Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تعزیہ داری اور ہنود کے میلوں میں شامل ہونا


سوال: تعزیہ داری کے میلوں میں شامل ہونا کیسا ہے؟ ہنود کے میلوں میں خواہ بغرض تجارت یا بلا فرض جانا جائز ہے یا نہیں؟ 

 جواب: ایسے میلوں میں جانا منع ہے، ہرگز شامل نہیں ہونا چاہںٔے۔ بلکہ اس قسم کے تمام منکرات کو ہاتھ اور زبان سے مٹانا چاہںٔے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دل سے تو ضرور برا جاننا چاہیے۔ قال النبيﷺ: من راى منكم منكرا فليغره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك اضعف الايمان

دیکھو دعوت کا قبول کرنا اور اس میں شریک ہونا ضروری ہے، مگر وہاں بھی اگر منکرات ہوں تو وہاں نہیں جانا چاہںٔے۔ اور اگر جائے اور جانے کے بعد امر منکر دیکھے تو لوٹ آنا چاہںٔے۔

عن علیؓ قال:صنعت طعاما فدعوت رسول اللهﷺ فجاء فراي في البيت تصاوير فرجع

سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرمﷺ کو کھانے کی دعوت دی آپﷺ آئے اور گھر میں تصویریں دیکھیں تو واپس چلے گئے۔ 

پس معلوم ہوا کہ ایسے حرام و ناجائز و منکر میلوں میں بذریعہ تجارت بھی نہیں جانا چاہںٔے۔

(فتاویٰ نذیریہ: جلد، 1 صفحہ، 275)