فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 11

اگر شیعہ مصنف کہے کہ ’’ میری مراد اس سے بارہ امام ہیں ۔‘‘ تو ہم کہیں گے کہ علی بن حسین ابو جعفر رحمہ اللہ اور دیگر اہل بیت اپنے جدا مجد (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جو روایات نقل کرتے ہیں وہ اسی طرح قابل قبول ہیں جس طرح دیگر راویان حدیث کی مرویات، اور اگر لوگ امام مالک شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک موسیٰ بن جعفر، علی بن موسیٰ اور محمد بن علی رحمہم اللہ کی نسبت زیادہ روایات نہ پاتے تو اہل بیت کے علماء کو چھوڑ کر کبھی ان ائمہ دین کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوتے۔

یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ آخر لوگوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ موسیٰ بن جعفر رحمہ اللہ سے ہٹ کر امام مالک بن انس رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتے، حالانکہ یہ دونوں اکابر بہ یک وقت ایک ہی شہر میں بودو باش رکھتے تھے، بشرطیکہ موسیٰ بن جعفر رحمہ اللہ کے ہاں سے بھی انہیں علمی تشنگی کو دور کرنے کا وہی سامان میسر آتا جو امام مالک رحمہ اللہ کے ہاں دستیاب تھا، خصوصاً جب کہ اس زمانہ کے لوگ حدیث رسول کے شیدائی تھے، اس پر مزید یہ کہ خود بنی ہاشم اپنے چچا زاد موسیٰ بن جعفر رحمہ اللہ کی بجائے امام مالک رحمہ اللہ سے کسب فیض کیا کرتے تھے۔

امام مالک رحمہ اللہ کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے، آپ نے بہت سے مسائل میں اپنے استاد محترم امام مالک رحمہ اللہ سے اختلاف کر کے ان کی تردید کی ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام مالک رحمہ اللہ کے اصحاب و تلامذہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے مابین شدید تنازعات بپا ہوگئے، امام شافعی رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ کی نسبت بلحاظ نسب بنی ہاشم سے قریب تر تھے، آپ احادیث نبویہ کے سچے عاشق تھے اور جہاں سے بھی حصول علم کی توقع ہوتی اس میں ذرہ بھر تغافل و تکاسل کو راہ نہ دیتے، خواہ یہ علم بنی ہاشم کے یہاں سے حاصل ہو رہا ہو یا کسی اور جگہ سے، اگر آپ امام مالک رحمہ اللہ کی نسبت کسی ہاشمی کے یہاں علم پاتے تو آستانہ مالک کی بجائے بنی ہاشم کی بارگاہ علم پر دستک دیتے، امام شافعی رحمہ اللہ خود اس امر کے معترف ہیں کہ انھوں نے کسی ایسے شخص سے استفادہ نہیں کیا جو امام مالک رحمہ اللہ اور سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے بڑا عالم ہو، مزید برآں امام شافعی رحمہ اللہ کی تصانیف ان دونوں اکابر سے ماخوذ معلومات سے لبریز ہیں اور ان میں کوئی بات بھی موسیٰ بن جعفر رحمہ اللہ اور دیگر بنی ہاشم سے مستفاد نہیں ، یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ آپ جو علم حاصل کرنے کے درپے تھے بنی ہاشم کی نسبت امام مالک کے یہاں اس کی فراوانی تھی۔

اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا عشق رسول حدیث نبوی کے ساتھ والہانہ شغف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال سے ماہرانہ واقفیت و آگاہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احباب و انصار کے ساتھ گہری محبت و مؤدت اور اعداء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید عداوت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، بنی ہاشم کے ساتھ آپ کی عقیدت و ارادت کا یہ عالم تھا کہ فضائل صحابہ کے ساتھ ساتھ حضرت علی اور حسن و حسین کے فضائل و مناقب پر کتابیں تصنیف کیں ، بایں ہمہ آپ کی تصانیف امام مالک ، ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد، وکیع بن جراح، یحییٰ بن سعید القطان، ہشیم بن بشیر، عبدالرحمن بن مہدی وغیرہم رحمہم اللہ کی روایات سے لبریز ہیں اور ان میں کوئی روایت موسیٰ بن جعفر، علی بن موسیٰ اور محمد بن علی رحمہم اللہ کے نظائر و امثال سے ماخوذ نہیں ، یہ حقیقت ہے کہ اگر امام احمد بن حنبل ان علماء بنی ہاشم کے یہاں اپنا علمی مطلوب پا سکتے تو اس میں انتہائی دلچسپی لیتے۔اگر کوئی شخص یہ کہے ہاشمی علماء گنجینۂ معلومات تھے، ان کے مقابلہ میں دیگر علماء ان علوم سے بے بہرہ تھے، البتہ وہ اپنے علم کا اظہار نہیں کیا کرتے تھے، ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ پوشیدہ علم سے فائدہ؟ جس علم کا اظہار نہ کیا جائے وہ اس خزانہ کی مانند ہے جسے خرچ نہ کیا جائے، جو شخص اپنے علم کا اظہار نہیں کرتا، لوگ اس کی پیروی کیوں کر کریں گے؟ پوشیدہ علم (شیعہ کے) امام معدوم کی طرح بیکار ہے اور دونوں سے کوئی نفع حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

[ہاشمی علماء اور ایک شبہ پر رد:]

[اشکال ]:اگر شیعہ کہیں کہ؛’’ ہاشمی علماء اپنے علوم کا کشف و اظہار صرف خواص پر کرتے تھے۔‘‘

صفحہ 9 از 11