فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 11

شیعہ کے نزدیک یہ یگانہ روز گار عالم تھا، بعض شیعہ کا قول ہے کہ علوم اسلامیہ کے اعتبار سے بلاد مشرق میں یہ عدیم المثال فاضل تھا۔[چنانچہ شیعہ جب ’’ علامہ ‘‘ کا لفظ علی الاطلاق بولتے ہیں تو اس سے مراد ابن المطہر لیتے ہیں ، شیعہ ابن المطہر کو آیت اﷲ فی العالمین، نور اﷲ ، استاذ الخلائق، مرکز اسلام وغیرہ القاب سے یاد کرتے اور عجمی طرز و انداز کی یہ مبالغہ آمیزی کرتے ہوئے اﷲ سے نہیں ڈرتے، کتاب ہذا کا قاری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ابن المطہر حد درجہ جاہل اور فریب کار شخص ہے اور اس کا دل رسول اﷲ کے اقوال و اعمال کے حامل صحابہ و تابعین کی عداوت سے لبریز ہے، مقام حیرت ہے کہ کرۂ ارضی میں اﷲ کے آخری پیغام کو پھیلانے والے صحابہ کے بارے میں شیعہ جس دریدہ دہنی کا ارتکاب کرتے ہیں شائد کوئی غیر مسلم مستشرق بلکہ عیسائی مشنری بھی ایسا نہ کر سکتے۔]بایں ہمہ اس کے رشحات قلم سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال و اقوال و اعمال میں اس کرۂ ارضی پر شاید ہی کوئی دوسرا آدمی اس سے زیادہ جاہل ہو، وہ ایسی جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے، جن کا جھوٹا ہونا مختلف وجوہ و اسباب سے ظاہر ہوتا ہے، دو ہی صورتیں ممکن ہیں :

۱۔ اگر وہ دانستہ جھوٹی روایات بیان کرتا ہے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:’’ جو میری طرف سے کوئی حدیث بیان کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹی ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ہے۔‘‘[صحیح مسلم۔ المقدمۃ باب وجوب الروایۃ عن الثقات(حدیث:....)]

۲۔ اگر اس کے جھوٹا ہونے سے آگاہ نہیں تو وہ رسول اللہ کے بارے میں اجہل الناس ہے۔

کسی شاعر نے کہا ہے:

فَاِنْ کُنْتَ لَا تَدْرِیْ فَتِلْکَ مُصِیْبَۃٌ

وَاِنْ کُنْتَ تَدْرِیْ فَالْمُصِیْبَۃُ اَعْظَمُ

’’اگر تو جانتا نہیں تو یہ مصیبت کا باعث ہے اور اگر جانتا ہے تو یہ اس سے بھی بڑی آفت ہے۔‘‘

شیعہ ناظم کے جو اشعار ازیں تحریر کیے جاچکے ہیں ان کے جواب میں مندرجہ ذیل اشعار کہے گئے ہیں :

اِذَا شِئْتَ اَنْ تَرْضٰی لِنَفْسِکَ مَذْہَبًا

تَنَالُ بِہِ الزُّلْفٰی وَتَنْجُوْ مِنَ النَّارِ

فَدِنْ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَالسُّنَّۃِ الَّتِیْ

اَتَتْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ مِنْ نَقْلِ اَخْیَارِ

فَدَعْ عَنْکَ دَاعِیَ الرَّفْضِ وَالْبِدْعِ الَّتِی

یَقُوْدُکَ دَاعِیْہَا اِلَی النَّارِ وَالْعَارِ

وَ سِرْْ خَلْفَ اَصْحَابِ الرَّسُوْلِ فَاِنَّہُمْ

نَجُوْمُ ہُدًی فِیْ ضَوْئِہَا یَہْتَدِیئَ السَّارِیْ

وَعُجْ عَنْ طَرِیْقِ الرَّفْضِ فَہُوَ مُوسَّسٌ

عَلَی الْکُفْرِ تَاسِیْسًا عَلٰی جُرُفٍ ہَارِ

ہُمَا خُطَّتَانِ اِمَّا ہُدًی وَسَعَادَۃٌ

وَاَمَّا شَقَآئٌ مَعَ ضَلَالَۃِ کُفَّارِ

فَاَیُّ فَرِیقیناً اَحَقُّ بِاَمْنِہٖ

وَاَہْدیٰ سَبِیْلًا عِنْدَ مَا یَحْکُمُ الْبَارِیْ

اَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَ الرَّسُوْلِ وَخَالَفَ

الْکِتَابَ وَلَمْ یَعْبَاْ بِثَابِتِ اَخْبَارِ

اَمِ الْمُقْتَدِیْ بِالْوَحْیِ یَسْلُکُ

مَنْہَجَ الصَّحَابَۃِ مَعَ حُبِّ الْقِرَابَۃِ الْاَطْہَارِ

۱۔ جب تو اپنے لیے ایسا مذہب پسند کرنا چاہے جس سے اللہ کا قرب حاصل کر سکے اور دوزخ سے نجات پائے۔

۲۔ تو کتاب اللہ تعالیٰ اور ان احادیث نبویہ کی اطاعت کیجئے جو نیک لوگوں کی روایت سے ہم تک پہنچیں ۔

۳۔ رفض و بدعات کے داعی کو چھوڑیے کہ یہ شخص ناروعار کی جانب لے جاتا ہے۔

۳۔ اصحاب رسول کے نقش قدم پر چل اس لیے کہ وہ ہدایت کے ستارے ہیں جن کی روشنی میں چل کر سالک راہ ہدایت پاسکتا ہے۔

۵۔ رفض اور تشیع کی راہ سے منحرف ہو جا۔ اس لیے کہ اس کی اساس کفر اور ایک گر پڑنے والے گڑھے پر رکھی گئی ہے۔

۶۔ (دنیامیں )دو ہی باتیں ہیں یا تو ہدایت وسعادت ہے اور یا ضلالت کفار کے ساتھ ملی ہوئی بدبختی ہے۔

۷۔ ذرا غور فرمائیے اہل سنت و شیعہ کے دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق اس وقت امن کا زیادہ حق دار اور راہ رست پر ہوگا۔جب اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرمائیں گے۔

۸۔ کیا وہ شخص (حق پر ہوگا) جو اصحاب رسول کو گالیاں بکے، کتاب اللہ تعالیٰ کی خلاف ورزی کرے اور احادیث صحیحہ کی پرواہ نہ کرے۔

۹۔ یا وہ شخص (راہ حق کا سالک ہے) جو وحی کی پیروی کرتا، راہ صحابہ پر گامزن ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت اطہار کے ساتھ بھی محبت رکھتا ہے۔


صفحہ 11 از 11