فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 11

خلاصہ کلام! سلاطین و ملوک اعمال صالحہ انجام دیتے تھے تو ان کی نیکیاں بھی بڑی ہوتی تھیں اور برائیوں کے بھی مرتکب ہوتے تھے تو ان کی برائیاں بھی بڑی ہوتی تھیں ۔ اگر ان میں سے کوئی لاتعداد برائیوں کا ارتکاب کرتا جس کی حدیہ ہے کہ امت کا کوئی فرد اس ضمن میں اس کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا تو بلا شبہ اس کی نیکیاں بھی اتنی زیادہ ہوا کر تی تھیں کہ کوئی شخص ان کا حریف نہ ہو سکتا۔ ان کے اعمال صالحہ کا دائرہ خاصا وسیع تھا، مثلاً امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اقامتِ حدود، جہاد فی سبیل اللہ، اداء حقوق، دفع ظلم اور اقامت عدل وغیرہ۔

ہم خلفاء کو گناہوں اور مظالم سے مبرا قرار نہیں دیتے۔جیسا کہ ہم اکثرعام مسلمانوں کو بھی ایسی چیزوں سے بری قرار نہیں دیتے۔ البتہ یہ کہتے ہیں کہ خلفاء یا عوام سے ظلم و معاصی کے صدور کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان کا دامن نیکیوں سے بالکل خالی ہوتا ہے،اور اس بات میں بھی کوئی مانع نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام میں ان کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

اہل سنت یہ بھی نہیں کہتے کہ جملہ امور میں خلفاء کی موافقت ضروری ہے، بلکہ اطاعت صرف نیک اعمال میں ضروری ہے، معصیت میں نہیں ۔ جو شخص طاعات و عبادات میں کسی دوسرے کے ساتھ شریک ہو اور اعمال قبیحہ میں اس سے کنارہ کش رہے تو اسے کوئی ضرر لاحق نہیں ہوتا۔ مثلاً کوئی شخص لوگوں کے ساتھ فریضہ حج ادا کرنے کے لیے جائے اور ان کے ساتھ وقوف و طواف انجام دے تو کسی حاجی کے گنہگار ہونے سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ بعینہ اسی طرح اگر کوئی شخص جمعہ و جماعت یا کسی علمی مجلس یا غزوہ میں شریک ہو اور اس کے رفقاء میں سے کوئی شخص متعدد گناہ کر چکا ہو تو اسے اس کے گناہوں کی وجہ سے کوئی ضرر لاحق نہیں ہوگا۔ حاصل کلام یہ کہ خلفاء اس ضمن میں دوسروں لوگوں کے ساتھ مساوی ہیں کہ وہ جوکچھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام کرتے ہیں توطاعات میں ان کی موافقت کی جائے، اوراگر اللہ کی نافرمانی کے کام کرتے ہیں تو معصیت میں ان کے ساتھ اشتراک کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

ائمۂ اہل بیت کا برتاؤ بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا تھا۔ جو نیک کاموں میں ان کی اطاعت کرے گا وہ ان کا پیرو کہلائے گا اور جو سابقین اولین و جمہور اہل علم سے اظہار براء ت کر کے ان کی دشمنی میں کفار و منافقین کا ساتھ دے گا۔جیسا کہ شیعہ کا طرز عمل ہے....تو وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔

نوواں جواب:....خلیفہ و امام ایسا ہونا چاہیے جو قدرت و شوکت سے بہرہ ور ہو اور جس سے لوگوں کی بہبود و مصلحت کی شیرازہ بندی ہوجائے، مزید برآں خلیفہ میں درج ذیل اوصاف کا پایا جانا بے حد ناگزیر ہے۔

۱۔خلیفہ کی وجہ سے راستوں میں امن و امان کا دور دورہ ہو۔ ۲۔شرعی حدود قائم کرنے پر قادر ہو۔

۳۔ ظلم کا ازالہ کر سکے۔ ۳۔دشمن کے خلاف جہاد کر سکتا ہو۔

۵۔دوسروں کے حقوق انہیں دلوانے پر قادر ہو۔

ایسے امام کا ہونا اس امام معدوم سے بہت بہتر ہے جس کا اصل میں کوئی وجود ہی نہ ہو۔

مقام حیرت و استعجاب ہے کہ شیعہ جس امام معصوم کے دعوے دار ہیں وہ سرے سے اس دنیا میں موجود ہی نہیں ، گویا شیعہ باطن میں جس امام کے دعوے دار ہیں وہ معدوم ہے۔ اور بظاہر جن کو امام مانتے ہیں وہ کافر و ظالم ہیں (مثلاً تاتاری کافر) اس کے عین بر خلاف اہل سنت کے امام اگر ان کے متعلق کتنے ہی ظلم و گناہ کے مرتکب ہونے کوتسلیم کرلیا جائے توبھی اس کے باوصف شیعہ کے ان ائمہ اطہار سے بدر جہا بہتر ہیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں ۔اور اس امام سے بھی بڑھ کر ہیں جو بے حقیقت اور معدوم ہے۔ جہاں تک باقی آئمہ کا تعلق ہے جوکہ موجود تھے ۔تواہل سنت بھی ان کی اتباع ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ان جیسے دوسرے لوگ اپنے آئمہ کی اطاعت کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ فریقین کے ائمہ کی اطاعت کرنے والا اس شخص سے بہتر ہے جو صرف ایک ہی فریق کے اماموں کا اطاعت گزار ہو۔ اس لیے کہ روایت و درایت کا نام علم ہے اور اس میں جس قدر بھی علماء ہوں گے اور ان میں باہم اتفاق و اتحاد پایا جائے گا تو وہ اولیٰ بالاتباع ہوگا۔ شیعہ کے یہاں جو خیر بھی موجود ہے اہل سنت اس میں برابر کے شریک ہیں ، مگر جو خیر اہل سنت کے یہاں پائی جاتی ہو شیعہ اسے حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

دسواں جواب:....یہ ہے کہ رافضی نے جو دلیل پیش کی ہے اہل سنت اس پراس سے سخت اور شدیدترین دلیل سے معارضہ کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ سعید بن مسیب، علقمہ، اسود، حسن بصری، عطا بن ابی رباح، محمد بن سیرین، مطرف، مکحول، قاسم بن محمد، عروہ بن زبیر، سالم بن عبداللہ اور دیگر تابعین و تبع تابعین(رحمہم اللہ)سب آئمہ دین میں شمار ہوتے ہیں ۔دینی امورمیں جس طرح ان کی اطاعت کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی بادشاہوں کی اطاعت بھی ان امور دین میں کی جاتی ہے جہاں پر ان کی ضرورت ہو۔ ان کے ساتھ ساتھ علی بن حسین اور ان کا فرزند نیز جعفر بن محمد وغیرہم بھی یکساں طور پر اہل سنت کے اماموں میں شامل ہیں ۔ قصہ مختصر ! شیعہ علم و زہد سے بہرہ ور جس امام کی بھی اطاعت کرتے ہیں اہل سنت اس میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔ اور اس کے پہلو بہ پہلو اپنے ائمہ کے بھی تابع فرمان ہیں جو علم و زہد میں شیعہ کے اماموں سے بڑھ کر تھے۔ بفرض محال اگر اہل سنت نے معاصی کا ارتکاب کرنے والے کسی شخص کو امام بنانے کی غلطی کا ارتکاب کیا تو شیعہ نے اس سے بھی بدتر شخص کو امام مقرر کر لیا۔ پس جن امور میں ائمہ کی اطاعت کرنی ہے ‘ اہل سنت والجماعت ان امور میں ائمہ عدل کے پیروکار ہیں ۔ اور ظلم و جور کے امور میں ائمہ ظلم کی اتباع سے بہت دور بہت دور ہیں ۔اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اہل سنت نے ظالم خلفاء کی اطاعت صرف ان باتوں میں کی تھی، جو ظلم و معصیت نہ تھیں ، بنا بریں اہل سنت بہر کیف روافض سے افضل ہوئے۔

گیارہواں جواب:....شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اہل سنت کے درمیان فیصلہ فرمائے گا؛ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔‘‘

صفحہ 5 از 11