہیں ، بڑھتی نہیں ۔

بیشک حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں ساڑہے نو سو سال قیام کیا تھا؛ اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر صحیح روایت کے مطابق ایک ہزار سال تھی۔ [یہ صحیح حدیث میں ثابت ہے‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔][سنن الترمذی ؍۱۲۳؛ کتاب التفسیر ؛ باب الأخیر فیہ ؛ وقال الترمذي :ہذا حدیث حسن غریب من ہذا الوجہ ؛ وقد روي من غیر وجہ عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ؛ وقال الألباني: في تخریج مشکاۃ ۲؍۵۴۳۔ صححہ الحاکم ووافقہ الذہبي ؛ وہ ھو کما قالا۔]

اس زمانہ میں عمریں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں ؛جب کہ اس امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان میں ہیں ‘ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو اس عمر سے تجاوز کریں گے۔‘‘[یہ صحیح حدیث میں ثابت ہے ] [سنن الترمذي ۳؍۳۸۷ ؛ کتاب الزہد؛ باب ما جاء في أعمار ہذہ الأمۃ۔ وقال الترمذي ہذا حدیث حسن غریب۔ سنن ابن ماجۃ ۲؍ ۱۴۱ ؛ کتاب الزہد ؛ باب الأمل و الأجل۔]

[حضرت خضرکی زندگی سے استدلال]

اس موقع پر حضرت خضر علیہ السلام کی زندگی سے دلیل لینا؛باطل در باطل ہے۔ بقائے خضر کی ان کی بات کو کون تسلیم کریگا۔ تمام محقق علماء کرام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا انتقال ہوچکا ہے۔ اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آپ ابھی تک زندہ ہیں ‘تو پھر بھی آپ کا شمار اس امت میں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے ایسے جھوٹے جنات اور انسان پائے جاتے ہیں جن کا خضر ہونے کا دعوی ہے ۔ اور جو کوئی انہیں دیکھ لیتا ہے اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ میں نے خضر کو دیکھاہے ۔ اس بارے میں بہت ساری صحیح روایات ہمارے علم میں ہیں ‘ مگر ان کا یہاں پر تذکرہ کرنا باعث ِ طوالت ہوگا۔

یہی حال امام منتظَر محمد بن الحسن کا ہے۔ بلاشبہ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جن میں سے ہر ایک کا محمد بن الحسن مہدی ہونے کا دعوی ہے۔ ان میں سے بعض لوگوں کے گروہوں کے سامنے بھی آتے اوراظہار کرتے ہیں ۔ اور بعض اس بات کو چھپاتے ہیں ؛ ایک یا دو افراد کے علاوہ کسی پر ظاہر نہیں کرتے ۔ ان میں سے کوئی ایک دعویدار بھی ایسا نہیں ہے جس کا جھوٹ خضر کے مدعی ہونے والے کے جھوٹ کی طرح سامنے نہ آجاتا ہو۔


صفحہ 3 از 3