فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 11

شیعہ کے امام، اہل سنت آئمہ کی طرح عزو شرف کے حامل ہیں اور اہل سنت ان باتوں میں ان کی اطاعت کرتے ہیں جن امور میں شرعاً ان کی فرمانبرداری روا ہے۔ شیعہ کے ائمہ کا اجلال و اکرام اہل سنت کے یہاں اسی طرح ضروری ہے جس طرح ان کے مسلم ائمہ کی عزت و افزائی مثلاً ابوبکر و عمر ،ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ، ابو الدرداء اور سابقین اولین میں سے ان کے ہمنوا و ہم پلہ لوگ رضی اللہ عنہم ۔ اور تابعین و تبع تابعین میں سے سعید ابن المسیب؛ سلیمان بن یسار، عبیداللہ بن عبداللہ، عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابوبکر بن عبدالرحمن، خارجہ بن زید؛ یہ لوگ مدینہ کے سات فقہاء ہیں ۔

جیسے علقمہ، اسود بن زید،اسامہ بن زید، محمد بن سیرین، حسن بصری، سالم بن عبداللہ، ہشام بن عروہ، عبدالرحمن بن قاسم، زہری، یحییٰ بن سعید انصاری، ابوالزناد۔علاوہ ازیں امام مالک، اوزاعی، لیث بن سعد، ابو حنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل ، اسحاق بن ابراہیم وغیرہم رحمہم اللہ ۔

مذکورہ بالا اصحاب کی علمی حیثیت ہر گز مساوی نہیں ، بلکہ ان میں بعض اکابر کا علمی پایہ حدیث اور فتوی میں دوسروں کی نسبت بلند تر ہے۔ اور ان کی شہرت کثرت علم، قوت دلیل یا دوسرے اوصاف کی رہین منت ہے۔ بنابریں اہل سنت یہ نہیں کہتے کہ یحییٰ بن سعید، ہشام بن عروہ اور ابو الزناد رحمہم اللہ ، جعفر بن محمد رحمہ اللہ کی نسبت اولیٰ بالاتباع ہیں ۔

علی ہذا القیاس وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ امام زہری، یحییٰ بن ابی کثیر، حماد بن ابی سلمہ، سلیمان بن یسار اور منصور بن معتمر کی اطاعت جعفر بن محمد کے والد ابو جعفر الباقر کی نسبت واجب تر ہے، نہ یہ کہ قاسم بن محمد ،عروہ بن زبیر اور سالم بن عبداللہ رحمہم اللہ کی فرمانبرداری علی بن حسین کی اطاعت سے زیادہ ضروری ہے۔

اس کے عین برخلاف اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر امام کی مرویات و منقولات وثوق و اعتماد کے قابل ہیں ۔اور جو کچھ ان سے نقل کیا گیا ہے؛ اس میں وہسچے ہیں ۔اور کتاب و سنت کی روشنی میں ان کا جو حکم واضح ہو؛توپس وہی اصل علم ہے جو ان لوگوں سے مستفاد ہورہا ہے۔[بشرطیکہ امام سے روایت کرنے والے صادق الروایت و ثقہ ہوں بعض شیعہ نے امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ کی شان میں اس دعوی کے ساتھ سوء ادبی کی جسارت کی ہے کہ آپ نے اہل بیت کی روایات نقل کرنے میں بخل سے کام لیا ہے، یہ ایک عظیم جسارت و سفاہت ہے، واقعہ یہ ہے کہ امام موصوف نے اس ضمن میں تساہل سے کام نہیں لیا، بخلاف ازیں ان کے یہاں روایت حدیث کے شرائط ان راویوں میں سرے سے مفقود ہیں جو اہل بیت سے روایات نقل کرتے ہیں بلکہ ایسی روایات جھوٹ کا طومار ہیں اور انہوں نے اپنی کتاب کو روایات کا ذبہ سے پاک رکھنے کے التزام کو قائم رکھا ہے، صدر کتاب میں ہم امام مالک، شافعی، یزید بن ہارون، اور اعمش کے اقوال درج کر چکے ہیں کہ شیعہ وضاع و کذاب ہوتے ہیں ، بے شک صدق شعار مبتدع کی روایت اس شرط کے ساتھ مقبول ہے کہ وہ اپنی بدعت کا داعی نہ ہو، مگر شیعہ اس سے مستثنیٰ ہیں ، شیعہ کی روایت اہل بیت وغیر اہل بیت کسی سے بھی مقبول نہیں اس لیے کہ وہ احادیث کو وضع کر کے ان کو دین و مذہب کا درجہ دیتے ہیں ، مسلمانوں کے لئے شیعہ کی جھوٹی روایات اور ان کا تاریخی اختلاف ہی کافی ہے، کیا امام بخاری سے انہیں اس بات کی توقع تھی، کہ وہ ان کی دروغ گوئی کے دھوکہ میں آجائیں گے۔] [اور کتاب وسنت کی مطابقت وتوضیح میں ان کاہر ارشاد واجب الاتباع ہے]۔ جب کوئی امام ایسا فتویٰ دے جو دوسرے علماء و آئمہ کے خلاف ہو تو امر متنازع کو بفحوائے قرآن کریم اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹایا جائے گا، یہ حکم سب آئمہ کے لیے عام ہے، کوئی امام استثنائی حیثیت کا حامل نہیں ، عہد رسالت اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے زریں دور میں بھی مسلمان اسی پر عمل پیرا تھے۔ چھٹا جواب:....ان سے کہا جائے گا : یہ قول کہ:’’ اور دوسرے اماموں کی طرح حکومت و سلطنت ، فواحش و منکرات، لغویات اور شراب نوشی میں منہمک نہ ہوئے۔‘‘شیعہ مصنف کی یہ بات غلط ہے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک سلاطین و ملوک کی ہر جائز و ناجائز بات قابل اطاعت ہے تو یہ ان پر صریح بہتان ہے۔،اہل سنت کے معروف بالعلم علماء کا قول ہے، کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہ کی جائے، اور نہ ایسے شخص کو امام مقرر کیا جائے۔

اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ طاعات و عبادات کے انجام دینے میں اہل سنت سلاطین سے طلب امداد کرتے ہیں ۔اور جو کچھ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام کرتے ہیں ‘اس میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔

صفحہ 3 از 11