Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تمام تر معاملات کو امیر کے فیصلہ پر چھوڑ دینا

  علی محمد الصلابی

اللہ کا تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞(سورة النساء آیت 83)

ترجمہ: اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے۔ اور (مسلمانو) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے رعایا کے اپنے معاملات کو اپنے امراء وحکام کے حوالے کرنے کو صحیح نتیجہ اور درست بات تک پہنچنے کا سبب بتایا ہے، لیکن اگر کہیں عوام کی درست رائے تک رسائی ہو جائے اور حاکم اسے نہ جان سکے تو عوام کو چاہیے کہ اپنے حاکم کو اس کی طرف رہنمائی کر دے، شورائیت کو اسی لیے کار ثواب قرار دیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ سے صحیح فیصلہ تک پہنچا جا سکے۔

(الأحکام السلطانیہ: صفحہ 48)

 بسا اوقات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کا ایک ہی امیر بناتے، جو سب کے معاملات کا نگران ہوتا اور اسی کا فیصلہ آخری ہوتا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ اختلاف رائے کی وجہ سے اختلاف کلیہ نہ پیدا ہو جائے۔

(الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشأتہا وریحہورہا: جلد 1 صفحہ 100)

چنانچہ جس سال سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلامی افواج کو نہاوند روانہ کیا اور انہیں وہاں اکٹھا ہونے کا حکم دیا اس وقت لشکر میں انصار و مہاجرین پر مشتمل مدینہ کی فوج بھی شامل تھی جس کے امیر عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما تھے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بصرہ والوں کی فوج اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی قیادت میں کوفہ والوں کی فوج تھی۔ جب یہ ساری افواج نہاوند میں اکٹھی ہوئیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ جب تم سب لوگ وہاں پہنچ جاؤ تو نعمان بن مقرن مزنی تم سب کے امیر ہوں گے

(الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشاتھا وتطورہا: جلد 1 صفحہ 100)