فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 11

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر انہیں اس اعتبار سے امام بنانا ناروا ہے، تو خود روافص بھی اس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہ وہ ہمیشہ کفار و فجار سے طالب امداد ہوتے اور بہت سی باتوں میں خود بھی ان کی امداد کرتے ہیں ۔[شیعہ مصنف ابن المطہر کا استاد نصیر الدین طوسی اس امر کی بہترین مثال ہے کہ شیعہ علماء کس حد تک کفار و فجار سے طلب امداد کرتے اور ان کی خدمت و خوشامد کو اپنے لیے سرمایہ افتخار خیال کیا کرتے تھے، ہم قبل ازیں شیعہ کی معتبر کتاب ’’ روضات الجنات،ص: ۵۷۸ ‘‘ طبع ثانی سے نقل کر چکے ہیں کہ طوسی نے جس عظیم خیانت کا ارتکاب کیا تھا شیعہ اسے اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں ، ہلاکو خاں تاتاری سے لے کر سلطان اﷲ بندہ ....جس کے لیے ابن المطہر رافضی نے یہ رسوائے عالم کتاب لکھی....تک جتنے بت پرست بادشاہ ہوئے ہیں شیعہ علماء ان کی خدمت و استعانت کو اپنے لیے سرمایہ افتخار تصور فرمایا کرتے تھے، سلطان اﷲ بندہ شیعہ مذہب اختیار کرنے سے قبل بت پرست تھا، موجب حیرت ہے کہ ابن المطہر رافضی کے نزدیک اس مشرک بادشاہ کا پایہ حضرت ابوبکر و عمر....جن سے بلند تر حاکم انبیاء کے بعد اس کرۂ ارضی پر پیدا ہی نہیں ہوا....سے بڑھ کر تھا۔]یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہر زمان و مکان میں اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خود اس کتاب ’’ منہاج الندامہ ‘‘ کا شیعہ مصنف اور اس کے ہم نوا بھی اس الزام سے بچ نہیں سکتے اس لئے کہ منگول؛ تاتاری کافر اور دیگر فساق و جہال ان کے اماموں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔

ساتواں جواب:....شیعہ مصنف نے اپنی کتاب میں جن ائمہ کا ذکر کر کے ان کے معصوم ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ اس قوت و شوکت سے بہرہ ور نہ تھے جس کے ساتھ امامت و خلافت کے مقاصد حاصل ہوتے ہیں ۔ اور نہ ہی ان کی اقتداء عبادت اللہ تعالیٰ اوراس کے ضروری معاونات کے حصول میں کافی تھی۔اور نہ ہی ان سے انہیں کوئی قوت حاصل تھی جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں پر معاونت حاصل ہوسکتی ہو۔ ملک و سلطنت سے محروم ہونے کی بنا پر نہ ہم ان کے پیچھے نمازیا جمعہ ادا کر سکتے ہیں ۔ نہ حج و جہاد میں ان کو امیر مقرر کر سکتے ہیں نہ وہ شرعی حدود قائم کرنے پر قادر ہیں ۔ اور نہ فصل خصومات کی قدرت سے بہرہ ور ہیں ۔ ان کی مدد سے کوئی شخص لوگوں سے یا بیت المال سے اپنے حقوق وصول نہیں کر سکتا ۔نہ ان کی بدولت راستے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ یہ جملہ امور ایک صاحب اقتدار خلیفہ کے محتاج ہیں اور صاحب اقتدار وہی ہوگا جو احباب و اعوان رکھتا ہو۔ شیعہ کے یہ ائمہ ان سب اوصاف سے محروم تھے۔ بخلاف ازیں ان کے مخالفین اس قدرت سے بہرہ ور تھے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ایک عاجز امام سے یہ جملہ امور طلب کرے گا وہ حد درجہ جاہل و ظالم شخص ہے اور جو صاحب قدرت سے کرے گا وہ راہ حق و صواب پر گامزن ہوگا اور دین و دنیا کی مصلحتوں کو حاصل کر لے گا، اس کے عین برخلاف پہلا شخص دونوں قسم کے مصالح سے محروم رہے گا۔

آٹھواں جواب:....یہ ہے کہ جملہ خلفاء سے متعلق یہ دعویٰ جھوٹ ہے کہ وہ خمورو فجور میں محو رہا کرتے تھے۔ اس ضمن میں جو حکایات بیان کی جاتی ہیں وہ سب جھوٹ کا پلندہ ہیں [یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے، وہ بھی اس بہتان طرازی میں شامل ہے حالانکہ محمد بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ ....جن کو ابن الحنفیہ کہا جاتا ہے....کے نزدیک یزید کا دامن ان معائب و نقائص سے پاک تھا۔ (البدایہ والنہایہ ، ابن کثیر : ۸؍ ۲۳۳)۔یزید نے اپنے ننہیال کے قبیلہ قضاعہ میں پرورش پائی تھی اور اس کی والدہ میسون بنت بجدل نے یزید کو مردانہ کمالات و اوصاف سے آراستہ و پیراستہ کرنے میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بٹایا تھا، شیعہ مذہب کی کتب یزید کی قباحت و مذمت سے پر ہیں یہ سب کذب و بہتان اور ظلم کے مترادف ہے اور شیعہ اس کے لیے اﷲ کے حضور جواب دہ ہوں گے۔ ]یہ امر محتاج بیان نہیں کہ ان میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اور خلیفہ مہتدی[خلیفہ مہتدی باﷲ عباسی (۲۲۲۔ ۲۵۶) کی تاریخ فضائل و فواضل سے لبریز ہے، میں نے دور حاضر کے جس مورخ و ادیب سے بھی خلیفہ مذکور کے محاسن و مناقب کا ذکر کیا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا، حالانکہ تاریخ اسلام کا حق یہ تھا کہ ایسے پاک باز خلیفہ کی سیرت و سوانح سے متعلق لوگوں کے ہاتھوں میں دسیوں تصانیف ہوتیں ۔ ] باللہ جیسے عادل و زاہد بھی تھے۔ مزید برآں بنوامیہ و بنو عباس کے اکثر خلفاء کا دامن فواحش و منکرات سے پاک تھا۔

خلفاء میں سے کوئی ایک [بنوامیہ و بنو عباس کی تاریخ قلم بند کرنے اور ان کی روایات و اخبار کی تشہیر کرنے والے مصنفین شیعہ یا شعوبیہ تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے امت مسلمہ کی تاریخ کو بگاڑ کر اس کے محاسن کو معائب میں بدل دیا، ذہین طبقہ اگر اسلامی تاریخ کے درس و مطالعہ کی طرف متوجہ ہو کر اس کی اصلاح کے لیے کوشاں ہو تو تھوڑی سی مدت میں ان کثیر تحریفات کی اصلاح ہوسکتی ہے۔]اگر کسی گناہ میں ملوث ہو بھی جاتا تو فوراً اس سے تائب ہوجاتا۔، بعض اوقات اس کی نیکیاں بہت زیادہ ہوتیں جن سے اس کی برائیاں مٹ جاتیں یا مصائب و آلام میں مبتلا ہو کر اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے۔[میں مسلم فضلاء و مصنفین کی توجہات سامیہ کو اس حقیقت کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ شیعہ بشر کو بشر نہیں سمجھتے، ان کی رائے میں یا تو انسان فرشتوں کی طرح معصوم ہوتا ہے، بلکہ ان سے بھی بالا تر یا ابلیس کی طرح ملعون بلکہ اس سے بھی گیا گزرا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بعض انسانوں کو جونبی بھی نہ تھے معصوم قرار دیا اور مسلمانوں کے خلفاء و حکام اور داعیان حق کے خلاف ازراہ بغض و عداوت کذب و دروغ کا طومار جمع کر دیا، ان اصحاب خیر و برکت کا سلسلہ حضرت ابوبکر و عمر سے شروع ہو کر راقم السطور محب الدین الخطیب تک پہنچ جاتا ہے، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو وہ شیعہ نہ ہوتے اور اس لقب کو ہمیشہ کے لیے کھو دیتے، اس لئے کہ تشیع نام ہے تخریب و تعصب کا اور بس! ونعوذ باللّٰہ من التعصب ’’آمین یا رب العالمین۔‘‘]

صفحہ 4 از 11