فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 11

خلاصہ کلام! ہر فعل قدرت کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ لہٰذا قدرت و سلطنت سے محروم شخص ولایت و امارت پر فائز نہیں ہو سکتا۔ استحقاق ایک جدا گانہ شے ہے؛ اگرچہ وہ اس کا استحقاق رکھتا ہو کہ اسے قدرت و سلطنت سے بہرہ ور کیا جائے ؛مگر اس منصب پر بہرہ ور ہونے والے کے ہم پلہ ہرگز نہیں ۔ پس کسی کا قدرت و سلطنت کا مستحق ہونے سے اس کا ان امور سے فی الواقع بہرہ ور ہونا لازم نہیں آجاتا۔ خلیفہ و امام دراصل وہ ہوتا ہے، جو شوکت و قدرت کی صفات سے موصوف ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ائمہ میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا ایک امام بھی ایسا نہیں جو ان صفات سے بہرہ ور ہو۔

چوتھا جواب:....ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ استحقاق سے تمہاری مراد کیا ہے؟ کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ باقی تمام قریش کو چھوڑ کر ائمہ شیعہ میں سے کسی ایک کا خلیفہ ہونا ضروری تھا؟ یا یہ مطلب کہ آئمہ میں سے ہر ایک ان لوگوں میں سے ہے جو خلافت کی صلاحیت رکھتے ہیں ؟ پہلی بات اس لیے غلط ہے کہ احادیث نبویہ سے صراحۃً امامت قریش کا ثبوت ملتا ہے ۔ اور اگر دوسری بات تسلیم کی جائے تو اس وصف میں قریش کے دوسرے لوگ مساوی طور پر شریک ہیں ۔

پانچواں جواب:....ان سے کہا جائے گا کہ : امام وہ ہے جس کی اقتدا کی جائے؛ اس کے دو طریقے ہیں :

۱ول:....علم و دین میں اس کی طرف رجوع کیا جائے اور اطاعت کنندہ اس بنا پر اس کی اطاعت اختیار کرے کہ وہ اللہتعالیٰ کے اوامر و احکام اس کے بندوں تک پہنچاتا ہے تاہم اس میں ایسی کوئی قوت نہیں ہوتی کہ کسی کو اپنی اطاعت پر مجبور کر سکے۔

دوم:....دوسری صورت یہ ہے کہ وہ صاحب قوت و شوکت اور مالک سیف و سنان ہو۔ اور لوگوں کو طوعاً و کرہاً اس کی اطاعت کرنی پڑے، آیت کریمہ﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ﴾ میں ’’ اولی الامر ‘‘ سے اصحاب قدرت مثلاً امراء حرب اور علماء دونوں مراد لیے گئے ہیں ۔ اور یہ دونوں معانی حق ہیں ۔ یہ اوصاف یوں تو چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں مکمل طور پر پائے جاتے ہیں ۔ وہ علم و عدل اورسیاست و سیف و سنان دونوں کے دھنی تھے۔ تاہم ان میں بھی تفاوت درجات موجود ہے، مثلاً حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کی نسبت اکمل و افضل تھے۔ ان کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی خلیفہ ان اوصاف کا جامع نہ تھا۔ بعض اشخاص خلفاء و سلاطین کی نسبت علم و فضل و دین داری میں آگے تھے، بعض حکومت و سلطنت میں کامل تھے، مگر علم و فضل اور تدین میں ان کو وہ مقام حاصل نہ تھا۔

اگر شیعہ کے آئمہ کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ بااقتدار بھی تھے، تو یہ باطل ہے۔ اور وہ خود بھی اس کے مدعی نہیں تھے۔ اور اگر اقتدار سے محرومی کے باوصف علم و دین میں ان کی امامت کو تسلیم کیا جائے؛اور یہ لوگ کسی دوسرے سے اپنی بات منوانے کی قدرت نہ رکھتے تھے ؛ تو دوسرے علماء بھی اس وصف میں ان کے شریک تھے۔[یہ پھر ان کی کوئی خصوصیت نہ ہوئی] بلکہ ان کے معاصرین میں سے بہت سے علماء ، علم و تقویٰ میں ان سے بہت آگے تھے۔ اس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ ان کے معاصرین سے جو علمی آثار نقل ہو کر ہم تک پہنچے ہیں وہ ائمہ شیعہ کی علمی خدمات سے بہت زیادہ ہیں ۔ شیعہ کے متقدمین ائمہ مثلاً علی بن حسین رحمہ اللہ ان کے بیٹے ابو جعفر رحمہ اللہ اور ان کے بیٹے جعفر بن محمد رحمہ اللہ سے کچھ علمی آثار نقل ہو کر ہم تک پہنچے ہیں ، مگر اس میں شبہ نہیں کہ ان کے معاصرین کی علمی خدمات ان پر بدر جہا فائق ہیں ۔

متاخرین آئمہ شیعہ کی علمی خدمات کا دائرہ بے حد محدود ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ اس دور کے مشاہیر اصحاب علم و حدیث و فتویٰ کے زمرہ میں شمار ہی نہیں کیے جاتے، ان کی شان میں جو مناقب و محاسن ذکر کیے جاتے ہیں اس سے زیادہ فضائل ان کے ہم عصر علماء کے بیان کیے جاتے ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ :یہ آئمہ علم اور دین کے اعتبار سے تمام امت سے افضل ہیں ۔ ‘‘[عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو حضرت امیر معاویہ سے افضل و اعلم قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ تابعین کرام جیسے حسن بصری اور امام شریک وغیرہ سے منقول ہے اگر لوگ حضرت امیر معاویہ کو دیکھ لیتے تو انہیں مہدی گمان کرنے لگتے۔ابن تیمیہ کے بقول آپ دنیاکے بہترین بادشاہوں میں سے تھے ۔ [الدراوی ]] [تاریخی حقائق کے پیش نظر ان کو علم دین میں افضل الامت قرار دینا خلاف واقع ہے]۔

دونوں صورتوں میں ائمہ شیعہ کی امامت اہل سنت کے نزدیک مسلم ہے، اس کی وجہ اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص بھی اللہ و رسول کی اطاعت کی دعوت دیتا اور اعمال صالحہ کی تلقین کرتا؛ اور خود وہ کام کرتا ہو جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ہو تو اس کی بات مان لینی چاہیے۔ بنا بریں اہل سنت اعمال صالحہ کی جانب دعوت و تبلیغ میں ائمہ کی اطاعت کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔[بلاشبہ ان امور میں یہ ائمہ مقتدی ہیں ]۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ﴾ (سجدۃ:۲۳)

’’اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا:

﴿ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا﴾ (البقرۃ:۱۲۳)

’’میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں ۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ شمشیر بکف لوگوں سے لڑیں گے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ آپ واجب الاطاعت ہوں گے، یہ دوسری بات ہے کہ لوگ آپ کی اطاعت کریں یا اس سے منحرف ہو جائیں ۔پس یہ لوگ اور ان کے امثال حقیقت میں قابل تقلید نمونہ ہیں ۔

صفحہ 2 از 11