فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 11

اس کے جواب میں اس امامی شیعہ سے کہا جائے گا کہ: دلائل و براہین کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دنیا ہی میں کر دیاہے، مزید برآں اہل سنت قوت و شوکت کے اعتبار سے بھی ہمیشہ شیعہ پر غالب رہتے ہیں گویا اہل سنت کا یہ غلبہ دو گونہ ہے:

۱۔ حجت و برہان کے اعتبار سے۔

۲۔ سیف و سنان کے بل بوتے پر، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین باقی ادیان کے مقابلہ میں غالب ہوا تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ﴾ (التوبۃ: ۳۳)

’’وہ اللہ کی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر مبعوث کیا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو یہ بات بری ہی کیوں نہ لگے۔‘‘

یہ ناقابل انکار صداقت ہے کہ اہل سنت کے عقائد و افکار ہی دین ہیں جن کی تم مخالفت کرتے ہو۔ان عقائد کا حامل شخص دلیل و برہان کی بنا پر شیعہ پر غالب آئے گا جس طرح دین اسلام باقی ادیان و مذاہب کے مقابلہ میں غالب رہا، یہ امر محتاج بیان نہیں کہ دیگر ادیان و مذاہب پر دین اسلام کو جو غلبہ حاصل ہوا وہ اہل سنت کی وجہ سے ہوا۔ دین اسلام کو جو غلبہ کامل خلفائے ثلاثہ کے عہد سعادت مہد میں حاصل ہوا، وہ دوسرے کسی دین کو نصیب نہ ہو سکا[یہ حقیقت ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد اموی خلافت کے زمانہ میں شرق و غرب اور یورپ میں اسلامی دعوت کو جو فروغ حاصل ہوا وہ اموی خلفا کی مساعی جمیلہ کا رہین منت ہے۔ ] حضرت علی رضی اللہ عنہ اگرچہ خلفائے راشدین میں شامل ہیں اور سابقین اولین کے سرداروں میں شمار ہوتے ہیں مگر آپ کے عہد خلافت میں اسلام کو یہ غلبہ حاصل نہ ہو سکا۔[سیدنا علی کی خلافت میں اسلامی دعوت کے ناکام ہونے کے ذمہ دار وہ شیعہ تھے، جو آخرکار کئی حصوں میں بٹ گئے، ان میں سے بعض آپ کے موافق اور بعض مخالف ہوگئے، آپ کے معاصر شیعہ پر مقابلۃً متاخرین شیعہ کی نسبت کم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، متاخرین شیعہ نے اسلام کو ایک نئے سانچہ میں ڈھالنے کی مذموم سعی کی تھی اور اس کی ظاہری صورت کو اس طرح مسخ کر کے رکھ دیا تھا کہ وہ اسلام کے سوا کچھ اور معلوم دیتا تھا۔ ]بخلاف ازیں آپ کے دور میں فتنہ پر دازی کی وجہ سے اہل اسلام کا شیرازہ بکھر گیا۔ اور اعداء دین مثلاً کفار، نصاریٰ و مجوس مختلف دیار و امصار میں بلاد مشرق اور شام کے کفار اسلامی ممالک کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگ گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد اہل سنت کے سوا نہ کوئی اہل علم باقی رہا اور نہ ہی زور بازو والا غازی و مجاہد جن کی بدولت اسلام کو غلبہ نصیب ہوتا۔ روافض کا یہ حال تھا کہ یا تو اعداء[چنانچہ جب ہلاکو خاں نے یاجوج ماجوج (تاتاری فوج) کی مدد سے بغداد پر حملہ کیا تو شیعہ نے نصیر الدین طوسی اور ابن العلقمی کی قیادت میں کفار کا ساتھ دیا۔] اسلام کا ساتھ دیتے یا غیر جانب دار رہتے۔[اس کی دلیل یہ ہے کہ تاتاریوں نے جب بلاد اسلامیہ پر حملہ کیا تو شیعہ اس میں غیر جانب دار رہے، پھر صلیبی جنگوں کے زمانہ میں بھی روافض نے یہی کردار ادا کیا اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ان واقعات کے عینی شاہد تھے۔] اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بروز قیامت سابقین اولین مہاجرین و انصار اور ان کے اعداء کے درمیان اسی طرح فیصلہ فرمائے گا جس طرح اہل اسلام اور کفار کے مابین فیصلہ صادر کرے گا۔

بارھواں جواب:....ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ آخر کس کے ظلم سے تم آہ و فریاد کر رہے ہو....؟

اگر شیعہ کہیں کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر مظالم ڈھائے تھے اور ہم ان کے ظلم سے فریاد کے خواہاں ہیں ۔ تو ہم جواباً کہیں گے کہ اس دعویٰ کا حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچا تھا، اور آپ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرح وفات پا چکے ہیں ؛ظاہر ہے کہ یہ معاملہ اہل سنت و شیعہ سے متعلق نہیں سوائے اس کے کہ حق کی وضاحت کر کے اہل حق کی موالات کی جائے۔ہم دلائل قاہرہ کی روشنی میں یہ صداقت واضح کر سکتے ہیں کہ اس امت میں حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر نہ کوئی عدل و انصاف کے تقاضوں پر عمل کر سکا اور نہ ظلم سے کنارہ کش رہا، ہم آگے چل کر یہ حقیقت واضح کریں گے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ صرف آپ ہی امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہیں [بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تاہنوز اور تا قیام قیامت ایسا شخص پیدا ہی نہیں ہوگا، مزید یہ کہ سب سے بڑا ظالم تو وہ ہے جو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ظلم و تعدی کا شاکی ہے، بلکہ بالفاظ صحیح تر وہ حد درجہ کوتاہ فہم اور انسانیت کے اوصاف کمال سے بیگانہ ہے، ابوبکر و عمر کے خلاف بغض و عداوت رکھنے والا ان کی ذات میں اس دین کے سوا اور کوئی نقص و عیب نہیں پائے گا، جس نے انہیں انسانی کمالات کی آخری منزل تک پہنچا دیا، ایسا شخص دراصل اس دین کا دشمن ہے جس کی پیروی کا فخر ابوبکر و عمر کو حاصل تھا، اور جس کی امانتوں کے وہ اس کرۂ ارضی پر سب سے بڑے امین تھے، تاہم ہم ان کو معصوم قرار نہیں دیتے، معصوم ہونا خاصہ انبیاء ہے، البتہ یہ کہنے میں ہمیں کوئی باک نہیں کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اﷲ کی مخلوقات میں افضل و اکمل تھے، حضرت علی نے جو کلمات کوفہ کے منبر پر ارشاد فرمائے تھے تاریخی اسلام انہیں فراموش نہیں کر سکتی، آپ نے فرمایا تھا، ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر اور پھر عمر فاروق ہیں ۔‘‘ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’ جو شخص مجھے ابوبکر و عمر کے مقابلہ میں افضل قرار دے گا میں اس پر مفتری کی حد لگاؤں گا۔‘‘] اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو یہ مرتبہ حاصل نہ تھا۔

صفحہ 6 از 11