فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر - ردِ رافضیت |…

فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاؤں کی انگلیوں پر چلتے رہے ۔ یہاں تک کہ جب آپ تھک گئے ؛ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی تھکاوٹ کو محسوس کرلیااور آپ کو اپنے کندھے پر اٹھالیا۔ یہاں تک کہ جب غار کے منہ پر پہنچ گئے تو آپ کو نیچے اتارا؛ اور عرض گزار ہوئے: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! آپ اس وقت تک غار میں داخل نہیں ہونگے جب تک میں غار میں داخل نہ ہوجاؤں ۔اگر غار میں کوئی موذی چیز ہوگی تو وہ آپ سے پہلے مجھے تکلیف دیگی۔ پھر آپ کو غار میں کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جس سے کوئی پریشانی کی توقع کی جاتی ہو؛ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھاکر غار میں داخل کیا۔ غار میں ایک چھوٹاسوراخ تھا جس میں سانپ تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایڑی وہاں پر رکھ دی ؛ سانپ آپ کی ایڑی کو ڈسنے لگے؛ یہاں تک کہ درد و تکلیف کی شدت سے آپ کے آنسو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں پر گرنے لگے۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ’’ اے ابوبکر غم نہ کر ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اطمینان اور سکون نازل کیا ۔‘‘یہ اس رات کا قصہ ہے۔

٭ جہاں تک آپ کے دن کا تعلق ہے تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو عرب مرتد ہوگئے۔ ان میں سے بعض کہنے لگے : ہم نماز تو پڑھیں گے مگر زکواۃ نہیں دیں گے۔اوربعض کہنے لگے: ہم زکوٰۃ تو دیں گے مگر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ کو نصیحت کروں ۔ میں نے عرض کی : اے خلیفہ رسول اللہ ! لوگوں کے ساتھ مہربانی کیجیے؛ اورنرمی سے پیش آئیے۔توآپ نے مجھے جواب دیا: کیا تم جاہلیت میں تو بڑے سخت تھے ‘ مگر اس میں خواری دیکھا رہے ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس چلے گئے اور وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اللہ کی قسم ! اگر لوگ مجھ سے ایک رسی بھی روکیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے ؛ تو میں اس پر بھی ان سے جنگ و قتال کروں گا۔‘‘

ہم نے آپ کے ساتھ مل کر جنگیں لڑیں ۔اللہ کی قسم ! آپ اس معاملہ میں رشد و ہدایت پر تھے۔یہ آپ کے دن کا قصہ ہے ۔‘‘پھر آپ نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر انہیں ملامت کی۔[الریاض النضرۃ لمحب الطبري ۱؍۱۰۵۔]

اگر یہ کہا جائے کہ : اس میں صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے جو کہ زندہ حکمران تھے۔تو کہا جائے گا کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوچکا تھا؛ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔

[دوسری بات]:....بیشک یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمعہ کے خطبہ میں خلفاء اربعہ کا تذکرہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے دور میں اس وقت شروع ہوا جب آپ نے دیکھا کہ بعض بنو امیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے ہیں ۔اس کی جگہ پر آپ نے خلفاء اربعہ کا تذکرہ اور ان سے رضامندی کے اظہار کا اعلان و اقرار شروع کیا۔ تاکہ اس بیہودہ طریقہ کا خاتمہ کیا جاسکے۔

[تیسری بات]:....رافضی نے جو کہا ہے کہ یہ کام منصور نے شروع کیا ؛ یہ ایک باطل اورغلط بات ہے۔اس لیے کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی ولایت بنو امیہ اور منصور سے بہت پہلے تھی۔اس میں منصور کے لیے کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ آل علی یا کسی اور کی ناک کو نیچا دیکھا سکتا۔یہ اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ جب بنی تیم یا بنی عدی کے کچھ لوگ بھی آل علی کی طرح خلافت کے طلبگار ہوتے ؛ مگر ان میں سے کوئی ایک بھی ان لوگوں سے اس معاملہ میں اختلاف کرنیوالا نہیں تھا۔

[چوتھی بات]:....اہل سنت والجماعت ہر گز یہ بات نہیں کہتے کہ خطبہ میں خلفاء اربعہ کا ذکر کرنا فرض ہے۔بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ : صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذکر پر اکتفا کرنایا پھر بارہ ائمہ کاذکر کرنا ایسی بدعت منکرہ ہے جس کا ارتکاب آج تک کسی نے نہیں کیا۔ نہ ہی صحابہ کرام نے اور نہ ہی تابعین نے ‘ نہ ہی بنی امیہ نے اورنہ ہی بنو عباس نے۔جیسا کہ اہل سنت والجماعت یہ بھی کہتے ہیں کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ یا سلف صالحین میں سے کسی دوسرے پر سب وشتم کرنا انتہائی بری بدعت ہے۔اگرخلفاء اربعہ کا ذکر کرنا بدعت ہے ‘ حالانکہ بہت سارے خلفاء ایسا کرتے رہے ہیں ؛ تو پھر صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اکتفاء کرنا ‘ حالانکہ اس سے پہلے امت میں سے کسی ایک نے بھی ایسے نہیں کیا ؛تو یہ بدعت ہونے کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔ اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امیر المؤمنین ہونے کی وجہ سے آپ کا ذکر کرنا مستحب ہے تو بھر خلفاء راشدین کا تذکرہ استحباب کا زیادہ حق دارہے۔ لیکن رافضی لوگ ناپ تول میں کمی کرنے والے ہیں ۔اہل سنت و الجماعت کی آنکھوں میں تنکا تو انہیں نظر آجاتا ہے ‘ مگر اعتراض کرنے والے کو اپنے اندر پورا تنا نظر نہیں آتا۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ : خلفاء ثلاثہ پر تمام مسلمانوں کو اتفاق ہوگیا تھا۔ان کے دو ر تلوار کفار پر آویزاں تھی اور مسلمانوں سے بہت دورتھی۔جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کا آپ کی بیعت پر اتفاق نہیں ہوسکا۔بلکہ اس عرصہ میں فتنہ برپا ہوا؛ اس عرصہ میں تلوار کفار سے دور اور مسلمانوں کے سروں پر آویزاں رہی۔پس اس صورت میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذکر پر اکتفا کرنا اور آپ سے پہلے کے ان خلفاء ثلاثہ کا ذکر کردینا جن پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہوگیا تھا؛ اور وہ اپنے دشمنوں پر کامیاب و منصور رہے تھے ؛ اور صرف اس امام کا ذکر کرنا جس کے دورمیں مسلمانوں میں افتراق پیدا ہوگیا اور دشمن ان کے علاقوں کو للچائی نظروں سے دیکھنے لگا ؛[یہ بو العجبی ہے]۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے مابین فتنہ و افتراق کے اس دور میں بلاد شام اور خراسان کے کفار بلاد مسلمین کو للچائی نظروں سے دیکھنے لگے ۔اس لیے کہ مسلمان آپس میں مشغول ہوگئے۔تو اب کیا باقی تمام خلفاء کا ذکر ترک کرکے صرف ایک ایسے خلیفہ کا ذکر کیا جائے جنہیں نہ تو پوری خلافت مل سکی اور نہ ہی مقصود خلافت حاصل ہوا۔

صفحہ 2 از 5