فصل:....حدیث مہدی اور رافضی شبہ پر رد ّ - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....حدیث مہدی اور رافضی شبہ پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

٭ اگر اس سے مراد وہ مشہور عالم ہیں جن کی بہت زیادہ کتب ہیں ؛ یعنی ابو الفرج ابن جوزی ؛ تو پھر یہ آپ پر جھوٹ ہے اور اگر اس سے مقصود ان کا نواسہ یوسف بن قز أوغلی[اس کا پورا نام ابو مظفر یوسف بن قز أوغلی بن عبداللہ بن سبط ابو الفرج بن الجوزی ہے۔قز اوغلی ترکی زبان کا لفظ ہے؛ جس کا معنی ہے نواسا۔ یہ مؤرخ اوروعظ ہو گزراہے۔ ۵۸۱ھ میں بغداد میں پیدا ہوا؛ پھر دمشق منتقل ہوکیا؛ اور وہیں پرزندگی گزاری ؛ ۶۵۴ ھ میں وفات پائی۔ اس کی کتاب ’’مرأۃ الزمان ‘‘ اور ’’تذکرۃ خواص الأمۃ بذکر خصائص الائمۃ ‘‘ ہیں ۔ یہ کتابیں ۱۹۶۴ء میں نجف اشرف سے طبع ہو چکی ہیں ۔ علامہ ذہبی نے اس کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے کہا ہے: ’’ اس نے اپنے نانا کے علاوہ علماء کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے۔ اس کی کتاب مرأۃ الزمان میں منکر روایات ہیں ۔ اورروایت نقل کرنے میں ثقہ نہیں ہے۔ پھر یہ کہ یہ آدمی رافضی ہوگیا تھا۔ اس کی ایک کتاب اس سلسلہ میں بھی ہے۔ [میزان الاعتدال ۴؍ ۴۷۱]] ’’مرأۃ الزمان ‘‘ تاریخ کا مصنف ہے؛ اور جس نے ’’ اثنا عشریہ ‘‘ پر بھی کتاب لکھی ہے جس کا نام اس نے رکھاہے :’’ اعلام الخواص ‘‘؛ تو یہ انسان اپنی کتابوں میں ہر طرح کی باتیں ذکر کردیتا ہے ۔ اور اپنے مطلب کی بات پر حجت پیش کرنے کے لیے ضعیف اور موضوع روایات تک سے استدلال کرتا ہے۔ یہ صاحب لوگوں کی حاجات اور مقاصد کے مطابق تالیف کیا کرتے تھے۔ شیعہ کے لیے ایسی کتابیں لکھتے جو ان کے لیے مناسب ہوتیں تاکہ ان سے معاوضہ حاصل کرسکیں ۔اور بعض بادشاہوں کے لیے حنفی مذہب کے مطابق کتب لکھتے تاکہ ان سے اپنی اغراض پوری کرسکیں ۔ان کا طریقہ اس واعظ جیسا تھا جس سے پوچھا گیا : تم کس مذہب پر ہو ؟ تو اس نے جواب میں پوچھا: کون سے شہر میں ؟

یہی وجہ ہے کہ اس کی بعض کتابوں میں خلفاء راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں تنقید اور مثالب پائے جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شیعہ کے بارے میں نرم گوشہ اختیار کرکے ان کی توجہ چاہتے تھے۔ اور بعض کتابوں میں خلفاء راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کی تعظیم و مناقب پائے جاتے ہیں ۔ جب اہل علم کے سلف و خلف کے ہاں مہدی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور حدیث ان الفاظ میں تھی :

’’جس کا نام میرے نام سے اور جس کے باپ کے نام میرے باپ کے نام سے مطابقت رکھتا ہوگا‘‘

تو پھر بہت سارے لوگ یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش وہی مہدی ہوں ۔ یہاں تک کہ منصور نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا اور اسے مہدی کا لقب دیا تاکہ اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے اوراس کے باپ کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باپ کے نام کے مطابق ہوجائے ۔مگر یہ مہدی موعودہر گز نہیں تھا۔

ابو عبد اللہ محمد بن التومرت جس کا لقب مہدی تھا ؛ جس کا ظہور مغرب میں ہوا‘ اور اس نے اپنی جماعت کے لوگوں کو موحدین کا نام دیا ۔ اس کے احوال معروف ہیں ۔اس کا یہ دعوی تھا کہ وہ وہی مہدی ہے جس کے متعلق احادیث میں بشارت سنائی گئی ہے؛ اسکے ماننے والے خطبہ دیتے ہوئے منبر پر اس کا نام لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے خطبات میں یوں کہا کرتے تھے:

((الإمام المعصوم المہدي المعلوم الذي بشرت بہ في صریح وحیک الذي الکتنفتہ بالنور الواضح والعدل اللائح؛ الذي ملأ البریۃ قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلماً و جوراً۔))

’’اس مہدی کا ظہور سن پانچ سو ہجری کے کچھ عرصہ کے بعد ہوا اور پانچ سو چوبیس ہجری میں انتقال کرگیا۔ اس کی نسبت آل حسن رضی اللہ عنہ کی طرف کی جاتی تھی۔ چونکہ یہ علم حدیث رکھنے والا انسان تھا ؛ اس لیے اس نے یہ دعوی کیا کہ اسی کے متعلق بشارت دی گئی ہے۔ حالانکہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔اور نہیں ہی اس نے زمین کو عدل و انصاف سے بھرا۔ اس نے دین میں کئی بدعات بھی داخل کیں ‘ اور کئی ایک اچھے کام بھی کئے۔ ‘‘

اس سے قبل عبیداللہ بن میمون قداح نے بھی مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا۔ مگر نہ ہی اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مطابقت رکھتا تھا اورنہ ہی اس کے والد کانام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام سے مطابق تھا۔ اس کادعوی تھا کہ وہ محمد بن اسماعیل بن جعفر کی اولاد سے ہے۔ اور میمون ہی محمد بن اسماعیل ے۔ شجرہ نسب کے ماہرین اوردوسرے علماء کرام جانتے ہیں کہ اس کا نسب کا دعوی جھوٹ پر مبنی ہے۔ اوریہ کہ اس کا والد خود یہودی تھا جو کہ ایک مجوسی کا لے پالک تھا۔ اس لحاظ سے اس کی دو نسبتیں ہیں : ایک نسبت یہود کی طرف اور دوسری نسبت مجوس کی طرف ۔

عبیداللہ اور اس کے اہل خانہ ملحدین تھے۔ ان کا تعلق اسماعیلیہ فرقہ کے ائمہ میں سے ہوتا ہے؛ جن کے بارے میں علماء کرام فرماتے ہیں : ’’ ان کا مذہب ظاہر میں رافضیت ہے ‘ اور باطن میں خالص کفر ہے ۔‘‘

ان کے اسرار اور خفیہ رازوں سے پردہ چاک کرنے کے لیے علماء کرام نے کئی ایک کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ جن میں ان کے نسب کے جھوٹ اوراسلام کے جھوٹے دعوی سے پردہ چاک کیا گیا ہے۔ اوریہ کہ ان لوگوں کا دین اسلام یا نسب کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں ۔

عبیداللہ بن میمون قداح کا ظہور سن ۲۹۹ہجری میں ہوا۔ اورسن ۳۲۳ہجری میں ہلاک ہوگیا۔ پھر اس کے بعد اس کا بیٹا القائم اس کا جانشین بنا۔ پھر اس کے بعد اس کا بیٹا المنصور جانشین ہوا۔ پھر اس کے بعد اس کا بیٹا المعز؛ جس نے قاہرہ شہر کی تعمیر کی ۔ پھر اس کے بعد العزیز؛ اس کے بعد الحاکم ‘ پھر اس کا بیٹا الظاہر ؛ پھر اس کا بیٹا المستنصرجانشین بنا ۔ اس کی ولایت کا عرصہ بہت طویل رہا۔ اسی کے دور میں ’’ بساسیری ‘‘کا فتنہ بپا ہوا۔ بغداد میں ایک سال تک اس کے نام کا خطبہ دیا جاتا رہا۔ اور ابن الصباح جس نے اسماعیلیہ کے لیے چھری کی بدعت ایجاد کی وہ اسی مستنصر کے پیروکاروں میں سے تھا۔

سن پانچ سو اڑسٹھ ہجری میں دیار مصر [قاہرہ] میں ان لوگوں کی حکومت کا خاتمہ ہو ا۔ یہ لوگ دو سو سال سے زیادہ عرصہ تک مصر پر غالب رہے۔ منافقت و ارتداد ا‘ الحاد اور اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی میں ان لوگوں کے واقعات و قصص سے علماء کرام اچھی طرح خبردار ہیں ۔

صفحہ 2 از 3