فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی - ردِ رافضیت |…

فصل: ....امامیہ کی اتباع کے متعلق خوش فہمی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

٭ ایسے ہی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ حج تمتع کو مستحب اور افضل سمجھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ کے اور دوسرے ائمہ حدیث کے ہاں مستحب یہ ہے کہ : جس انسان نے حج قران یا افراد کا احرام باندھا ہو وہ اسے فسخ کر کے عمرہ سے بدل دے تاکہ اس کا حج حج تمتع ہوجائے۔ اس لیے کہ صحیح احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے ۔ سلمہ بن شبیب نے حضرت امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو عبداللہ ! آپ نے اہل خراسان کو حج تمتع کا فتوی دیکر رافضیوں کے دلوں کو مضبوط کردیا ؛ تو آپ نے فرمایا : اے سلمہ ! مجھے آپ کے بارے میں اطلاع ملا کرتی تھی کہ تم بیوقوف ہو؛ اور میں تمہارا دفاع کیا کرتا تھا ؛ اور اب میرے نزدیک بھی یہ ثابت ہوگیا کہ تم احمق ہو۔ میرے پاس اس مسئلہ میں گیارہ صحیح احادیث موجود ہیں ؛ تو کیا میں ان احادیث کو تمہاری باتوں کی وجہ سے چھوڑ دوں ۔‘‘

٭ ایسے ہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی بھی دوسرے ؛ جیسے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر درود پڑھنا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ کے کئی ساتھیوں سے بھی یہی نقل کیا گیاہے۔ اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: ’’ صلی اللہ علیک ۔‘‘آپ پراللہ کی رحمتیں ہوں ۔‘‘

آپ کے اکثر اصحاب نے یہی قول اختیار کیا ہے جیسا کہ قاضی ابو یعلی ؛ ابن عقیل‘ ابو محمد عبد القادر الجیلی ؛اور دیگر۔ جب کہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ اس سے منع کرتے تھے۔ امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب نے یہی مسلک اختیار کیا ہے ‘ اس لیے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے ‘ آپ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور پر درود پڑھنا مناسب نہیں ۔‘‘

شاید ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول اس وقت کا ہے جب شیعہ نے بطور خاص صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ پر درود پڑھنا شروع کردیا تھا۔ واللہ اعلم۔ وہ اس پر یوں عمل پیرا ہوگئے تھے گویا کہ انہیں حکم دیا گیا ہو کہ باقی لوگوں کوچھوڑ کر بطور خاص صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ پر درود پڑھا کریں ۔ ایسا کرنا بالاتفاق غلط ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر اپنی ذات سے اور اپنی آل سے کی ہے۔پس آپ کی اتباع میں آپ کی آل پر بھی درود پڑھاجائے گا۔

٭ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے نزدیک آل رسول وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ لینا حرام ہے۔

٭ امام أحمد اور امام مالک رحمہما اللہ کے کچھ اصحاب کا مسلک ہے کہ آل محمد سے مراد آپ کی امت ہے ۔

٭ صوفیاء کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ:اس سے مراد آپ کی امت کے اولیاء اورنیک لوگ ہیں ۔ اس میں تمام اہل ایمان و اہل تقوی شامل ہیں ۔ اس متعلق ایک ضعیف حدیث بھی روایت کی گئی ہے جوکہ اصل میں ثابت نہیں ہے۔

٭ کچھ احناف اور دوسرے لوگوں نے کہا ہے : جب انسان کسی ایسی قوم کے پاس ہو ‘ جو باقی تمام صحابہ کو چھوڑ کر بطور خاص صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ پر درود پڑھتے ہوں ‘ اورجب اس نے بھی صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ پر درود پڑھا ‘ اور یہ گمان پیدا ہوگیا کہ یہ بھی انہی لوگوں میں سے ہے ؛ تو ایسا کرنا مکروہ ہے تاکہ اس کے رافضی ہونے کا گمان تک پیدا نہ ہو۔ ہاں اگر یہ پتہ چل سکتا ہو کہ اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اوردوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بھی درود پڑھا ہے تو پھر ایسا کرنے میں کوئی حرج والی بات نہیں ۔

٭ تمام ائمہ کرام رحمہم اللہ یہی فرماتے ہیں کہ : اگر کسی مستحب فعل میں فساد کا پہلو راجح ہو تو پھر وہ مستحب نہیں رہتا۔ یہاں سے بعض ان فقہاء نے دلیل لی ہے جو بعض مستحبات کو اس وجہ سے ترک کردیتے ہیں کہ وہ کسی بدعتی فرقہ کے شعار کے طور پر مشہور ہیں ۔ [تاکہ اہل بدعت سے ان مشابہت نہ ہو]۔

لیکن ایسی کسی بات کوبنیاد بناکر کسی واجب کوہر گز ترک نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ کہا گیا ہے کہ اس کا اظہار کرنے میں رافضیوں سے مشابہت ہوتی ہے۔اورسنی اور رافضی میں کوئی تمیز باقی نہیں رہتی۔ اور ان سے امتیازیت کی مصلحت ان کی مخالفت اورقطع تعلقی پر مبنی ہے۔یہ مستحب کی مصلحت سے زیادہ بڑھ کر ہے۔

٭ اس مذہب کے مطابق بعض مواقع پر مستحب کو بجالانے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے بھلے میں اس میں روافض کے ساتھ اختلاف اور ان کی مشابہت لازم آتی ہو۔لیکن یہ ایک عارضی بات ہے ؛ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی ایسی چیز کو ہمیشہ کے لیے مشروع بنالیا جائے جو کہ اصل میں مشروع نہیں ہے۔ مثال کے طور پر: کفار کا شعار پہننا ۔ اگرکوئی چیز ان کا شعار نہ ہو تو اس کا پہننا مباح ہوتا ہے۔ مثلاً پیلا عمامہ پہننا جائز ہے اگر یہ یہود کا شعارنہ ہو۔اور اگر ان کا شعار ہو تو پھر اس کا پہننا منع ہے۔


صفحہ 5 از 5