فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی - ردِ رافضیت |…

فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض صحابہ کرام کو وہ نام دیتے تھے جو کہ اس سے پہلے جہنمی لوگوں کے نام ہوگزرے ہیں ۔جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی کیا۔ [جیسا کہ ولید بن مغیرہ؛ لوگوں میں سب سے بڑا کافر تھا]۔ قرآن میں وارد لفظ ’’ وحید ‘‘ سے یہی مراد ہے :

﴿ذَرْنِی وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیدًا ﴾ (المدثر۱۱)

’’چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘

اس کے بیٹے کا نام بھی ولید تھا ‘اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ان دونوں باپ بیٹے کا نام لیتے ؛ اور قنوت میں یوں دعا فرمایا کرتے تھے:

((اللہم أنج ولید بن ولید بن المغیرۃ۔)) [البخاری۶؍۳۸]

’’اے اللہ ! ولید بن ولید بن مغیرہ کو نجات عطا فرما۔‘‘

جیسا کہ دیگر صحیح روایات میں بھی ثابت ہے۔

۸۔ ان لوگوں کی جہالت کی انتہاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دن یوم عاشوراء کا روزہ نہیں رکھتے بلکہ اس دن افطار کو افضل سمجھتے ہیں ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے پایا یہودیوں نے بتایا کہ یہ بہت بڑا دن ہے اسی دن اللہ نے موسی کو نجات دے کر فرعونیوں کو غرق کیا تھا تو شکرانہ کے طور پر موسی نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میں ان سب میں موسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں لہٰذا آپ نے اس کا روزہ رکھا اور دوسروں کو رکھنے کا حکم دیا۔‘‘[البخارِیِ:۳؍۴۴ ، کتاب الصومِ، باب صِیامِ یومِ عاشورا؛ مسلِم:۲؍۷۹۵؛ کتاب الصِیامِ، باب صومِ یومِ عاشورا؛سننِ ابنِ ماجہ:۱؍۵۵۲ ؛ کتاب الصِیامِ، باب صِیامِ یومِ عاشورا۔وأما حدِیث أبِی موسی فہو فِی البخارِیِ ومسلِم فِی کتابِ الصومِ مِنہما ؛ وہذا لفظ مسلِم:۲؍۷۹۶ عن أبِی موسی رضی اللہ عنہ قال: ان یوم عاشورا یوما تعظِمہ الیہود وتتخِذہ عِیدا، فقال رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صوموہ أنتم۔]

۹۔ ان لوگوں کی جہالت اور تعصب کی حد یہ ہے کہ : یہ بے زبان چوپائے کو پکڑ کر بلاوجہ عذاب دیتے ہیں ؛ اور اسے ان لوگوں کی طرح تصور کرتے ہیں جن سے یہ نفرت رکھتے ہیں ۔ مثلاً : سرخ رنگ کی دنبی پکڑ کر اس کا نام عائشہ رکھتے ہیں اور پھر اس کے بال نوچ کر اسے تکلیف دیتے ہیں ۔ اور کسی چوپائے کو پکڑ کر اس کانام ابوبکر یا عمر رکھتے ہیں اور پھر اسے ناحق اور بلاوجہ مارتے ہیں ۔اور پھر گھی بھری مشک کو حضرت عمر سے تشبیہ دیکر درمیان سے تیز دھار چیز سے پھاڑتے ہیں ۔ اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمر کا گوشت کھارہے ہیں اور ان کا خون پی رہے ہیں ۔

دوسری بات: ....جواب کے اس دوسرے مرحلہ میں ہم کہتے ہیں : ائمہ اہل اسلام کا طریق کار یہ ہے کہ مشروع چیز کو اہل بدعت رافضہ یا کسی بھی دوسرے کے افعال کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا۔تمام ائمہ کے ہاں مسلمہ اصول اس کے موافق ہیں ۔ ان ہی میں سے ایک تسطیح [سطح برابرکرنے ] کا مسئلہ بھی ہے جس کا رافضی مصنف نے ذکر کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امام ابو حنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ کا مذہب یہ ہے کہ قبر کو تھوڑا سا اونچا کیا جائے۔جیسا کہ صحیح روایات میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی سطح اونچی تھی۔[البخاری ۲؍۱۰۳؛ کتاب الجنائز ؛ باب ما جاء في قبر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم و ابی بکر وعمر رضی اللہ عنہما ۔ ] اس لیے کہ ایسا کرنا دنیاوی عمارتوں کی مشابہت سے بہت دور ہوتا ہے۔ اور قبروں پر بیٹھنے سے منع کرنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ قبروں کی سطح کو بالکل برابر کیا جائے۔ اس لیے کہ حدیث میں قبروں کو برابرکرنے کا حکم آیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ قبر کو زمین کو برابر کردیا جائے۔[المغني لابن قدامۃ ۲؍۴۲۰ ؛ أحکام الجنائز للشیخ محمد ناصر الدین الألباني ص ۱۵۳۔]پھر بعض نے کہا کہ : یہ رافضیوں کا شعار ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔ جب کہ دوسرے اہل علم حضرات نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا: ’’ ایسا کرتا ہی مستحب ہے ؛ بھلے رافضی اسے اپنا شعار بنالیں ۔‘‘

٭ ایسے ہی جہری بسم اللہ پڑھنا رافضیوں کا شعار ہے۔اسی وجہ سے اور دعائے قنوت کی بعض لوگوں نے امام شافعی رحمہ اللہ پر تنقید بھی کی ہے۔اور اسے قدریہ اور رافضہ کا عقیدہ و مسلک بتایا ہے۔اس لیے کہ عراق میں مشہورتھاکہ جہری بسم اللہ رافضیوں کاشعار ہے۔ یہاں تک کہ اما م سفیان ثوری اور دوسرے ائمہ کے عقیدہ میں جہری بسم اللہ کا ترک کرنا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے نزدیک یہ رافضیوں کا شعار تھا۔ جیسا کہ ان سے موزوں پر مسح کرنے کا ذکر نقل کیا جاتا ہے ‘ اس لیے کہ موزے پر مسح ترک کرنا رافضیوں کا شعار تھا۔ مگر اس کے باوجود جب امام شافعی رحمہ اللہ نے دیکھا کہ یہ سنت ہے ‘ تو آپ نے اسے اپنا مذہب بنالیا ۔ اگرچہ یہ رافضی عقیدہ کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔

٭ ایسے ہی اہل عراق کا عقیق سے احرام باندھنا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مستحب ہے؛اگرچہ رافضیوں کا بھی یہی مذہب ہے ۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں۔

٭ امام مالک رحمہ اللہ موزوں پر مسح کی روایت کو ضعیف سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ سے مشہور ہے کہ : حضر میں موزوں پر مسح نہ کیا جائے۔ بھلے یہ رافضیوں کے مذہب کے موافق کیوں نہ ہو۔ ایسے ہی امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ محرم محمل کے سایہ سے استفادہ نہیں کرسکتا۔ بھلے رافضی مذہب بھی اس کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔

٭ ایسے ہی امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک ہے کہ زمین کی جنس کے علاوہ کسی دوسری چیز پر سجدہ کرنامکروہ ہے۔ ایسے ہی رافضی بھی زمین کے علاوہ کسی دوسری چیز پرسجدہ کرنے سے منع کرتے ہیں ۔

صفحہ 4 از 5