قائد کے حقوق
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطوط، نصائح اور رہنمائیوں میں اسلامی فوج کے قائد کے کچھ حقوق بتائے ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
امیر کی اطاعت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ابوعبید بن مسعود ثقفی رحمہ اللہ کو محاذ عراق پر جانے والی اسلامی فوج کا امیر لشکر بنا کر بھیجا تو ان کے ساتھ حضرت سلمہ بن اسلم خزرجی اور سلیط بن قیس انصاری رضی اللہ عنہما کو بھی بھیجا اور حضرت ابوعبیدؒ کو حکم دیا کہ یہ دونوں بدری صحابی ہیں، ان دونوں سے مشورہ لیے بغیر کوئی کام مت کرنا۔ معرکہ جسر کے موقع پر حضرت ابوعبیدؒ نے فارسیوں سے جنگ لڑی، حضرت سلیط رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ کو مشورہ دیا تھا کہ دریا عبور کر کے جنگ نہ لڑیں، لیکن وہ نہ مانے اور نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی لشکر کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ چنانچہ ایک مرتبہ سلیط رضی اللہ عنہ نے ابوعبید رحمہ اللہ سے اسباب ہزیمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اگر میں امیر کے حکم کی سرتابی حرام نہ سمجھتا تو اس وقت لوگوں کو لے کر الگ ہو جاتا اگرچہ آپؒ سے غلطی ہوئی، لیکن میں آپؒ کی بات مانتا اور اطاعت کرتا رہا، حالانکہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کا مشیر بنا کر بھیجا تھا۔
(العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 66)