فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی - ردِ رافضیت |…

فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

٭ تواس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : یہ لوگ انسان کا مذہب جانتے ہوئے بھی اسے اس نام سے مخاطب نہیں کرتے۔ بلکہ اسے کوئی دوسرا نام دیتے ہیں ۔ایسا ان اسماء سے انتہائی نفرت کی وجہ سے کرتے ہیں ۔ان کے تعصب اور جہالت کی انتہاء یہ ہے کہ جب کسی ایسے انسان کو دیکھتے ہیں جس کا نام علی ‘ یا جعفر یا حسن ‘یا حسین ہو تو اس کی عزت و احترام پیش پیش رہتے ہیں ۔ حالانکہ ایسا انسان کبھی تو بالکل فاسق و فاجر ہوتا ہے ‘ اور کبھی وہ اہل سنت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اہل سنت و الجماعت یہ نام رکھتے ہیں ۔ ان کی یہ تمام تر حرکات انتہائی تعصب اور جہالت کی وجہ سے ہیں ۔

۵۔ ان کے تعصب اور جہالت کی انتہاء یہ ہے کہ رافضی تمام بنو امیہ سے نفرت کرتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بعض لوگ ایسے تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے۔

حالانکہ بنو امیہ میں بہت سارے نیکوکار صالحین بھی تھے جو کہ فتنہ کا دور شروع ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گئے تھے۔ بنو امیہ وہ لوگ تھے جن میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال سب سے زیادہ تھے ۔جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کیا تو:

۱۔ عتاب بن اُسیدبن ابو العاص بن امیہ اموی رضی اللہ عنہ کو حاکم مکہ مقرر کیا؛ جو کہ روئے زمین کا سب سے محترم گوشہ ہے۔[سنن نسائی، کتاب الاذان، باب کیف الاذان(ح:۶۳۳)، سنن ابن ماجۃ۔ کتاب الاذان۔ باب الترجیع فی الاذان(ح:۷۰۸)، و کتاب التجارات، باب النھی عن بیع ما لیس عندک (ح:۲۱۸۹)۔]

۲۔ خالد بن سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ کو صنعاء یمن اور بنی مذحج سے صدقات وصول کرنے پر عامل مقرر کیاتھا۔آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اسی منصب پر فائز رہے۔

۳۔ اس کے دونوں بھائیوں حضرت ابان بن سعید ابن العاص رضی اللہ عنہ اور سعید بن سعید رضی اللہ عنہ کو دوسرے اعمال[تیماء؛ خیبر ؛ اور عرینہ کی بستیوں ] پر عامل مقرر فرمایا تھا۔

۳۔ ابان بن سعید بن العاض رضی اللہ عنہ کو پہلے بعض سرایا پر امیر مقرر کیا او رپھر آپ کو بحرین کا والی مقرر کیا ۔ آپ حضرت العلاء الحضرمی رضی اللہ عنہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک اس منصب پر فائز رہے ۔

۵۔ ابوسفیان بن حرب بن امیہ اموی رضی اللہ عنہ اور اس کے بیٹے حضرت یزید رضی اللہ عنہ کو نجران کا عامل مقرر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یہ لوگ اسی منصب و ذمہ داری پرتھے۔

ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو امیہ سے سسرالی رشتہ قائم کرتے ہوئے اپنی تین بیٹیاں بنو امیہ کو بیاہ کردیں ۔سب سے بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی شادی ابو العاص بن ربیع بن امیہ بن عبد شمس سے کردی۔ اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ ابو جہل کی بیٹی سے شادی کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے اس داماد کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تعریف کی ؛ اورفرمایا :

’’ اس نے جب بھی مجھ سے بات کی تو سچ بولا‘اور جب بھی مجھ سے وعدہ کیا تو اسے پورا کیا۔‘‘[من حدیث مسور بن مخرمۃ ؛ البخاری ۳؍۱۹۰ ؛ کتاب الشروط ؛ باب الشروط في المہر عند عقد النکاح ؛ باب ۴؍ ۱۹۰۲ ؛ کتاب النکاح باب ما یکرہ أن یجمع بینہن من النساء۔ سنن الترمذی ۵؍ ۳۵۹ ؛ کتاب المناقب باب ما جاء في فضل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنہا ۔]

اپنی دو بیٹیوں کا نکاح یکے بعد دیگر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمادیا تھا:’’ اگر میرے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو میں وہ بھی عثمان رضی اللہ عنہ کو دے دیتا۔‘‘[رواہ أحمد فی الفضائل ۱؍۴۸۱ ؛ مجمع الزوائد ۹؍ ۸۳۔ قال المحقق ضعیف الإسناد للإرسال۔]

۶۔ ایسے ہی ان لوگوں کے تعصب اور جہالت کی انتہاء یہ ہے کہ اہل شام سے صرف اس لیے بغض و نفرت رکھتے ہیں کہ ان میں وہ پہلا انسان تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ مکہ میں کفار بھی تھے اور اہل ایمان بھی۔یہی حال مدینہ کا بھی تھا کہ وہاں پر اہل ایمان اور منافقین دونوں پائے جاتے تھے۔اس دور میں تو شام میں کوئی ایک بھی ایسا باقی نہیں ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہو؛ یا اس کا اظہار کرتا ہو۔ مگر ان کی شدت جہالت کی وجہ سے بغض و نفرت کی دُم ان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔

۷۔ ان کی جہالت اور تعصب کی انتہاء یہ ہے کہ رافضی ان لوگوں کی انتہائی سخت مذمت کرتے ہیں جو بنی امیہ کے آثار سے فائدہ حاصل کریں ؛ مثلاً اگر کوئی نہر یزید سے پانی پی لے۔ حالانکہ یہ نہر یزید نے نہیں کھدوائی بلکہ اس نے اس نہر میں فقط توسیع کی ہے۔ایسے ہی بنو امیہ کی تعمیر کی کردہ جامع مسجد اموی میں نماز نہیں پڑھتے۔حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ اور اس وقت کی تعمیر کعبہ مشرکین کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے بنائے ہوئے گھروں میں بھی رہتے تھے۔ ان چشموں سے پانی پیا کرتے تھے جو کفار نے کھودے ہوتے۔ ان کے تیار کردہ لباس پہنتے۔ان کے تیار کردہ دراہم سے لین دین کرتے۔ جب یہ حال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھروں سے استفادہ کررہے ہیں ‘ ان کے تیارکردہ لباس‘ جاری کردہ چشمہ‘اور بنائی گئی مساجد سے فائدہ حاصل کرتے تھے تو پھر اہل قبلہ کا کیا عالم ہوگا۔

اگر فرض کرلیا جائے کہ یزید کافر تھا؛اور اس نے نہر کھودی؛ تومسلمانوں کااجماع ہے کہ اس نہر سے پانی پینا مکروہ نہیں ۔ مگریہ لوگ اپنے انتہائی تعصب کی وجہ سے ان لوگوں کی طرف منسوب چیزوں کو استعمال کرنا حرام سمجھتے ہیں جن سے یہ لوگ بغض و نفرت رکھتے ہیں ۔

٭ ہم سے ایک ثقہ آدمی نے بیان کیا ہے کہ کسی ایک رافضی کے پاس ایک کتا تھا؛ان ہی میں سے ایک دوسرے رافضی نے اسے بکیرکہہ کر بلایا تو اس پررافضی نے لڑنا شروع کردیا کہ :’’تم جہنمیوں کے نام پر ہمارے کتے کا نام رکھتے ہو۔‘‘اور بات خون خرابے تک جا پہنچی۔‘‘تو پھر کیا ان رافضیوں سے بڑا جاہل کوئی دوسرا ہو سکتا ہے؟

صفحہ 3 از 5