حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مقابل حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خطاء اجتہادی
اھلسنت و الجماعت کے دلائل
حدیث نمبر 1⃣
حدثنا محمد بن عباد المکی حدثنا ابوسعید عن صدقة بن الربیع عن عمارة بن غزیة عن عبدالرحمن بن ابی سعید عن ابیه قال کنا عند بیت النبی صلی اللہ علیه و سلم فی نفر من المھاجرین و الانصار فخرج علینا فقال الا اخبرکم بخیارکم؟ قالوا بلی قال خیارکم الموفون المطیبون ان اللہ یحب الخفی التقی قال و مر علی بن ابی طالب فقال الحق مع ذا الحق مع ذا
(مسند ابی یعلی الموصلی الموصلی : جلد 2 صفحہ 318، رقم 1052-78)
اس حدیث امام ھیثمی رحمۃالله تعالی نے مجمع الزوائد میں ذکر کرکے لکھا ہے
رواہ ابویعلی و رجالہ ثقات
(مجمع الزوائد جلد 7 صفحہ 337 رقم 12027)
اصل مقصود و مدعی کا ترجمہ
حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کے پاس گذرے تو فرمایا کہ حق ان کے ساتھ ہوگا حق ان کے ساتھ ہوگا
ناصبیوں سے سوال
جمھور اھلسنت والجماعت محدثین کرام کے ہاں اس حدیث کا سوائے اس کے کوئی مطلب نہیں ہے کہ جنگ جمل و صفین میں حضرت علیؓ حق پر تھے اور ان کے مقابلین اجتھادی خطاء پر تھے اگر کوئی اور مطلب ہو تو بتائیں روافض والا مطلب تو قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت معاویہ ؓ سے غیر اجتہادی قطعی خطاء ہوئی ہے؟؟؟
فافھم
اعتراض
اگر کوئی اعتراض کرتا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ ہر معاملہ میں حضرت علی ؓ اپنے مقابل کے مقابلہ میں حق پر ہونگے
جواب:تو اس کا جواب یہ ہے جیسا کہ اھل علم حضرات جانتے ہیں حدیث میں قضیہ مطلقہ آیا ہے جو کہ موجبہ جزئیہ کے حکم میں ہوتا ہے لھذا مراد جزئی طور پر ہے نہ کہ کلی طور پر جیساکہ روافض کہتے ہیں۔
حدیث نمبر 2⃣
حدثنا ابوالعباس محمد بن یعقوب حدثنا ابوالبختری عبید اللہ بن محمد بن شاکر ثنا ابو اسامة ثنا مسلم بن عبد اللہ الاعور عن حبة العرنی قال دخلنا مع ابی مسعود الانصاری علی حذیفة بن الیمان اساله عن الفتن فقال دوروا مع کتاب اللہ حیث ما دار و انظروا الفئة التی فیھا ابن سمیة فاتبعوھا فانه یدور مع کتاب اللہ حیث ما دار قال فقلنا له و من ابن سمیة؟ قال عمار سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم یقول له لن تموت حتی تقتلک الفئة الباغیة تشرب شربة ضیاخ تکن آخر رزقک من الدنیا
ھذا حدیث صحیح عال و لم یخرجاہ
(المستدرک علی الصحیحین :جلد 3 صفحہ 442 رقم 1274/5676 طبع دار الکتب العلمیہ بیروت)
اور امام ذھبی رحمۃاللہ نے بھی تلخیص علی المستدرک میں اس حدیث کو صحیح کہہ کر امام حاکم رحمۃ الله تعالی کی موافقت کی ہے
(المستدرک علی الصحیحین و بذیلہ التلخیص للحافظ الذھبی رحمۃالله تعالی جلد 3 صفحہ 391 طبع دار المعرفۃ بیروت)
اصل مقصود و مدعی کا ترجمہ
حذیفہ بن یمانؓ فرماتے ہیں کہ جس طرف کتاب اللہ ہو اس طرف تم بھی ہونا اور اس جماعت کو دیکھو جس میں سمیہ ؓ کا بیٹا ہو کیونکہ وہ اسی طرف ہونگے جس طرف کتاب اللہ ہوگی حاظرین مجلس نے عرض کیا کہ کون سمیہ ؓکا بیٹا؟ حذیفہ بن یمانؓ نے فرمایا کہ حضرت عمار ؓکیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے وہ حضرت عمارؓ سے فرمارہے تھے کہ تم اس وقت تک نہیں مروگے جبتک باغی جماعت تمہیں قتل نہ کردے اور تم اپنی زندگی کی آخری چیز دودھ پیوگے یہ دنیا میں سے تمھارا آخری رزق ہوگا
اور یہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضرت عمارؓ کو حضرت امیر معاویہؓ کی جماعت کے ایک فرد نے شہید کیا جس سے سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ حضرت علیؓ حق پر تھے اور حضرت امیرمعاویہؓ اجتہادی خطاء پر تھے
اس مضمون کی ایک حدیث دوسری سند کے ساتھ امام بیہقی رحمۃ الله نے اپنی کتاب دلائل النبوة للبیہقی میں اور ابن عساکر رحمۃ اللہ تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر میں اور امام ذھبی رحمہ الله تعالی نے سیر اعلام النبلاء میں بھی ذکر کی ہے
حدیث ملاحظہ کیجئے گا
اخبرنا ابوعبد اللہ الحافظ و ابوبکر بن الحسین القاضی قالا حدثنا ابوالعباس بن محمد بن یعقوب حدثنا ابوبکر محمد بن اسحاق الصغانی حدثنا ابوالجواب حدثنا عمار یعنی ابن رزیق عن عمار الدھنی عن سالم بن ابی الجعد قال جاء رجل الی عبد اللہ بن مسعود فقال له یا ابا عبد الرحمان ان اللہ عز و جل قد امننا من ان یظلمنا و لم یؤمننا من ان یفتننا ارایت ان ادرکت فتنة؟ قال علیک بکتاب اللہ قال ارایت ان کان کلھم یدعون الی کتاب اللہ؟ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم اذا اختلف الناس کان ابن سمیة مع الحق
(دلائل النبوة للبیھقی: جلد 6 صفحہ 321، 322 تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر: جلد 43 صفحہ 403، 404 سیر اعلام النبلاء : جلد 1 صفحہ 415، 416)
اصل مقصود و مدعی کا ترجمہ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا ابا عبد الرحمن اللہ تعالی نے ہمیں اس سے تو امن میں رکھا ہے کہ ہم پر ظلم ہوگا لیکن اس سے امن میں نہیں رکھا کہ ہم فتنہ (آزمائش) میں نہیں پڑینگے لھذا اگر میں فتنہ کو پالوں تو آپ کی کیا رائے ہے میں کیا کروں؟ عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا اللہ کتاب کو لازم پکڑ لو اس نے عرض کیا اگر ہر ایک کتاب اللہ کی طرف بلارہا ہو پھر؟ عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ جب لوگ اختلاف میں پڑ جائے تو ابن سمیہ یعنی حضرت عمار ؓحق کے ساتھ ہونگے۔
نوٹ:
اس حدیث کی سند منقطع ہے جیساکہ امام ذھبی رحمۃالله تعالی نے فرمایا ہے جسکی وجہ سے ضعیف ہے لیکن مستدرک کی صحیح حدیث (جسے امام حاکمؒ نے ھذا حدیث صحیح عال فرمایا اور امام ذھبی ؒ نے ان کی موافقت کی ہے) کے لئے بطور استشھاد کے پیش کرنے میں اصول حدیث کی روشنی میں کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ اھل علم حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ مستدرک کی صحیح حدیث سے اس حدیث کے مضمون کو تقویت مل رہی ہے