فصل:....حدیث مہدی اور رافضی شبہ پر رد ّ - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....حدیث مہدی اور رافضی شبہ پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....حدیث مہدی اور رافضی شبہ پر رد ّ

شیعہ مصنف نے کہا ہے: ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی اسناد سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آخری زمانہ میں میری اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا؛ اس کانام میرے نام پر اور کنیت میری کنیت پر ہوگی ؛ وہ زمین کو عدل و انصاف سے ایسے بھر دیگا جیسے وہ ظلم سے بھری ہوگی ؛ آگاہ رہو وہی مہدی ہوگا۔‘‘

[سلسلہ جوابات]:

پہلا جواب:....آپ لوگ تو اہل سنت و الجماعت کی احادیث سے استدلال نہیں کرتے ؛ ایسی روایت کے نقل کرنے سے آپ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ اہل سنت پر حجت ہے تو پھر اہل سنت علماء کرام کا کلام بھی آگے آرہا ہے [اسے بھی تسلیم کرنا پڑے گا]۔

دوسرا جواب :....اس حدیث کا تعلق خبر واحد سے ہے ؛ پھر اس سے اصول دین میں سے کوئی ایسی اصل کیسے ثابت کی جاسکتی ہے جس کے بغیر ایمان صحیح نہ ہوتا ہو۔

تیسرا جواب:....حدیث کے الفاظ کی دلالت خود تمہارے حق میں نہیں بلکہ خلاف ہے ۔ اس لیے کہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ : ’’ اس کا نام میرے نام پر ہوگا‘اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ جس مہدی کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے ہیں اس کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا نہ کہ محمد بن الحسن۔ اور یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ یہ مہدی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہوگا نہ کہ حسین بن علی کی اولاد سے رضی اللہ عنہم ۔

مہدی کے بارے میں احادیث بہت مشہور و معروف ہیں ۔ انہیں امام احمد ‘ امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی اور دوسرے محدثین رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے ۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہوگا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے نہیں ۔[سنن ابی داود، کتاب المھدی، حدیث:(۴۲۹۰) اموی خلافت کے آخری دور میں بنو ہاشم قبیلہ قریش کے محمد نفس زکیہ بن عبداﷲ بن حسن المثنیٰ بن حسن السبط کو مہدی خیال کرتے تھے، ایک مرتبہ مکہ کو جاتے ہوئے، ابواء کے مقام پر یہ واقعہ پیش آیا کہ وہاں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی نسل کے چند لوگ جمع ہوگئے، عباسی خاندان کے ابراہیم و سفاح، منصور اور صالح بن علی بھی موجود تھے۔ عبداﷲ بن حسن المثنیٰ اور ان کے دونوں بیٹے محمد اور ابراہیم ان سب کے سردار تھے۔ ابو جعفر منصور کے ایماء پر ان سب لوگوں نے محمد بن عبداﷲ بن حسن بن حسن کی بیعت کر لی۔ منصور نے سب سے پہلے بیعت کی، جب عباسی خاندان برسر اقتدار آیا اور منصور خلیفہ قرار پایا، تو اس کی سب سے ]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن بھی باقی ہوگاتو اللہ نے اس دن کو اتنا لمبا کر دیں گے یہاں تک کہ ایک آدمی اہل بیت میں سے بھیجیں گے جس کا نام میرے نام سے اور جس کے باپ کے نام میرے باپ کے نام سے مطابقت رکھتا ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گہ جیسے وہ ظلم وجور سے بھردی گئی تھی۔‘‘[پہلی آرزو یہ تھی کہ کسی طرح اپنے مرشد وہادی محمد بن عبداﷲ کی بیعت سے آزاد ہو اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ابراہیم کو بھی تہ تیغ کر دے۔ اس ضمن میں خاص بات یہ ہے کہ بنی ہاشم کے عقیدہ کے مطابق مہدی امام حسین کی اولاد سے نہیں ، بلکہ حضرت حسن کی نسل سے ہوگا۔ چونکہ محمد بن عبداﷲ بن حسن حدیث نبوی میں مندرج شرائط کے مطابق تھے اورحضرت علی کی روایت کے مطابق آپ حضرت حسن کی اولاد سے تھے، بنا بریں بنی ہاشم نے مہدی سمجھ کر ان کی بیعت کر لی، خواہ ان کا یہ اقدام صحیح ہو یا غلط، اس لیے کہ حدیث سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کا نام رسول اﷲ کے نام پر اور ان کے والد کا نام رسول اﷲ کے والد کے نام پرہوگا، چونکہ شیعہ اس بات کے مدعی تھے کہ حسن عسکری کا ایک بیٹا موجود ہے مگر وہ حسن کے نام کو عبداﷲ کی صورت میں تبدیل کرنے پر قادر نہ تھے لہٰذا انہوں نے صرف اسی پر اکتفا کیا کہ بارہویں امام کا نام محمد ہوگا، مگر حدیث نبوی نے انہیں رسوا کر دیا(کیونکہ ان کے والد کا نام عبداﷲ نہیں ، بلکہ حسن ہے) بہر کیف مہدی سے متعلق احادیث کی چھان بین اور ان کا دقیق و عمیق مطالعہ ضروری ہے۔ سنن ابوداؤد:۴؍۱۵۱؛ ح۸۹۰؛ کتاب المہدی ؛ و صححہ الألبانی في صحیح الجامع الصغیر ؍۷۰۔ اس طرح کی ایک اور حدیث بھی مروی ہے۔ سننِ التِرمِذِیِ:۳؍۳۴۳کتاب الفِتنِ، باب ما جاء فِی المہدِی وقال التِرمِذِی: وفِی البابِ عن علِی، وأبِی سعِید ن وأمِ سلمۃ، وأبِی ہریرۃ، ہذا حسن صحِیح۔وأوردہ ابن ماجہ فِی سننِہِ:۲؍۹۲۸، کِتاب الجِہادِ، باب ذِکرِ الدیلمیِ وفضلِ قزوِین ۔ ]

چوتھا جواب :....یہ حدیث جو ذکر کی ہے ‘ اس میں ہے کہ اس کا نام میرے نام کے مطابق اور اس کی کنیت میری کنیت کے مطابق ہوگی۔ اس میں یہ نہیں کہا کہ : اس کا نام میرے نام پر اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا۔اہل علم نے حدیث کی معروف ترین کتب میں یہ روایت ان الفاظ میں نقل نہیں کی۔ اس رافضی نے حدیث کوکتب احادیث میں وارد اس کے معروف الفاظ میں نقل نہیں کیا ؛ جیسا کہ مسند احمد ؛ سنن ابی داؤد ترمذی اور دوسری کتب حدیث میں ہے۔بلکہ اس نے اپنی طرف سے تراشے ہوئے جھوٹے الفاظ میں نقل کی ہے [تاکہ اپنے مسئلہ پر استدلال کرسکے ]۔

٭ شیعہ مصنف کا یہ قول کہ : ’’ ابن جوزی نے اپنی سند سے روایت کیا ہے ۔‘‘

صفحہ 1 از 3