Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر کے حکم کی فرمانبرداری کرنے میں جلدی کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا اقدام یہ کیا کہ لوگوں کو فارسیوں سے قتال کرنے پر ابھارا، انہیں مسلسل تین دن لڑائی پر نکلنے کے لیے بلاتے اور رغبت دلاتے رہے لیکن کوئی آگے نہ آیا۔ چوتھے دن حضرت ابوعبید ثقفی رحمہ اللہ نے خود کو پیش کیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کے اس اقدام سے متاثر ہوئے اور اس جماعت میں صحابہ کے موجود ہوتے ہوئے ابوعبید کو امیر بنا دیا، اس لیے کہ انہوں نے ہی سب سے پہلے خلیفۂ وقت کی ندا پر لبیک کہا تھا۔

(الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشاتھا وتطورہا: جلد 1 صفحہ 113) 

اسی طرح جب حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کو آپ نے بصرہ روانہ کیا تو انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اپنے فرائض کی ادائیگی میں اللہ سے ڈرنا، نفس سے مرعوب ہو کر تکبر نہ کرنے لگنا کہ تمہارے ساتھی تم سے نفرت کرنے لگیں۔ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہے، انہیں کی وجہ سے تمہیں ذلت اور محترم و مخدوم حاکم بن گئے ہو، تم کوئی بات کہتے ہو تو اسے قبول کیا جاتا ہے، کوئی حکم دیتے ہو تو اس کی اطاعت کی جاتی ہے، کتنی عظیم نعمت ہے بشرطیکہ تم کبر وغرور کا شکار نہ ہو اور اپنے ماتحتوں کو حقیر و ذلیل نہ جاننے لگو۔

(الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشاتھا وتطورہا: جلد 1 صفحہ 114)