فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 11

اگر شیعہ ان دین دار اور بے ضرر علماء دین کے ہاتھوں فریاد کناں ہیں ، جنہوں نے کسی پر ظلم کیا نہ ظالم کی امداد کے مرتکب ہوئے۔ بجز اس کے کہ وہ حق بات کو بدلائل قاہرہ واضح کر دیتے ہیں تو یہ بڑی غلط بات ہے، کوئی احمق شخص ہی اس بات میں شک و شبہ کا اظہار کرے گا کہ امام مالک، اوزاعی، ثوری، ابو حنیفہ، لیث بن سعد، شافعی، احمد، اسحق(رحمہم اللہ ) اور دیگر محدثین کو ہشام بن حکم و ہشام بن سالم اور ان کے ہم نوا روافض کے ہم پلہ ہیں ، یہ انتہائی ظلم ہے۔ اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ مسئلہ تقدیر کا انکار کرنے والے شیعہ مثلاً النغمی، کراجکی اور ان کے نظائر و امثال معتزلی علماء مثلاً ابو علی، ابو ہاشم، قاضی عبدالجبار اور ابو حسین بصری کے ہم رتبہ ہیں اس کا ظالم ہونا کسی شک و شبہ سے بالا ہے، یہ معتزلہ کے اکابر علماء ہیں ۔ اس ضمن میں اہل سنت علماء کا تو نام لینا ہی مناسب نہیں ، مثلاً متکلمین اہل اثبات میں سے محمد بن ہیصم اور قاضی ابوبکر بن الطیب اور حدیث و فقہ اور تصوف کے علماء مثلاً ابو حامد اسفرائنی، ابوزید مروزی، ابو عبد اللہ بن بطہ، ابوبکر عبد العزیز ، ابوبکر رازی، ابو الحسین قدوری، ابو محمد بن ابو زید، ابوبکر ابہری، ابوالحسین دار قطنی؛ ابو عبداللہ بن مندہ، ابوالحسن بن سمعون، ابو طالب مکی، ابو عبدالرحمن السلمی اور ان کے امثال وہ ہمنوا دوسرے علمائے کرام رحمہم اللہ وغیرہم ۔

تحقیق کرنے پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اہل سنت کے مختلف و متعدد فرقوں میں سے ہر فرقہ شیعہ کی نسبت علم و عدل سے قریب تر اور ظلم و جہل سے بعید تر ہے۔ بفرض محال اگر اہل سنت کے کسی فرقہ نے ظالم کی اعانت کا ارتکاب کیا ہے تو شیعہ اس جرم کے ارتکاب میں [ہر موڑ پر ]ان سے دو قدم آگے ہی ہوں گے۔ اور اگر شیعہ نے کبھی ظلم و تعدی سے اجتناب کیا ہے تو اہل سنت اس میدان میں بھی کئی قدم آگے ہوں گے۔یہ بات تجربہ و مشاہدہ پر مبنی ہے اور اس میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں ، یہ حقیقت ہے کہ اسلامی فرقوں میں شیعہ سے زیادہ جھوٹا اور زیادہ ظالم و جاہل دوسرا کوئی فرقہ نہیں ، لطف یہ ہے کہ شیعہ کے شیوخ و علماء نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے وہ لکھتے ہیں :

’’اے گروہ اہل سنت! تم میں جوان مردی کے آثار پائے جاتے ہیں ، تم پر قابو پانے کی صورت میں ہم تم سے ہر گز وہ سلوک نہیں کر سکتے جو تم عندالقدرت ہم سے روا رکھتے ہو۔‘‘

تیرھواں جواب:....شیعہ نے جس شعر کو پسند کیا اور اس سے استشہاد کیا ہے وہ اس کے ناظم کی جہالت کا مظہر ہے، اہل سنت اس بات کو تسلیم کرتے ہیں :’’رَوٰی جَدُّہُمْ عَنْ جِبْرِیْلَ عَنِ الْبَارِی‘‘اس سے بڑھ کر اہل سنت اقوال رسول پر بلا توقف عمل پیرا ہوتے ہیں اور یہ دریافت کرنے کی مطلقاً ضرورت نہیں سمجھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قول کہاں سے اخذ کیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معصوم سمجھتے ہیں ۔قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیo اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی﴾ (النجم:۳۔۴)

’’وہ اپنی مرضی سے نہیں بولتا، بلکہ وہ تو وحی ہے جو آپ کی جانب بھیجی جاتی ہے۔‘‘

اہل سنت کو اہل سنت کہا ہی اس لیے جاتا ہے کہ وہ سنت کی پیروی کرتے ہیں ۔ یہ بات ضرور ہے کہ سنت کے اثبات کے لیے ثقہ راویوں کی ضرورت ہے ۔قطع نظر اس سے کہ روایت کرنے والا حضرت علی کی اولاد میں سے ہو تو اس سے بھی استفادہ کرتے ہیں ‘ یا کوئی اور شخص صرف ہو تو اس کے بھی علم سے استفادہ کرتے ہیں ۔ اتنی بات ہر گز کافی نہیں کہ کوئی روایت محض ’’ عَنْ جِبْرِیْلَ عَنِ الْبَارِی ‘‘کے بل بوتے پر بلا تحقیق مان لی جائے۔ایسے لوگوں کا کیا کیا جائے ؟

یہ بات محتاج بیان نہیں کہ امام مالک، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کی بات صرف اس لیے حجت مانی جاتی ہے کہ وہ اپنے اقوال کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرتے ہیں ۔ ورنہ ان کے اپنے اقوال کسی درجہ میں بھی حجت نہیں ۔ حالانکہ یہ ائمہ احادیث نبویہ سے بخوبی آگاہ تھے اور ان کی معرفت و اتباع میں ان کا اجتہاد حق و صواب پر مبنی ہے، ورنہ ائمہ کی اتباع کی کوئی ضرورت نہ تھی، جس طرح مذکورہ ائمہ احادیث کی روایت کرتے ہیں ، اسی طرح دوسرے لوگ بھی اس ضمن میں ان سے پیچھے نہیں اور اگر ائمہ مسائل کا جواب دیتے ہیں تو دوسروں کو بھی یہ شرف حاصل ہے، بایں ہمہ اہل سنت کے نزدیک ان میں سے کوئی بھی معصوم نہیں ، اور کسی کا قول بھی واجب الاتباع نہیں ۔

بخلاف ازیں ائمہ کے مابین جب بھی کسی بات میں تنازع بپا ہوگا تو اہل سنت اسے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی جانب لوٹائیں گے۔ اگر بچشم خود اس کا مشاہدہ کرنا چاہیں تو اپنے زمانہ کے محدثین و فقہاء کو دیکھ لیں ، یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ شیعہ علماء کی اکثریت حافظ قرآن نہیں ہوتی، اور حدیث نبوی سے بھی انہیں بے حد معمولی لگاؤ ہوتا ہے، کتاب و سنت کے مفہوم و معنی سے وہ بالکل بے گانہ ہوتے ہیں ۔باقی رہا شیعہ شاعر کا یہ قول کہ ’’ روٰی جَدُّنَا عَنْ جِبْرِیْلَ عَنِ الْبَارِیْ‘‘

ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ائمہ اربعہ تمہارے نانا کی روایات کو شیعہ سے بہتر جانتے ہیں ، اور شیعہ بھی احادیث کے بارے میں ان کی طرف رجوع کرتے ہیں جب متقدمین و متاخرین بنی ہاشم، احادیث رسول بنی ہاشم کے علاوہ دوسرے لوگوں سے حاصل کرتے ہیں تو یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ بنی ہاشم دوسروں سے زیادہ علم نہیں رکھتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ کس کی اقتدا کریں اور کس سے استفادہ کریں ؟ آیا ان لوگوں سے اخذ و استفادہ کریں جو علم سے آگاہ ہیں یا ان لوگوں سے جو اس سے قطعی نابلد ہیں ؟ اس میں شبہ نہیں کہ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے درہم و دینار کاورثہ نہیں چھوڑا بلکہ اپنے پیچھے علم کاورثہ باقی رکھا ہے، جس نے یہ ورثہ حاصل کر لیا، اس نے بہت بڑا حصہ پایا۔

صفحہ 8 از 11