فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی - ردِ رافضیت |…

فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی

[رافضی کا کہنا کہ: امامیہ مذہب اس لیے واجب الاتباع ہے کہ وہ دوسروں کے برعکس ناحق تعصب نہیں کرتے]

[تہمت]:رافضی مصنف نے کہا ہے: ’’ پانچویں وجہ : ’’امامیہ مذہب کی اتباع واجب ہونے کے بیان میں ۔‘‘اس لیے کہ انہوں نے مخالفین کے برعکس کبھی بھی ناحق تعصب کا ساتھ نہیں دیا۔غزالی اور ماوردی رحمہما اللہ ‘جو کہ شافعی مذہب کے دو امام ہیں ؛نے ذکر کیا ہے ۔قبروں کی سطح برابر کرنا مشروع ہے ۔ مگر جب رافضہ نے اسے اپنا شعار بنا لیا تو ہم نے یہ کام چھوڑ دیا اور زمحشری رحمہ اللہ جو کہ حنفیہ کے امام ہیں ؛انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے:

﴿ہُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ ﴾ [الاحزاب۳۳]

’’وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے۔‘‘

’’اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں میں سے کسی ایک پر رحمتیں بھیجنا جائز ہے۔ لیکن جب رافضیوں نے اپنے ائمہ کے متعلق اسے شعار بنالیا تو ہم نے اس سے منع کرنا شروع کردیا ۔ حنفیہ میں سے ہدایہ کے مصنف نے کہا ہے : ’’مشروع یہ ہے کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی جائے؛لیکن جب رافضیوں نے اسے اپنی پہچان بنالیا تو ہم نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا شروع کردیا۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔ پس اب یہ دیکھنا چاہیے کہ شریعت کو کون بدلتا ہے؟ اور کون ان احکام میں تبدیلی کرتا ہے جن کے بارے میں شریعت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نصوص منقول ہیں ۔ اور ایک متعین قوم کی ضد میں آکر اس کے خلاف کرتا ہے؟؛ توپھر کیا ان لوگوں کی اتباع کرنا اور ان کے اقوال کی طرف رجوع کرنا جائز ہے؟ ‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب] :اس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتاہے : 

پہلی بات: ....اس رافضی مصنف نے جو الزام لگائے ہیں ‘حقیقت میں خود روافض ان کے زیادہ اہل ہیں ۔

دوسری بات:....ائمہ اہل سنت والجماعت عند اللہ ان الزامات سے بالکل بری ہیں ۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے: ہم نہیں جانتے کہ کوئی فرقہ رافضیوں سے بڑھ کر باطل پر تعصب کرنے والا ہو۔ یہاں تک کہ باقی تمام فرقوں میں رافضی اپنے موافق کی خاطر جھوٹی گواہی دینے [اورجھوٹی قسم اٹھانے]میں مشہورو معروف ہیں ۔ تعصب میں جھوٹ سے بڑھ کر بڑا گناہ کوئی نہیں ہوتا ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ:

۱۔ انہوں نے تعصب میں آکر تمام میراث کا وارث صف بیٹی کو ٹھہرایا ہے تاکہ یہ کہہ سکیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وارث صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں ؛ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں کوئی حصہ نہیں تھا۔

۲۔ شیعہ میں بعض لوگ اونٹ کے گوشت کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اونٹ پر سوار تھیں ۔ اس طرح یہ لوگ کتاب اللہ ‘ سنت رسول اللہ اور اجماع صحابہ کرام و اہل بیت کی مخالفت کے مرتکب ہوئے۔ یہ ایسی بات ہے جو کسی بھی طرح مناسب نہیں تھی۔ اس لیے کہ وہ اونٹ جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سوار ہوئی تھیں وہ تو کبھی کا مرچکا۔ اگر بالفرض یہ کہہ لیا جائے کہ وہ اونٹ ابھی تک زندہ ہے ؛تو پھر بھی جب کفار کے اونٹ پر سوار ہونے کی وجہ سے اس کی حرمت واجب نہیں ہوتی؛ اور کفار برابر اونٹ کی سواری کرتے چلے آرہے ہیں اور مسلمانوں کو ان سے یہ اونٹ مال غنیمت میں حاصل ہوتے ہیں اوران کا گوشت ان کے لیے حلال ہوتا ہے۔تو پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہونے میں وہ کونسی بات مضمر ہے جس کی وجہ سے اونٹ کا گوشت حرام قرار دیا جاتا ہے؟ اس کی انتہاء تو یہی ہوسکتی ہے کہ جن بعض لوگوں کو یہ رافضی کافرکہتے ہیں ؛ وہ اونٹ پر سوار ہوئے تھے۔ حالانکہ رافضی ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو تہمت لگاتے ہیں ‘ اس میں وہ جھوٹے اور بہتان تراش ہیں ۔

۳۔ ان کے تعصب کی حد یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی زبان پر ’’دس ‘‘ کا لفظ نہیں لاتے۔ بلکہ یوں کہتے ہیں :نو اور ایک۔اور جب ستون وغیرہ بناتے ہیں تو خصوصی خیال رکھتے ہیں کہ ان کی تعداد دس نہ بنے۔ایسے ہی بہت سارے دیگر امور میں بھی اس چیز کا خصوصی خیال رکھتے ہیں ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سارے دس کا لفظ ذکرکیا ہے۔[ بلکہ بہت سارے مواقع پر اللہ تعالیٰ نے لفظ ’’ دس ‘‘ کے مسمیٰ کی تعریف کی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ حج تمتع کے بارے میں فرماتے ہیں ]:

﴿فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ﴾ (البقرۃ۱۹۶)

’’تو تین روزے تو ایام حج میں رکھے اور سات گھر واپس پہنچ کر، یہ کل دس روزے ہو جائیں گے۔‘‘

اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :

﴿وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا﴾ [البقرۃ۲۳۳]

’’تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ، وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ ﴾ (الاعراف ۱۳۲]

’’ہم نے موسی علیہ السلام کو تیس شب و روز کے لیے(کوہِ سینا پر)طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَالْفَجْرِ oوَلَیَالٍ عَشْرٍ﴾ (الفجر۱۔۲]

اور قسم ہے فجر کے وقت کی ‘ اور دس راتوں کی ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے لفظ ’’ دس ‘‘ کے مسمیٰ کاقابل مدح و تعریف مواقع پر کیا ہے۔جب کہ لفظ ’’ نو ‘‘ کے مسمی کا ذکر قابل مذمت موقع پر کیا ہے ۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں ؛

﴿وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ ﴾ (النمل۳۸)

’’اس شہر میں نو جھتے دار تھے جو ملک میں فسا پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔‘‘

لیلۃ القدرکے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔‘‘[البخاري کتاب فضل لیلۃ القدر ؛ باب تحري لیلۃ القدر ؛ مسلم (۲؍۸۲۳) کتاب الصوم باب ما جاء في لیلۃ القدر ؛ سنن الترمذي ۲؍۱۴۴ ؛ کتاب الصوم ۔ المؤطا۱؍ ۱۳۹ ؛ کتاب الاعتکاب۔ ]

صفحہ 1 از 5