فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 11

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور 

شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’یہ تھے معصوم ائمہ جو فضل و کمال کی آخری حد تک پہنچ گئے اور دوسرے اماموں کی طرح حکومت و سلطنت ، فواحش و منکرات، لغویات اور شراب نوشی میں منہمک نہ ہوئے۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ہی لوگوں سے وہ سلوک کیا جو لوگوں کے مابین تواتر کے ساتھ مشہور ہے۔ اسی بنا پر امامیہ کہتے ہیں کہ اللہکریم ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:

اِذَا شِئْتَ اَنْ تَرْضیٰ لِنَفْسِکَ مَذْہَبًا

وَتَعْلَمَ اَنَّ النَّاسَ فِیْ نَقْلِ اَخْبَارٖ

فَدَعْ عَنْکَ قَوْلَ الشَّافِعِیِّ وَ مَالِکٍ

وَاَحْمَدَ وَالْمَرْوِیِّ عَنْ کَعْبِ اَحْبَارٖ

وََوَالِ اُنَاسًا قَوْلُہُمْ وَحَدِیْثُہُم

رَوٰی جَدُّنَا عَنْ جِبْرِیْلَ عَنِ الْبَارِیْ

۱۔جب تو اپنے لیے کوئی مذہب پسند کرنا چاہے اور یہ معلوم کرنا چاہے کہ روایات کے نقل کرنے میں لوگوں کی کیا حالت ہے۔

۲۔تو شافعی، مالک اور احمد کے اقوال اور کعب احبار کی روایات ترک کردو۔

۳۔اور ان لوگوں سے دوستانہ مراسم استوار کر جن کا قول اور حدیث یہ ہے کہ ہمارے نانا نے جبریل سے اور جبریل نے باری تعالیٰ سے روایت کی۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

اہل سنت کے جوابات:

شیعہ مصنف کی ذکر کردہ دلیل کا جواب کئی طرح پر ہے:

پہلا جواب: ....اماموں کے معصوم ہونے کی شیعہ کے پاس اس دعوی کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ ہر زمانہ میں امام معصوم کا وجود لوگوں کے لیے لطف و مصلحت کا باعث ہوتا ہے، لہٰذا ایسے امام کا وجود از بس ناگزیر ہے۔ ہم قبل ازیں اس دلیل کا بطلان و فساد کئی وجوہ سے واضح کر چکے ہیں کہ:

۱۔ یہ لطف و مصلحت موجود نہیں مفقود ہے، اس لیے کہ یہ امام ہنوز مفقود ہے اور شیعہ بے تابی سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔

۲۔ [رافضی اصولوں کے مطابق ] کوئی ایسا امام موجود نہیں ہے جس سے لطف و مصلحت حاصل ہوئی ہو۔

۳۔ ایسے امام کی نفی کیلئے یہی دلیل کافی ہے کہ امام کا وجود صریح عقل کے منافی ہے اور کسی شخص نے امام منتظر سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ کسی مکلف کو کوئی مصلحت حاصل ہوئی، تاہم اسکے علاوہ دیگر دلائل و براہین بھی موجود ہیں ۔

دوسرا جواب: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ ہر امام فضل و کمال کی انتہا کو پہنچ گیا۔‘‘ یہ دعویٰ بلادلیل ہے ۔بلاعلم قول کا بمقابلہ اس جیسے ہی قول سے کیا جاسکتا ہے ۔اور ہر شخص ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔ خصوصاً جب کہ یہ دعویٰ صحابہ و تابعین کے بارے میں کیا جائے جو علم و فضل اور تدین و تشرع میں دونوں گروہوں کے لوگوں میں اور ان کے امثال میں موجود تھے ؛اور ان کے اتباع سے افضل واشہر تھے۔ تو یہ دعویٰ اولیٰ بالقبول ہوگا۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ دینی اور علمی فضائل کو کئی ایک ائمہ دین سے تواتر کے ساتھ نقل کی گئی ہیں ؛وہ ان اخبار سے بہت زیادہ ہیں جو جھوٹ موٹ عسکریین اور ان کے امثال کے بارے میں نقل کی گئی ہیں ؛ سچائی کو تو دور چھوڑیے۔

تیسرا جواب: اگر شیعہ مصنف کاقول : ’’ہمارے یہ ائمہ۔‘‘اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ یہ ائمہ قوت و شوکت اور سیف و سنان سے بہرہ ور تھے تو یہ صریح کذب ہے۔ خصوصاً جب کہ وہ خود بھی اس کے مدعی نہیں ۔ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا سب امام اپنے آپ کو عاجز و مغلوب قرار دیتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اگرچہ خلافت و سلطنت سے بہرہ ور تھے، تاہم متعدد امور میں آپ کو سخت تکالیف کا سامنا ہوا۔[سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مشکلات کا دائرہ کافی وسیع ہے، مثلاً یہ کہ آپ کے رفقاء کما حقہ آپ کی اطاعت نہیں کرتے تھے، جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ آپ صدق دل سے قاتلین حضرت عثمان سے قصاص لینا چاہتے تھے، مگر آپ کے شیعہ اس میں روڑے اٹکاتے رہتے تھے، علاوہ ازیں ابن سباکی، دسیسہ کاریوں سے متاثر ہو کر آپ کے ارادت مندوں میں کفر و الحاد کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے ان میں سے ایک فریق کو نظر آتش کر دیا، اور دوسرے کو جلا وطن کیا، نیز آپ کے شیعہ میں سے کچھ لوگ آپ کے مخالف بن گئے تھے، اس کے علاوہ بھی بہت سی تکالیف تھیں جن کا شکوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود فرمایا کرتے تھے۔]اس پر مزید یہ کہ آدھی امت مسلمہ یا اس سے کم و بیش نے سرے سے آپ کی بیعت ہی نہیں کی۔ بلکہ آپ کے خلاف نبرد آزما ہوئے، بہت سے لوگوں نے نہ آپ کی مخالفت کی نہ معاونت بلکہ غیر جانب دار رہے؛ نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑے اور نہ ہی آپ کے ساتھ مل کر لڑے۔ اور ان میں ایسے اصحاب علم و فضل بھی تھے کہ ان جیسے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہ تھے۔بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ جو لوگ لڑائی سے پیچھے رہے ؛ وہ ان لوگوں سے بہت افضل تھے جنہوں نے آپ سے جنگ کی ‘اور جنہوں نے آپ سے مل کر جنگ کی ۔ یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے حرب و پیکار میں حضرت علی کا ساتھ نہ دیا وہ آپ کے احباب و انصار کی نسبت افضل تھے۔

اگر شیعہ قلم کار کی مراد یہ ہے کہ شیعہ کے اکابر علم و دین کے بل بوتے پر امام قرار دئیے جانے کا استحقاق رکھتے تھے تو اگر اس دعوی کی صحت ثابت بھی ہو جائے تو اس سے ان کا واجب الاطاعت امام ہونا لازم نہیں آتا ۔ جس طرح کسی شخص کے مستحق امامت یا قاضی بننے کی صلاحیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ فی الواقع امام یا قاضی ہو۔ یا امارت حرب کی صلاحیت سے بہرہ ور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ درحقیقت اس منصب پر فائز ہو۔ نماز اس شخص کی اقتداء میں جائز ہے جو بالفعل امام ہو نہ کہ مستحق امامت کے پیچھے۔ بعینہ اسی طرح لوگوں کے متنازع امور میں فیصلہ وہی شخص صادر کرے گا جو صاحب سلطنت و قدرت ہو نہ کہ وہ شخص جو قضا کا استحقاق رکھتا ہو ۔ لشکر اس شخص کے زیر فرمان لڑے گا جو ان کا امیر حرب ہو نہ کہ مستحق امارت کے زیر اثر ؛جو کہ امیر کارواں ہی نہ ہو۔

صفحہ 1 از 11