مال غنیمت تقسیم ہوتے وقت امیر کی تقسیم پر راضی رہنا
علی محمد الصلابیتقسیم غنائم سے متعلق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے اللہ میں اسلامی شہروں کے امراء پر تجھے گواہ بناتا ہوں، میں نے انہیں اس لیے امیر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں دین کی باتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں سکھائیں، مال غنیمت تقسیم کریں اور رعایا میں انصاف کریں اور اگر کسی کو کسی مسئلہ میں پیچیدگی درپیش ہو تو میری طرف رجوع کریں۔‘‘
(الخراج، أبو یوسف: صفحہ 50)
چنانچہ فتح ’’ابلہ‘‘ کے موقع پر جب مجاہدین کے درمیان مال غنیمت تقسیم ہو چکا تو ایک نزاعی صورت پیش آئی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مجاہد کو غنیمت میں پیتل کی ایک دیگچی ملی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سونے کی ہے، دیگر سپاہیوں کو بھی اس کی خبر معلوم ہوئی اور سب نے امیر لشکر کو اس کی اطلاع دی۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 120)
امیر لشکر کے لیے یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہوگیا کہ اب کیا کریں۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس سلسلے میں خط لکھا تو امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ کی طرف سے خط کا جواب یہ آیا کہ ان سے اس بات کی قسم لو کہ دیگچی پیتل سمجھ کر لی تھی، اگر وہ قسم کھا لیں تو انہیں دے دو اور اگر انکار کریں تو ان سے زبردستی لے لو اور مسلمانوں میں تقسیم کر دو، پھر انہوں نے قسم کھا لی اور دیگچی ان کے سپرد کر دی گئی۔
(مناقب أمیرالمومنین: ابن الجوزی: صفحہ 128)
اسی طرح معرکہ جلولاء فتح ہونے کے بعد جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما نے اپنے اور اپنی قوم کے لیے مال غنیمت میں سے ایک چوتھائی (_) کا مطالبہ کیا (جو انہیں عراق میں مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑنے کے عوض خصوصی طور پر دیا جاتا تھا) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ،تو سیدنا عمرؓ نے جواب دیا: جریر سچ کہہ رہے ہیں، میں نے ان سے یہ بات کہی تھی، اگر انہوں نے اور ان کی قوم کے لوگوں نے اس نیت سے جنگ لڑی ہے کہ انہیں تالیف قلب والوں کے زمرے میں شامل رکھا جائے تو ان کا مطالبہ پورا کر دو اور اگر اللہ کی رضا جوئی اور دین اسلام کی سربلندی کی خاطر لڑائی کی ہے تو ان کے لیے عام مسلمانوں کا حکم ہے، جو حقوق تمام مسلمانوں کے ہیں وہی ان کے ہیں اور جو پابندیاں سب پر ہیں وہی ان پر ہیں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس جب خط پہنچا تو آپؓ نے جریر رضی اللہ عنہ کو پڑھ کر سنایا۔ جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: امیرالمومنینؓ نے سچ کہا اور اپنا وعدہ پورا کیا، اب ہمیں چوتھائی کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہم تمام مسلمانوں کی طرح ہیں۔
(الإدارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 121)