فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی - ردِ رافضیت |…

فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔‘‘[ البخاری (۳؍۳۷)مسلم (۲؍۸۳۰)]

صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے بارے میں ]ارشاد فرمایا :

’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی بھی عمل ان دنوں کے عمل سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں ۔ ‘‘[الترمذي ۲؍۱۲۹؛ کتاب الصوم باب : ما جاء في العمل في أیام العشر ۔سنن ابن ماجۃ ۱؍ ۵۵۰ ؛ کتاب الصیام ؛ باب صیام العشر ؛ قال الشیخ أحمد شاکر : إسنادہ صحیح۔ البخاري ۲؍۲۰۔]

جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عدد ’’دس ‘‘کے ساتھ کلام کیا ہے ‘ اور اس کے ساتھ بہت سارے محمود احکام شرعیہ کو معلق کیا ہے تو پھران لوگوں کا لفظ ’’دس ‘‘سے عشرہ مبشرہ کی اصطلاح وجہ سے نفرت رکھنا ؛کیونکہ ان سے یہ لوگ بغض رکھتے ہیں ؛ انتہائی جہالت اور تعصب کی نشانی ہے۔

پھر ان لوگوں کا یوں کہنا :’’ نو اور ایک ‘‘ عبارت کی طوالت کے ساتھ دس کا یہی معنی ہے۔ جب نو یا دس یا سات کا لفظ اس عدد کے ساتھ معدود ہر چیز پر واقع ہوتا ہے خواہ اس کا تعلق انسانوں سے ہو یا پھر چوپاؤں سے یا پھر لباس اور درہم و دینار سے ۔ ان میں سے بعض معدودات محمود ہوتے ہیں اور بعض مذموم ۔

۳۔ پس ان جاہلوں کا گنتی کے یہ اعداد اپنی زبان پر لانے سے نفرت کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے یہ لوگ ان سے بھی نفرت کرتے ہیں جن کے نام ان لوگوں کے ہم نام ہوں جن سے یہ بغض رکھتے ہوں ۔ جیسا کہ یہ لوگ ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان لوگوں سے بھی نفرت کرتے ہیں جن کے نام ان صحابہ کرام کے اسماء پر رکھے گئے ہوں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے ہم نام لوگ کفار میں بھی موجود تھے۔جیسا کہ ولید بن ولید۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نماز میں دعا ئے قنوت میں یوں دعا کیا کرتے تھے:

((اللہم أنجِ الولِید بن الولِیدِ وسلمۃ بن ہِشام [وعیاش بن أبِی ربِیع] والمستضعفِین مِن المؤمِنِین۔))[صحیح بخاری:ح ۷۷۰؛ کتاب التفسیر ؛ تفسیر سورۃ البقر ؛ مسلم ۱؍۴۶۶ ؛ کتاب المساجد باب استحباب القنوت فی جمیع الصلاۃ ؛ سنن ابي داؤد ۲؍۹۲ ؛ کتاب الصلاۃ؛ باب القنوت]

’’اے اللہ ولید بن ولید کو اور سلمہ بن ہشام کو اور عیاش بن ابی ربیع اور کمزور مسلمانوں کوکفار سے نجات دے۔‘‘

بیٹا ولید مومن اور متقی انسان تھا جب کہ اس کا باپ ولید کافر اور بد بخت ترین انسان تھا۔ ایسے کفار قریش میں عقبہ بن ابی معیط بھی تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

((رأیت کأني فی دار عقبۃ بن رافع وأتینا برطب من رطب ابن طاب۔ فأولت أن الرفعۃ لنا فی الدنیا والعاقبۃ فی الآخرۃ وأن دیننا قد طاب۔))[مسلم ۴؍ ۱۷۷۹ ؛ کتاب الرؤیا؛ باب رؤیا النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ سنن ابوداؤد: ۴؍ ۴۱۸ ؛ ۱۶۱۹؛ کتاب الادب ؛ باب ما جاء في الریاء۔]

’’رات میں نے دیکھا گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں ۔ اور ہمارے پاس ابن طاب کی تازہ تر کھجوروں میں سے رطب لائی گئی۔ میں نے اس کی یہ تعبیر و تاویل کی کہ دنیا کی بلندی ورفعت ہمارے لیے ہے: اور آخرت میں عاقبت اورعمدہ انجام بھی ہمارے لیے ہیں اور بیشک ہمارا دین پاکیزہ اور عمدہ ہوگیا۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی بن ابی طالب کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔اور کفار میں علی بن امیہ بن خلف بھی تھا جو کہ بدر کے دن اپنے والد کے ساتھ حالت کفر میں قتل ہوا۔

صحابہ کرام میں سے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے جو کہ شاعرِ نبی تھے۔اور کعب بن اشرف کافرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی اذیت پہنچائی کہ آپ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو اسے قتل کرنے کے لیے بھیجا۔صحابہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے۔جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’بیشک اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں یہ سورت پڑھ کر سناؤں : ﴿لَمْ یَکُنْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ﴾[البخاری ۶؍۱۷۵ ؛ کتاب التفسیر ؛ سورۃ لم یکن ....بروایۃ أنس بن مالک]

مراد تبلیغ کے لیے پڑھنا تھا تعلیم کے لیے نہیں ۔جب کہ مشرکین میں بھی ابی بن خلف نامی انسان تھاجسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ہاتھ سے قتل کیا ؛ اس کے علاوہ کسی کو آپ نے اپنے ہاتھ سے قتل نہیں کیا ؛اورفرمایا :

’’ بروز قیامت سب سے زیادہ سخت عذاب اس انسان کو ہوگا جس نے کسی نبی کوقتل کیا ہو یا پھر اسے کسی نبی نے قتل کیا ہو۔‘‘[مسند أحمد۵؍۳۳۲؛ تحقیق أحمد شاکر] 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کا نام ابراہیم رکھا۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر و عمر رکھے۔

خلاصۂ کلام! اسم علم کافر اور مسلمان کے مابین مشترک ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہود و نصاری بھی ابراہیم‘ موسی ‘ اسحق اوریعقوب نام رکھتے ہیں ۔اورمسلمان بھی یہ نام رکھتے ہیں ۔کافر کا کوئی نام رکھ لینے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے اس نام کو سرے سے ترک کر دینا واجب ہوتا ہو۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ صحابہ کرام کافر تھی ۔ العیاذ باللہ ۔ جیسا کہ یہ لعنتی بہتان تراش بکواس بکتے ہیں ؛ تو پھر بھی ان اسماء میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی وجہ سے ان ناموں کا ترک کرنا واجب ہوتا ہو ‘ بلکہ یہ جہالت اور تعصب کی انتہاہے۔

٭ اگر یہ کہا جائے کہ یہ لوگ ان اسماء سے اس لیے نفرت کرتے ہیں کہ ان کا مسمیٰ اہل سنت ہے ۔

صفحہ 2 از 5